کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت مائدہ کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةُ الْمَائِدَةِ ، وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَحْمِلَهُ فَنَزَلَ عَنْهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت مائدہ نازل ہوئی آپ اس وقت اپنی سواری پر سوار تھے ، تو وہ سواری یہ استطاعت نہیں رکھ سکی کہ وہ آپ کا بوجھ برداشت کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اتر آئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے زیادہ تر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6643)»
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : إِنِّي لَآخِذَةٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ ، نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ نَزَلَتِ الْمَائِدَةُ كُلُّهَا ، فَكَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا تَدُقُّ عَضُدَ النَّاقَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء کی لگام پکڑی ہوئی تھی جب پوری سورت مائدہ نازل ہوئی تو اس کے بوجھ کی وجہ سے اونٹنی کا کندھا ٹوٹنے کے قریب تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10963
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (178/24) أخرجه احمد فى المسند (455/6)»
وَفِي رِوَايَةٍ : لَيَكْسِرُ النَّاقَةَ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اونٹنی ( کی ہڈیاں ) ٹوٹ جاتیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10964
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (458/6)»
وَعَنْ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : نَزَلَتِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا يَوْمَ عَرَفَةَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی : ” آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے سے راضی ہو گیا “ ۔ ( سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے اور یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ بن وجیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2207) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6916)»
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن قیس بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر سنا : انہوں نے اس آیت کو الگ کیا ” آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا “ ۔ انہوں نے یہ آیت مکمل تلاوت کی اور پھر یہ بات بیان کی : یہ آیت عرفہ کے دن ، جو جمعہ کا دن تھا ، نازل ہوئی پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” تو جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کی توقع رکھتا ہو اسے نیک عمل کرنے چاہیں ، اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (392/19)»