مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے “
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي [ وَإِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي ] ، وَإِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي ، وَإِنِّي لَأَكُونُ فِي الْبَيْتِ فَأَذْكُرُكَ فَمَا أَصْبِرُ حَتَّى آتِيَ فَأَنْظُرَ إِلَيْكَ ، وَإِذَا ذَكَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَكَ ، عَرَفْتُ أَنَّكَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِيِّينَ ، وَأَنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ خَشِيتُ أَنْ لَا أَرَاكَ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِهَذِهِ الْآيَةِ ( وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْعَابِدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے نزدیک میری جان سے زیادہ محبوب ہیں ، اور آپ میرے نزدیک میرے اہل خانہ اور میرے مال سے زیادہ محبوب ہیں آپ میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب ہیں میں گھر میں ہوتا ہوں پھر آپ کی یاد مجھے آتی ہے ، تو مجھے صبر نہیں آتا یہاں تک کہ میں آ کر آپ کی زیارت کر لیتا ہوں پھر مجھے یہ خیال آیا کہ میں بھی مر جاؤں گا اور آپ کا بھی انتقال ہو جائے گا یہ تو مجھے پتہ ہے کہ آپ جنت میں تشریف لے جائیں گے اور آپ کا مرتبہ انبیاء کے ساتھ بلند ہو گا اور جب میں جنت میں داخل ہوؤں گا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ پھر میں آپ کی زیارت نہیں کر سکوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے : ” اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام کیا جن کا تعلق انبیاء صدیقین شہد ، اور صالحین سے ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عمر ان عابدی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔