حدیث نمبر: 10791
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : كَتَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عَقُولَةً ، ثُمَّ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ : عَقْلُ الْأَخِ دُونَ الْوَلَدِ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک بطن ( یعنی قبیلے کی ذیلی شاخ ) پر دیت کی ادائیگی لازم قرار دی تھی پھر آپ نے یہ طے کیا کہ یہ بات حلال نہیں ہے کہ کسی شخص کا آزاد کردہ غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے ابوملیح کے حوالے سے ان کے والد سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ، اور اس میں یہ بات مذکور ہے کہ ( عورت کی طرف سے ) دیت بھائی ادا کرے گا بیٹا ادا نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے ابوملیح کے حوالے سے ان کے والد سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ، اور اس میں یہ بات مذکور ہے کہ ( عورت کی طرف سے ) دیت بھائی ادا کرے گا بیٹا ادا نہیں کرے گا ۔
حدیث نمبر: 10792
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلُّ بَنِي أُنْثَى فَإِنَّ عَصَبَتَهُمْ لِأَبِيهِمْ ، مَا خَلَا بَنِي فَاطِمَةَ ; فَإِنِّي أَنَا عَصَبَتُهُمْ ، وَأَنَا أَبُوهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْمَنَاقِبِ ، وَحَدِيثٌ آخَرُ فِي الْفَرَائِضِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر عورت کے بیٹوں کا عصبہ ان کے باپ کی طرف سے ہو گا صرف فاطمہ کے بیٹوں کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میں ان کا عصبہ ہوں اور میں ان کا باپ ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن مہران ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ اس کا ایک طریق مناقب سے متعلق باب میں آئے گا اور ایک اور حدیث فرائض سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن مہران ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ اس کا ایک طریق مناقب سے متعلق باب میں آئے گا اور ایک اور حدیث فرائض سے متعلق باب میں آئے گی ۔
حدیث نمبر: 10793
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَجْعَلُوا عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْ قَوْلِ مُعْتَرِفٍ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اعتراف کرنے والے شخص کے قول کے حوالے سے تم عاقلہ پر کوئی ادائیگی لازم قرار نہ دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔