حدیث نمبر: 10936
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ حَتَّى إِنِّي لَأَذْكُرُكَ ، فَلَوْلَا أَنِّي أَجِيءُ فَأَنْظُرُ إِلَيْكَ ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تَخْرُجُ ، فَأَذْكُرُ أَنِّي إِنْ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ صِرْتُ دُونَكَ فِي الْمَنْزِلَةِ ، فَيَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، وَأُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الدَّرَجَةِ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ - الْآيَةَ . فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَاهَا عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں یہاں تک کہ میں آپ کو یاد کرتا ہوں اور اگر میں آ کے آپ کو نہ دیکھوں تو مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے میری جان نکل جائے گی پھر مجھے یہ خیال آیا کہ اگر میں جنت میں داخل ہوا تو میر مرتبہ تو آپ کے مرتبے سے کم ہو گا ، تو یہ بات مجھ پر گراں گزری مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں آپ کے ساتھ ایک ہی درجہ میں ہوؤں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب ارشاد نہیں فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جن کا تعلق انبیاء سے ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوایا اور اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10936
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12559)»