کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے “
❮
❯
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ . قَالَ : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَّهِمَهُ أَصْحَابُهُ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے ساتھی اس پر تہمت عائد کریں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2198 و 2197)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشًا فَرُدَّتْ رَايَتُهُ ، ثُمَّ بَعَثَ فَرُدَّتْ ، ثُمَّ بَعَثَ فَرُدَّتْ بِغُلُولِ رَأْسِ غَزَالٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَنَزَلَتْ : وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا وہ واپس آ گیا پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا وہ واپس آ گیا پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا ، اور وہ واپس آئے ، تو انہوں نے سونے سے بنا ہوا ، ہرن کے بچے کے سر کی خیانت کی تھی ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10908
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (12684)»