مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ نمازوں کی حفاظت کرو ! درمیانی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ قیام کرو “
حدیث نمبر: 10868
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ فَهُوَ الطَّاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ ، وَفِي رِجَالِ الْأَوْسَطِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن میں جس بھی مقام پر قنوت کا ذکر ہو گا اس سے مراد فرمانبرداری ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کی اسناد میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو ضعیف ہے لیکن اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے معجم اوسط کے رجال میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔