حدیث نمبر: 10966
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عمرو بن قیس بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر سنا : انہوں نے اس آیت کو الگ کیا ” آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا “ ۔ انہوں نے یہ آیت مکمل تلاوت کی اور پھر یہ بات بیان کی : یہ آیت عرفہ کے دن ، جو جمعہ کا دن تھا ، نازل ہوئی پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” تو جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کی توقع رکھتا ہو اسے نیک عمل کرنے چاہیں ، اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (392/19)»