کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ کی ذات وہ ہے اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے وہ حی اور قیوم ہے “
عَنْ أُبَيٍّ - يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ : " أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْظَمُ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَرَدَّدَهَا مِرَارًا ، ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ : آيَةُ الْكُرْسِيِّ . فَقَالَ : " لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ، وَتُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا اللہ کی کتاب میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند مرتبہ یہ سوال دہرایا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آیت الکرسی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوالمنذر تمہیں اس بات کا علم مبارک ہو ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں جن کے ذریعے یہ عرش کے پائے کے پاس پروردگار کی پاکی بیان کرتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10872
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (141/5)»
وَعَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ النَّاسَ حَتَّى يُكْثِرَ ، فَيَصْعَدُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَيُحَدِّثُ النَّاسَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ ؟ " . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ . قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ . أَوْ قَالَ مَوْضِعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرَدَهَا بَيْنَ كَتِفَيَّ . قَالَ : " يَهْنِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلیل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے بکثرت احادیث بیان کیں ، پھر وہ گھر کی چھت پر چڑھ گئے اور لوگوں کو حدیث بیان کرنے لگے ، انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ تو ایک صاحب نے عرض کی : «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» یعنی آیت الکرسی ، وہ صاحب کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ، یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے کے درمیان میں رکھا ، یہاں تک کہ اپنے کندھوں کے درمیان میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوالمنذر ! تمہیں مبارک ہو ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (58/5)»
وَعَنِ الْأَسْقَعِ الْبَكْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَهُمْ فِي صُفَّةِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ : أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ " . حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسقع بکری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کے چبوترے پر ان لوگوں کے پاس آئے ، ایک شخص نے آپ سے سوال کیا : قرآن میں موجود کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ» ، اللہ کی ذات وہ ہے جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور وہ زندہ ہے ، اور بذات خود قائم ہے ، اسے نہ اونگھ آتی ہے ، اور نہ نیند آتی ہے ، یہاں تک کہ آپ نے یہ پوری آیت تلاوت کی ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (999)»
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ الشَّيْطَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : بَلَغَنِي أَنَّكَ أَخَذْتَ الشَّيْطَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : نَعَمْ ، ضَمَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرَ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلْتُهُ فِي غُرْفَةٍ لِي ، فَكُنْتُ أَجِدُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ نُقْصَانًا ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " هُوَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ فَارْصُدْهُ " . ¤ قَالَ : فَرَصَدْتُهُ لَيْلًا ، فَلَمَّا ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ ، أَقْبَلَ عَلَى صُورَةِ الْفِيلِ ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ دَخَلَ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ عَلَى غَيْرِ صُورَتِهِ ، فَدَنَا مِنَ التَّمْرِ فَجَعَلَ يَلْتَقِمُهُ ، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَتَوَسَّطْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، وَثَبْتَ إِلَى تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتَهُ ، وَكَانُوا أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ ، لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَفْضَحُكَ . فَعَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ . ¤ فَغَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : عَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ . قَالَ : " إِنَّهُ عَائِدٌ فَارْصُدْهُ " . فَرَصَدْتُهُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَصَنَعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَعَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ . ¤ ثُمَّ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُخْبِرَهُ ، فَإِذَا مُنَادِيهِ يُنَادِي : " أَيْنَ مُعَاذٌ ؟ " . فَقَالَ لِي : " يَا مُعَاذُ ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ " . فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي : " إِنَّهُ عَائِدٌ فَارْصُدْهُ " . ¤ فَرَصَدْتُهُ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَصَنَعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، عَاهَدْتَنِي مَرَّتَيْنِ وَهَذِهِ الثَّالِثَةُ ، لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَفْضَحُكَ . ¤ فَقَالَ : إِنِّي شَيْطَانٌ ذُو عِيَالٍ ، وَمَا أَتَيْتُكَ إِلَّا مِنْ نَصِيبِينَ ، وَلَوْ أَصَبْتُ شَيْئًا دُونَهُ مَا أَتَيْتُكَ ، وَلَقَدْ كُنَّا فِي مَدِينَتِكُمْ هَذِهِ حَتَّى بُعِثَ صَاحِبُكُمْ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَتَانِ أَنْفَرَتْنَا مِنْهَا ، فَوَقَعْنَا بِنَصِيبِينَ ، وَلَا يُقْرَآنِ فِي بَيْتٍ إِلَّا لَمْ يَلِجْ فِيهِ الشَّيْطَانُ ثَلَاثًا ، فَإِنْ خَلَّيْتَ سَبِيلِي عَلَّمْتُكَهُمَا ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : آيَةُ الْكُرْسِيِّ ، وَخَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ : آمَنَ الرَّسُولُ ، إِلَى آخِرِهَا . ¤ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ ثُمَّ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُخْبِرَهُ ، فَإِذَا مُنَادِيهِ يُنَادِي : " أَيْنَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ؟ " . فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ ، قَالَ لِي : " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ " . قُلْتُ : عَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ الْخَبِيثُ وَهُوَ كَذُوبٌ " . قَالَ : فَكُنْتُ أَقْرَؤُهُمَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا أَجِدُ فِيهِ نُقْصَانًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ وَهُوَ صَدُوقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ كَمَا قَالَ الذَّهَبِيُّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے شیطان کو پکڑ لیا تھا میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آیا میں نے دریافت کیا مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں شیطان کو پکڑ لیا تھا انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی کھجوریں میرے حوالے کیں میں نے انہیں اپنے گودام میں رکھ لیا میں نے دیکھا کہ ان میں روزانہ کمی ہونے لگی ہے میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : یہ شیطان کا کام ہے تم اس کی گھات میں رہنا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رات کے وقت میں اس کی گھات میں رہا جب رات کا ایک حصہ گزر گیا تو وہ ہاتھی کی شکل میں آیا جب وہ دروازے کے پاس پہنچا تو اپنی شکل تبدیل کر کے دروازے میں موجود درز سے اندر داخل ہو گیا وہ کھجوروں کے قریب ہوا اور انہیں ڈالنے لگا میں نے اسے اپنے کپڑے کے ذریعے باندھ دیا اور میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تم صدقہ کی کھجوروں کے پاس آئے انہیں لے رہے ہو حالانکہ لوگ ان کے بارے میں تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں میں تمہیں ضرور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کروں گا اور وہ تمہیں رسوائی کا شکار کریں گے ، تو اس نے مجھ سے یہ عہد کیا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اگلے دن حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : اس نے مجھ سے یہ طے کیا ہے کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ دوبارہ ایسا کرے گا ۔ تم اس کی گھات میں رہنا دوسری رات میں اس کی گھات میں رہا پھر اس نے ایسا ہی کیا ، اور میں نے بھی ویسا ہی کیا تو پھر اس نے میرے ساتھ یہ عہد کیا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا ، تو میں نے اسے چھوڑ دیا پھر اگلے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ کو اس بارے میں بتاؤں تو وہاں ایک شخص یہ اعلان کر رہا تھا معاذ کہاں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے معاذ تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ پھر آئے گا ۔ تم اس کی گھات میں رہنا میں تیسری رات اس کی گھات میں رہا اس نے پھر ویسا ہی کیا میں نے بھی ویسا ہی کیا میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن تم نے دو مرتبہ مجھ سے پہلے عہد کیا تھا اور اب یہ تیسری مرتبہ ہے اب میں تمہیں ضرور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا اور وہ تمہیں رسوائی کا شکار کریں گے اس نے کہا: میں ایک ایسا شیطان ہوں جو بال بچے دار ہے ، اور میں نصیبین سے تمہارے پاس آیا ہوں ، اگر اس سے پہلے مجھے کوئی چیز مل جاتی تو میں تمہارے پاس نہ آتا پہلے ہم لوگ تمہارے اس شہر میں ہوتے تھے یہاں تک کہ تمہارے آقا کو مبعوث کیا گیا اور جب ان پر دو آیات نازل ہوئیں تو ان دونوں آیات نے ہمیں یہاں سے جلا وطن کر دیا ۔ اور ہم نصیبین چلے گئے یہ دونوں آیات جس بھی گھر میں پڑھی جائیں گی شیطان تین دن تک اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اگر تم میرا راستہ چھوڑ دیتے ہو ، تو میں تمہیں ان دو آیات کی تعلیم دے دیتا ہوں میں نے کہا: ٹھیک ہے اس نے کہا: ایک آیت الکرسی ہے ، اور دوسری سورت بقرہ کی آخری آیات ہیں جو آمن الرسول سے لے کر سورت کے آخر تک ہیں ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اسے چھوڑ دیا اگلے دن میں صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ میں آپ کو اس بارے میں بتاؤں تو وہاں ایک منادی یہ اعلان کر رہا تھا کہ معاذ بن جبل کہاں ہے ؟ جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا تمہارے قیدی کا کیا حال ہے ؟ میں نے عرض کی : اس نے مجھ سے یہ عہد کیا ہے کہ اب وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا اور پھر اس نے جو بات بیان کی تھی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس خبیث نے سچ کہا: ہے ویسے وہ جھوٹا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس کے بعد میں ان دونوں آیات کی تلاوت کر لیتا ہوں اور پھر مجھے کبھی ان کھجوروں میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ انشاءاللہ صدوق ہو گا جیسا کہ امام ذہبی نے یہ بات بیان کی ہے ابن ابوحاتم کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10875
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (51/20)»
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ الْخَزْرَجِيِّ - وَلَهُ بِئْرٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهَا : بِئْرُ بُضَاعَةَ قَدْ بَصَقَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهِيَ يُبَشَّرُ بِهَا وَيُتَيَمَّنُ بِهَا - قَالَ : فَلَمَّا قَطَعَ أَبُو أُسِيدٍ تَمْرَ حَائِطِهِ جَعَلَهُ فِي غُرْفَةٍ ، فَكَانَتِ الْغُولُ تُخَالِفُهُ إِلَى مَشْرُبَتِهِ فَتَسْرِقُ تَمْرَهُ وَتُفْسِدُهُ عَلَيْهِ ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تِلْكَ الْغُولُ يَاأَبَا أُسَيْدٍ ، فَاسْتَمِعْ عَلَيْهَا ، فَإِذَا سَمِعْتَ اقْتِحَامَهَا فَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ ، أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَتِ الْغُولُ : يَا أَبَا أُسَيْدٍ ، أَعْفِنِي أَنْ تُكَلِّفَنِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُعْطِيكَ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا أُخَالِفَكَ إِلَى بَيْتِكَ ، وَلَا أَسْرِقَ تَمْرَكَ ، وَأَدُلَّكَ عَلَى آيَةٍ تَقْرَؤُهَا فِي بَيْتِكَ فَلَا تُخَالَفُ إِلَى أَهْلِكَ ، وَتَقْرَؤُهَا عَلَى إِنَائِكَ فَلَا نَكْشِفُ غِطَاءَهُ . فَأَعْطَتْهُ الْمَوْثِقَ الَّذِي رَضِيَ بِهِ مِنْهَا ، فَقَالَتْ : الْآيَةُ الَّتِي أَدُلُّكَ عَلَيْهَا هِيَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ . ثُمَّ حَكَّتْ اسْتَهَا تَضْرِطُ . ¤ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ حَيْثُ وَلَّتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَتْ وَهَى كَذُوبٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا كُلُّهُمْ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
مالک بن حمزہ بن ابواسید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا ابواسید ساعدی خزرجی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں مدینہ منورہ میں ان کا ایک کنواں تھا ، جس کا نام بئر بضاعہ تھا اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ڈالا تھا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کے حوالے سے خوشخبری حاصل کرتے تھے اور اس سے برکت حاصل کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابواسید نے اپنے باغ کی کھجوریں اتار لیں تو انہیں ایک گودام میں رکھ دیا تو غول ( یعنی ایک ہوائی چیز ) ان کے گودام میں آ جاتی تھی اور کھجوریں چوری کر لیتی تھی اور انہیں خراب کر رہی تھی انہوں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابواسید وہ غول ہے تم اس کی آہٹ غور سے سننا جب تم اس کے آنے کے بارے میں سنو تو تم یہ پڑھنا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، تم اللہ کے رسول کی بات کا جواب دو ( انہوں نے ایسا ہی کیا ) تو اس غول نے یہ کہا: اے ابواسید تم مجھے اس چیز سے معاف رکھو کہ تم مجھے اس تکلیف کا شکار کرو کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں میں تمہیں اللہ کے نام پر یہ عہد دیتی ہوں کہ اب دوبارہ تمہارے گھر میں نہیں آؤں گی اور تمہاری کھجوروں کو چوری نہیں کروں گی اور میں ایک آیت کے بارے میں تمہاری رہنمائی کرتی ہوں کہ تم انہیں اپنے گھر میں وہ پڑھ لیا کرو تو ہم ( شیاطین ) تمہارے اہل خانہ کے پاس نہیں آئیں گے اگر تم اسے اپنے برتن پر پڑھ لو گے ، تو ہم اس ڈھانپے ہوئے برتن کو کھول نہیں سکیں گے پھر اس غول نے ان صحابی کے ساتھ یہ عہد کیا جس سے وہ راضی ہو گئے اس غول نے بتایا کہ وہ آیت جس کے بارے میں ، میں نے تمہاری رہنمائی کرنی تھی وہ آیت الکرسی ہے ، اور پھر اس کی پچھلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہونے کی آواز آئی جب وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ویسے تو وہ جھوٹی ہے لیکن اس نے یہ بات سچ بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں سے بعض راوی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : جَلَسَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي مَسْجِدِ الْأَعْظَمِ فَرَآهُمَا النَّاسُ فَتَحَوَّلُوا إِلَيْهِمَا ، فَقَالَ شُتَيْرٌ لِمَسْرُوقٍ : إِنَّمَا تَحَوَّلَ هَؤُلَاءِ إِلَيْنَا لِنُحَدِّثَهُمْ ، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ وَأُصَدِّقَكَ ، وَإِمَّا أَنَّ أُحَدِّثَ وَتُصَدِّقَنِي ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : حَدِّثْ وَأُصَدِّقُكَ ، فَقَالَ شُتَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنْ أَعْظَمَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ : اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . فَقَالَ مَسْرُوقٌ : صَدَقْتَ . ¤ قُلْتُ : وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي سُورَةِ الطَّلَاقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مسروق اور شتیر بن شکل بڑی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، لوگوں نے انہیں دیکھا ، تو اٹھ کر ان کی طرف آ گئے ، شتیر نے مسروق سے کہا : یہ لوگ اٹھ کر ہماری طرف اس لئے آئے ہیں تاکہ ہم ان کے سامنے کوئی حدیث بیان کریں ، یا تو آپ بیان کر دیں میں آپ کی بات کی تصدیق کروں گا یا پھر میں بیان کر دیتا ہوں اور آپ میری بات کی تصدیق کر دیں ، تو مسروق نے کہا : آپ بیان کر دیں میں آپ کی بات کی تصدیق کر دوں گا ، تو شتیر نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : اللہ کی کتاب میں موجود سب سے عظیم آیت «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» ہے ، اور یہ آیت کے آخر تک ہے ، مسروق نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت سورت طلاق میں آئے گی ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10877
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8659)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَالَ : مَوْضِعُ الْقَدَمَيْنِ ، وَلَا يُقَدِّرُ قَدْرَ عَرْشِهِ إِلَّا اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد پاؤں رکھنے کی جگہ ہے اس کے عرش کی مقدار کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10878
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12404)»