کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ نمازوں کی حفاظت کرو ! درمیانی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ قیام کرو “
عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِي عَهْدِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَاسْتَكْتَبَتْنِي حَفْصَةُ مُصْحَفًا ، وَقَالَتْ : إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَا تَكْتُبْهَا حَتَّى تَأْتِيَنِي بِهَا فَأُمْلِهَا عَلَيْكَ كَمَا حَفِظْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قَالَ : فَلَمَّا بَلَغْتُهَا جِئْتُهَا بِالْوَرَقَةِ الَّتِي أَكْتُبُهَا فِيهَا ، فَقَالَتْ : اكْتُبْ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن رافع ، جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے زمانے میں وہ قرآن مجید لکھا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے قرآن مجید لکھوایا اور یہ بات ارشاد فرمائی کہ جب تم سورت بقرہ کی اس آیت پر پہنچو تو اسے اس وقت تک تحریر نہ کرنا جب تک پہلے میرے پاس تحریر نہیں لے آتے ، میں وہ تمہیں املاء کرواؤں گی جس طرح میں نے یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر یاد رکھی ہے راوی بیان کرتے ہیں : جب میں اس مخصوص مقام پر پہنچا تو میں وہ ورقہ لے کر آیا جس میں ، میں نے وہ آیت تحریر کرنی تھی ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم یہ لکھو : ” نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیان نماز کی ( جس سے مراد ) عصر کی نماز ہے ، اور تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ فَهُوَ الطَّاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ ، وَفِي رِجَالِ الْأَوْسَطِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن میں جس بھی مقام پر قنوت کا ذکر ہو گا اس سے مراد فرمانبرداری ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کی اسناد میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو ضعیف ہے لیکن اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے معجم اوسط کے رجال میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کی اسناد میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو ضعیف ہے لیکن اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے معجم اوسط کے رجال میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَ : كَانُوا يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ ، يَجِيءُ خَادِمُ الرَّجُلِ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيُكَلِّمُهُ بَحَاجَتِهِ ، فَنُهُوا عَنِ الْكَلَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ نماز کے دوران بات چیت کر لیا کرتے تھے کسی شخص کا خادم اس شخص کے پاس آتا تھا وہ شخص اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتا تھا ، تو وہ اس خادم کے ساتھ اپنے کسی کام کے سلسلے میں بات چیت کر لیتا تھا ، تو لوگوں کو ( نماز کے دوران ) کلام کرنے سے منع کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔