حدیث نمبر: 10904
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ الدُّنْيَا حَتَّى نَزَلَتْ فِينَا يَوْمَ أُحُدٍ : مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - تَقَدَّمَ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ - وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پہلے میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی شخص دنیا بھی چاہتا ہو گا یہاں تک کہ غزوہ اُحد کے موقع پر ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” تم میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جو دنیا چاہتے ہیں ، اور کچھ وہ لوگ ہیں جو آخرت چاہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو اس سے پہلے غزوۂ احد سے متعلق باب میں گزر چکی ہے امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10904
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1421)»