مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ پھر اس نے پریشانی کے بعد تم پر امان نازل کر دی “
حدیث نمبر: 10906
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : النُّعَاسُ أَمَنَةً - عِنْدَ الْقِتَالِ - مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالنُّعَاسُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنگ کے وقت جو اونگھ آئے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی امان ہوتی ہے اور نماز کے دوران آنے والی اونگھ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔