کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ حَتَّى إِنِّي لَأَذْكُرُكَ ، فَلَوْلَا أَنِّي أَجِيءُ فَأَنْظُرُ إِلَيْكَ ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تَخْرُجُ ، فَأَذْكُرُ أَنِّي إِنْ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ صِرْتُ دُونَكَ فِي الْمَنْزِلَةِ ، فَيَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، وَأُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الدَّرَجَةِ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ - الْآيَةَ . فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَاهَا عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں یہاں تک کہ میں آپ کو یاد کرتا ہوں اور اگر میں آ کے آپ کو نہ دیکھوں تو مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے میری جان نکل جائے گی پھر مجھے یہ خیال آیا کہ اگر میں جنت میں داخل ہوا تو میر مرتبہ تو آپ کے مرتبے سے کم ہو گا ، تو یہ بات مجھ پر گراں گزری مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں آپ کے ساتھ ایک ہی درجہ میں ہوؤں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب ارشاد نہیں فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جن کا تعلق انبیاء سے ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوایا اور اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي [ وَإِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي ] ، وَإِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي ، وَإِنِّي لَأَكُونُ فِي الْبَيْتِ فَأَذْكُرُكَ فَمَا أَصْبِرُ حَتَّى آتِيَ فَأَنْظُرَ إِلَيْكَ ، وَإِذَا ذَكَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَكَ ، عَرَفْتُ أَنَّكَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِيِّينَ ، وَأَنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ خَشِيتُ أَنْ لَا أَرَاكَ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِهَذِهِ الْآيَةِ ( وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْعَابِدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے نزدیک میری جان سے زیادہ محبوب ہیں ، اور آپ میرے نزدیک میرے اہل خانہ اور میرے مال سے زیادہ محبوب ہیں آپ میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب ہیں میں گھر میں ہوتا ہوں پھر آپ کی یاد مجھے آتی ہے ، تو مجھے صبر نہیں آتا یہاں تک کہ میں آ کر آپ کی زیارت کر لیتا ہوں پھر مجھے یہ خیال آیا کہ میں بھی مر جاؤں گا اور آپ کا بھی انتقال ہو جائے گا یہ تو مجھے پتہ ہے کہ آپ جنت میں تشریف لے جائیں گے اور آپ کا مرتبہ انبیاء کے ساتھ بلند ہو گا اور جب میں جنت میں داخل ہوؤں گا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ پھر میں آپ کی زیارت نہیں کر سکوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے : ” اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام کیا جن کا تعلق انبیاء صدیقین شہد ، اور صالحین سے ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عمر ان عابدی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عمر ان عابدی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔