حدیث نمبر: 10869
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَ : كَانُوا يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ ، يَجِيءُ خَادِمُ الرَّجُلِ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيُكَلِّمُهُ بَحَاجَتِهِ ، فَنُهُوا عَنِ الْكَلَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ نماز کے دوران بات چیت کر لیا کرتے تھے کسی شخص کا خادم اس شخص کے پاس آتا تھا وہ شخص اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتا تھا ، تو وہ اس خادم کے ساتھ اپنے کسی کام کے سلسلے میں بات چیت کر لیتا تھا ، تو لوگوں کو ( نماز کے دوران ) کلام کرنے سے منع کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10869
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11776)»