حدیث نمبر: 10873
وَعَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ النَّاسَ حَتَّى يُكْثِرَ ، فَيَصْعَدُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَيُحَدِّثُ النَّاسَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ ؟ " . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ . قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ . أَوْ قَالَ مَوْضِعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرَدَهَا بَيْنَ كَتِفَيَّ . قَالَ : " يَهْنِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوسلیل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے بکثرت احادیث بیان کیں ، پھر وہ گھر کی چھت پر چڑھ گئے اور لوگوں کو حدیث بیان کرنے لگے ، انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ تو ایک صاحب نے عرض کی : «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» یعنی آیت الکرسی ، وہ صاحب کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ، یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے کے درمیان میں رکھا ، یہاں تک کہ اپنے کندھوں کے درمیان میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوالمنذر ! تمہیں مبارک ہو ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (58/5)»