کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حرمت والے مہینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10794
عَنْ عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ سَمِيرُ بْنُ زُهَيْرٍ الْجِسْرِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَخِي سَلَمَةَ بْنَ زُهَيْرٍ خَرَجَ يُهَاجِرُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَلَقِيَهُ رِعَاءُ رِكَابِكَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَقَتَلُوهُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، وَقَدْ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ دَمٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . ¤ فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالُوا : وَجَدْنَاهُ يَسُوقُ رِكَابَكَ ، فَأَرَدْنَا أَخْذَهُ فَامْتَنَعَ مِنَّا ، فَقَتَلْنَاهُ ، فَلَا أَدْرِي : هَلْ حَلَّفَهُمْ أَوْ صَدَّقَهُمْ ؟ . ¤ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ سَأَلَهُ عَنْ إِسْلَامِ أَخِيهِ فَلَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً ، فَعَقَلَ لَهُ حُرْمَةَ الشَّهْرِ خَمْسِينَ مِنَ الْإِبِلِ . قَالَ : فَبَقِيَّةُ الْإِبِلِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ نَعَمٍ وَأَعْظَمُهُ بَرَكَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عائذ بن سعید بیان کرتے ہیں : سیدنا سمیر بن زہیر جسری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا بھائی سلمہ بن زہیر ، اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلا تھا بنو غفار سے تعلق رکھنے والے آپ کی سواریوں کے چرواہے اس سے ملے اور انہوں نے حرمت والے مہینے میں اس کو قتل کر دیا کیونکہ ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے قتل کا مقدمہ چلا آ رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس شخص کو پایا تھا کہ وہ آپ کی سواریوں کو ہانک کر لے جا رہا تھا ہم نے اسے پکڑنا چاہا وہ ہمارے ق ابومیں نہیں آیا ، تو ہم نے اسے قتل کر دیا راوی بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حلف لیا تھا یا ویسے ہی ان کی بات کو سچ سمجھ لیا البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب سے ان کے بھائی کے اسلام کے بارے میں دریافت کیا ، اور اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت والے مہینے کی حرمت کے حوالے سے انہیں پچاس اونٹ دیت کے طور پر دیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ اونٹ ان کے گھر میں موجود تمام اونٹوں سے زیادہ فضیلت رکھتے تھے اور زیادہ برکت والے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10794
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (22/18)»