کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے “
حدیث نمبر: 10907
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ . قَالَ : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَّهِمَهُ أَصْحَابُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے ساتھی اس پر تہمت عائد کریں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10908
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشًا فَرُدَّتْ رَايَتُهُ ، ثُمَّ بَعَثَ فَرُدَّتْ ، ثُمَّ بَعَثَ فَرُدَّتْ بِغُلُولِ رَأْسِ غَزَالٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَنَزَلَتْ : وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا وہ واپس آ گیا پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا وہ واپس آ گیا پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا ، اور وہ واپس آئے ، تو انہوں نے سونے سے بنا ہوا ، ہرن کے بچے کے سر کی خیانت کی تھی ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔