کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ پھر اس نے پریشانی کے بعد تم پر امان نازل کر دی “
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا قَالَ : أُلْقِيَ عَلَيْنَا النُّعَاسُ يَوْمَ أُحُدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالٰی ہے : ) ” پھر اس نے پریشانی کے بعد تم پر اونگھ کی شکل میں امان نازل کر دی “ ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ہم پر اونگھ طاری کر دی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : النُّعَاسُ أَمَنَةً - عِنْدَ الْقِتَالِ - مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالنُّعَاسُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنگ کے وقت جو اونگھ آئے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی امان ہوتی ہے اور نماز کے دوران آنے والی اونگھ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔