حدیث نمبر: 10769
عَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِي الْأَنْفِ إِذَا اسْتَوْعَبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ عَشْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب ناک کو مکمل طور پر کاٹ دیا جائے ، تو اس میں پوری دیت کی ادائیگی لازم ہو گی آنکھ میں پچاس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی ہاتھ میں پچاس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی ٹانگ ( یا پاؤں ) میں پچاس کی ادائیگی لازم ہو گی جائفہ زخم میں جان کی دیت کا ایک تہائی حصہ لازم ہو گا منقلہ زخم میں پندرہ کی ادائیگی لازم ہو گی موضحہ میں پانچ کی ادائیگی لازم ہو گی دانت میں پانچ کی ادائیگی لازم ہو گی ہر ایک انگلی میں دس دس کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10770
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى فِي دِيَةِ الْعُظْمَى الْمُغَلَّظَةِ بِثَلَاثِينَ حِقَّةً ، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً ، وَعِشْرِينَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَعِشْرِينَ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ تیس حقہ تیس جذعہ بیس بنت لبون اور بیس بنو لبون مذکر کی ادائیگی کی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحییٰ نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحییٰ نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10771
وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ : وَقَضَى - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دِيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ ثَلَاثِينَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَثَلَاثِينَ حِقَّةً ، وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً . وَقَضَى فِي الدِّيَةِ الصُّغْرَى ثَلَاثِينَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَثَلَاثِينَ حِقَّةً ، وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ ، وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ . ¤ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ ، فَقَوَّمَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِبِلَ الدِّيَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابُ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ . ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ . ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ . ¤ قَالَ : فَزَادَ ثُلُثُ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، وَثُلُثًا آخَرَ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ . قَالَ : فَتَمَّتِ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا . قَالَ : فَكَانَ يُقَالُ : يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مِنْ مَاشِيَتِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ ، وَلَا الذَّهَبَ ، وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَا لَهُمْ فِي الْعَدْلُ فِي أَمْوَالِهِمْ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ عَلَى أَبِيهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي الْأَحْكَامِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ تیس بنت لبون تیس حقہ اور چالیس خلفہ ادا کیے جائیں گے ۔ جب کہ چھوٹی دیت میں انہوں نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ تیس بنت لبون تیس حقہ بیس بنت مخاض اور بیس بنو مخاض مذکر ادا کیے جائیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں اور درہموں کی قیمتیں کم ہو گئیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اونٹ کی دیت کو چھ ہزار درہم کے برابر قرار دیا جس میں ہر ایک اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ کا حساب بنتا تھا ۔ پھر اونٹوں کی قیمت زیادہ ہو گئی اور چاندی کی قیمت کم ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دو ہزار درہم کا اضافہ کر دیا جو ہر اونٹ کے لئے دو اوقیہ کا حساب بنتا ہے پھر اونٹوں کی قیمتیں اور زیادہ ہو گئیں اور درہم کی قیمت کم ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل بارہ ہزار کر دیا جس میں ہر اونٹ کی قیمت تین اوقیہ بنتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حرمت والے مہینے میں ایک تہائی دیت اضافی ہو گی اور بلد حرام ( حرمت والے شہر ) میں مزید ایک تہائی زیادہ ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : حرمین کی دیت مکمل بیس ہزار ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ دیہاتی علاقوں کے لوگوں سے ان کے جانور وصول کیے جائیں گے ان کو چاندی یا سونے ( درہم یا دینار ) کی شکل میں ادائیگی کا پابند نہیں کیا جائے گا اور ہر قوم سے انصاف کے مطابق ان کے مخصوص مال میں سے وصولی کی جائے گی ۔
یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اضافی روایات نقل کی ہیں ، اور یہ ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو کتاب الاحکام میں پہلے گزر چکی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اضافی روایات نقل کی ہیں ، اور یہ ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو کتاب الاحکام میں پہلے گزر چکی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 10772
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كَانَتِ الدِّيَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ : أَرْبَعَةُ أَسْنَانٍ ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ . ¤ حَتَّى كَانَ عُمَرُ وَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُونَ الْإِبِلَ ، فَتُقَوَّمُ الْإِبِلُ أُوقِيَّةً أُوقِيَّةً أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ . ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ عُمَرُ : قَوِّمُوا الْإِبِلَ أُوقِيَّةً وَنِصْفًا ، فَكَانَتْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ . ¤ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ عُمَرُ : قَوِّمُوا الْإِبِلَ فَقُوِّمَتْ ثَلَاثَ أَوَاقٍ ، فَكَانَتِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، فَجَعَلَ عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَعَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ كُلُّ حُلَّةٍ خَمْسَةُ دَنَانِيرَ ، وَعَلَى أَهْلِ الضَّأْنِ أَلْفَ ضَائِنَةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَعِزِ أَلْفَيْ مَاعِزَةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دیت ایک سو اونٹ ہوتی تھی جو چار مختلف قسموں کی عمروں کے ہوتے تھے پچیس حقہ ہوتے تھے پچیس جذعہ ہوتے تھے پچیس بنت مخاض ہوتی تھیں اور پچیس بنت لبون ہوتی تھیں ۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آ گیا اور سلطنت پھیل گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سب کے پاس اونٹ نہیں ہوتے ہیں تو ایک اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ مقرر کی گئی اور اس اعتبار سے دیت چار ہزار درہم قرار پائی ۔ پھر اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اونٹ کی قیمت کا تعین کرو اور وہ ڈیڑھ اوقیہ کرو تو اس اعتبار سے قیمت چھ ہزار درہم ہو گئی ، پھر اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اونٹوں کی قیمت کا تعین کرو تو ان کی قیمت تین اوقیہ مقرر کی گئی تو دیت بارہ ہزار درہم ہو گئی تو چاندی والوں پر بارہ ہزار کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اونٹ والوں پر ایک سو اونٹوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور سونے کی شکل میں ادائیگی کرنے والوں پر ایک ہزار دینار کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور کپڑا تیار کرنے والوں پر دو سو حلوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی جن میں سے ہر ایک حلہ پانچ دینار کا ہو اور بھیڑ والوں پر ایک ہزار بھیڑوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور گائے والوں پر دو سو گائیوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 10773
وَعَنْ الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ عَلَى الْمَغَانِمِ ، فَأَصَابَ رَجُلًا بِقَوْسِهِ فَشَجَّهُ مُنَقِّلَةً ، فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیمان شفاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو مال غنیمت کا عامل مقرر کیا انہوں نے ایک شخص کو کمان ماری اور اسے منقلہ زخم لگا دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پندرہ حصوں کی ادائیگی لازم قرار دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10774
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : لَمْ يَقْضِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ثَلَاثَ قَضِيَّاتٍ فِي الْآمَّةِ ، وَالْمُنَقِّلَةِ ، وَالْمُوضِحَةِ : فِي الْآمَّةِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسًا . ¤ وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین فیصلے دیے ہیں آمہ نامی زخم منقلہ نامی زخم اور موضحہ نامی زخم آمہ زخم میں تینتیس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی منقلہ میں پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی اور موضحہ میں پانچ کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کی آنکھ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ جانور کی قیمت کا ایک چوتھائی حصہ ادا کرنا لازم ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10775
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا ، وَفِي الْيَدِ بِخَمْسِينَ فَرِيضَةً . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ " الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ " فَقَطْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں میں دس دس اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے اور ہاتھ میں پچاس اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس صحابی کے حوالے سے صرف انگلیوں کے بارے میں حکم منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس صحابی کے حوالے سے صرف انگلیوں کے بارے میں حکم منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10776
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : الْعَيْنَانِ سَوَاءٌ ، وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ ، وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ ، وَالْيَدَانِ سَوَاءٌ ، وَالرِّجْلَانِ سَوَاءٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دونوں آنکھیں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں تمام انگلیاں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں تمام دانت برابر کی حیثیت رکھتے ہیں دونوں ہاتھ برابر کی حیثیت رکھتے ہیں دونوں پاؤں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10777
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : كُلُّ زَوْجَيْنِ فَفِيهِمَا الدِّيَةُ ، وَكُلُّ وَاحِدٍ فَفِيهِ الدِّيَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( جسم کا ) ہر وہ ( عضو ) جو جوڑے کی شکل میں ہو ، تو ان دونوں میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی اور ان میں سے ہر ایک میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10778
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَقِيتُ عُمَرَ وَهُوَ بِالْمَوْسِمِ فَنَادَيْتُهُ مِنْ وَرَاءِ الْفُسْطَاطِ : أَلَا إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ الْجُرْمِيَّ ، وَابْنَ أُخْتٍ لَنَا عَانٍ فِي بَنِي فُلَانٍ ، وَقَدْ عَرَضْنَا عَلَيْهِ فَرِيضَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَرَفَعَ عُمَرُ جَانِبَ الْفُسْطَاطِ ، وَقَالَ : أَتَعْرِفُ صَاحِبَكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، هُوَ ذَاكَ . قَالَ : انْطَلِقَا بِهِ حَتَّى تُنَفِّذَ قَضِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قَالَ : وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ الْقَضِيَّةَ أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن کلیب نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے میری ملاقات حج کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے خیمے کے پیچھے سے پکار کر کہا: خبردار ! میں فلاں بن فلاں جرمی ہوں اور ہمارا بھانجا ، فلاں شخص کے پاس قید ہے ، ہم نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقرر کردہ فریضہ پیش کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خیمے کا کونہ اٹھایا اور بولے : کیا تم اپنے متعلقہ فرد کو جانتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں وہ وہاں ہیں تو انہوں نے فرمایا : پھر تم دونوں اس کو لے کر آؤ تاکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو نافذ کریں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ وہ ادائیگی چار اونٹوں کی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10779
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : شِبْهُ الْعَمْدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ ابْنَةَ لَبُونٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : شبہ عمد میں پچیس حقہ پچیس جذعہ پچیس بنت مخاض اور پچیس بنت لبون ادا کیے جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ، اور ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ، اور ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10780
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : فِي الْخَطَأِ عِشْرُونَ حِقَّةً ، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ ، وَعِشْرُونَ ابْنَ مَخَاضٍ ، وَعِشْرُونَ ابْنَةَ لَبُونٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا ہے ” قتل خطاء میں بیس حقہ بیس جذعہ بیس بنت مخاض بیس ابن مخاض بیس بنت لبون ادا کیے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 10781
وَعَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِي الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ : هُمَا سَوَاءٌ إِلَى خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ . وَقَالَ عَلِيٌّ : النِّصْفُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” مرد اور عورت پانچ اونٹوں تک کی ادائیگی میں برابر شمار ہوں گے “ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہر چیز کے حوالے سے ( عورت مرد کا ) نصف شمار ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مجاہد نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مجاہد نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 10782
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " دِيَةُ الذِّمِّيِّ دِيَةُ الْمُسْلِمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو كُرْزٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا أَنْكَرُ حَدِيثٍ رَوَاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ذمی کی دیت ، مسلمان کی دیت ( کے برابر ) ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوکرز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ اس کی نقل کردہ سب سے زیادہ منکر حدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوکرز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ اس کی نقل کردہ سب سے زیادہ منکر حدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 10783
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ دِيَةَ الْمُعَاهَدِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10784
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دِيَةُ الْمُعَاهَدِ مِثْلُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ . وَقَالَهُ عَلِيٌّ أَيْضًا . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَا مِنْ عَلِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کی مانند ہو گی “ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہی بات ارشاد فرمائی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مجاہد نامی راوی نے نہ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ، اور نہ ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10785
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دِيَةِ الْجَنِينِ إِذَا كَانَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، فَقَضَى بِذَلِكَ فِي امْرَأَةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيِّ . ¤ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کی دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا جب وہ ماں کے پیٹ میں موجود ہو ( اور اسی دوران مر جائے ) تو اس میں جرمانے کے طور پر ایک غلام یا کنیز دی جائے گی آپ نے سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” اسلام میں شغار کی کوئی حیثیت نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10786
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ذَلِكَ فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ : كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ ، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا ، فَقَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةِ عَبْدٍ ، وَأَنْ تُقْتَلَ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ حَمَلٍ فِي السُّنَنِ الثَّلَاثَةِ مِنْ طَرِيقٍ حَمَلٍ نَفْسِهِ ، وَأَخْرَجَتْهُ لِرِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ : أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اس صورت حال کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے وقت موجود تھے حمل بن مالک بن نابغہ آئے اور بولے : میری دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی ماری اور اس کو اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں جرمانے کے طور پر ایک غلام کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دیا ( کہ عورت کے بدلے میں ) اس کو قتل کر دیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث تینوں ” سنن “ میں سیدنا حمل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہی منقول ہے ، اور میں نے یہاں اس کو اس لئے نقل کیا ہے کیونکہ اسے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے وقت موجود تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10787
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى . . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : وَكَانَتْ حُبْلَى ، قَالَتْ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ : إِنَّهَا كَانَتْ حُبْلَى ، وَأَلْقَتْ جَنِينًا . ¤ قَالَ : فَخَافَ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ أَنْ يُضَمِّنَهُمْ ، قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا شَرِبَ ، وَلَا أَكَلَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسَجْعُ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ! " . فَقَضَى فِي الْجَنِينِ غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هَذِهِ الطَّرِيقُ أَحَادِيثُهَا صَالِحَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ ضَعَّفَ مُجَالِدًا جَمَاعَةٌ ، وَالْحَدِيثُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَابْنِ مَاجَهْ دُونَ ذِكْرِ : سَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں وہ آگے چل کر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ قتل ہونے والی عورت حاملہ تھی مقتول عورت کے خاندان والوں نے یہ بات بتائی کہ یہ عورت حاملہ تھی اور اس کے پیٹ سے بچہ مردہ پیدا ہوا ہے قتل کرنے والی عورت کے خاندان کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر دیت کی ادائیگی لازم قرار نہ دے دیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بچے نے تو کچھ پیا نہیں کچھ کھایا نہیں چیخا نہیں چیخ کر رویا نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا یہ زمانہ جاہلیت کی مسجع گفتگو کی جا رہی ہے پھر آپ نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مجالد بن سعید کے حوالے سے امام شعبی سے نقل کی ہے ابن عدی کہتے ہیں : اس طریق کی روایات صالح ہوتی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں مجالد نامی راوی کو ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے
یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے جس میں زمانہ جاہلیت کی سجع ہونے کے الفاظ نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مجالد بن سعید کے حوالے سے امام شعبی سے نقل کی ہے ابن عدی کہتے ہیں : اس طریق کی روایات صالح ہوتی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں مجالد نامی راوی کو ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے
یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے جس میں زمانہ جاہلیت کی سجع ہونے کے الفاظ نہیں ہیں ۔
حدیث نمبر: 10788
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ فِينَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ لَهُ امْرَأَتَانِ : إِحْدَاهُمَا هُذَلِيَّةٌ ، وَالْأُخْرَى عَامِرِيَّةٌ ، فَضَرَبَتِ الْهُذَلِيَّةُ بَطْنَ الْعَامِرِيَّةِ بِعَمُودِ خِبَاءٍ أَوْ فُسْطَاطٍ فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا ، فَانْطَلَقَ بِالضَّارِبَةِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهَا أَخٌ لَهَا ، يُقَالُ لَهُ : عِمْرَانُ بْنُ عُوَيْمِرٍ ، فَلَمَّا قَصُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقِصَّةَ ، قَالَ : " دُوهُ " . ¤ فَقَالَ عِمْرَانُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنَدِي مَا لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ، مِثْلُ هَذَا يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْنِي مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ ، فِيهِ غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، أَوْ خَمْسُمِائَةٍ ، أَوْ فَرَسٌ ، أَوْ عِشْرُونَ وَمِائَةُ شَاةٍ " . ¤ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَهَا ابْنَيْنِ هُمَا سَادَةُ الْحَيِّ ، وَهُمْ أَحَقُّ أَنْ يَعْقِلُوا عَنْ أُمِّهِمْ ، قَالَ : " أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَعْقِلَ عَنْ أُخْتِكَ مِنْ وَلَدِهَا " . قَالَ : مَا لِي شَيْءٌ أَعْقِلُ فِيهِ ؟ قَالَ : " يَا حَمَلَ بْنَ مَالِكٍ " . وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى صَدَقَاتٍ لِهُذَيْلٍ وَهُوَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ وَأَبُو الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ : " اقْبِضْ مِنْ تَحْتِ يَدِكَ مِنْ صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ شَاةٍ " . فَفَعَلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیح ہذلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہمارے درمیان ایک شخص تھا ، جس کا نام حمل بن مالک بن نابغہ تھا اس کی دو بیویاں تھیں جن میں سے ایک ہذیل قبیلے سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری بنو عامر سے تعلق رکھتی تھی ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت نے عامر قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت کے پیٹ پر خیمے کی لکڑی کے ذریعے ضرب لگائی تو دوسری عورت نے مردہ بچے کو جنم دیا حمل بن مالک ضرب لگانے والی عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اس عورت کے ساتھ اس عورت کا بھائی بھی تھا ، جس کا نام عمران بن عویمر تھا جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی دیت دو تو عمران بن عویمر نے کہا: اے اللہ کے نبی ! کیا ہم اس کی دیت دیں گے جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کے رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ دیہاتیوں کی سی لفاظی مجھ سے دور رکھو ! اس میں غلام یا کنیز کو ادا کرنا لازم ہو گا یا پانچ سو ( اونٹ ادا کیے جائیں ) یا ایک گھوڑا یا ایک سو بیس بکریاں ادا کی جائیں گی “ ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس عورت کے دو بیٹے ہیں ، اور وہ دونوں قبیلے کے سردار ہیں ، اور وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے دیت ادا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس عورت کی اولاد کے مقابلے میں تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ اپنی بہن کی طرف سے دیت ادا کرو ۔ اس شخص نے عرض کی : میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں دیت کے طور پر ادا کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حمل بن مالک راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب ان دنوں ہذیل قبیلے کے صدقات کے نگران تھے اور وہ اس عورت کے شوہر اور عورت کے پیٹ میں موجود مقتول بچے کے والد بھی تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے پاس موجود ہذیل قبیلے کے صدقات میں سے ایک سو بکریاں حاصل کر لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے جس کو امام ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے جس کو امام ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10789
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَتْ فِينَا امْرَأَتَانِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا ، وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَقَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَرْأَةِ بِالْعَقْلِ ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ بِفَرَسٍ ، أَوْ بَعِيرَيْنِ مِنَ الْإِبِلِ ، أَوْ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْغَنَمِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَاتِلَةِ : كَيْفَ نَعْقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسَجَّاعَةٌ أَنْتَ ؟ " . ¤ وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ مِيرَاثَ الْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا ، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیح نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے : ہمارے درمیان دو خواتین تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی مار کے اسے قتل کر دیا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے بارے میں دیت کی ادائیگی کا اور بچے کے بارے میں ایک غلام یا کنیز یا ایک گھوڑے یا دو اونٹوں یا اتنی اتنی بکریوں کی ادائیگی لازم ہونے کا فیصلہ دیا تو قتل کرنے والی عورت کے خاندان میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم اس ( بچے ) کی دیت کیسے دیں جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کر رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم مسجع گفتگو کر رہے ہو ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ عورت کی میراث اس کے شوہر کو ملے گی اور عورت کے بچے کی میراث بھی اسے ملے گی اور دیت کی ادائیگی عورت کے عصبہ لوگوں پر لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10790
وَعَنْ عُوَيْمِرٍ قَالَ : كَانَتْ أُخْتِي مُلَيْكَةُ وَامْرَأَةٌ مِنَّا يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَفِيفٍ بِنْتُ مَسْرُوحٍ تَحْتَ حَمَلِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَضَرَبَتْ أُمُّ عَفِيفٍ مُلَيْكَةَ بِمِسْطَحِ بَيْتِهَا ، وَهِيَ حَامِلٌ فَقَتَلَتْهَا وَذَا بَطْنِهَا . ¤ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا بِالدِّيَةِ ، وَفِي جَنِينِهَا بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدٍ ، فَقَالَ أَخُوهَا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْرُوحٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَغْرَمُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ هَذَا يُطَلُّ ؟ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری بہن ملیکہ اور ہمارے خاندان کی ایک عورت ام عفیف بنت مسروح ، یہ حمل بن نابغہ کی بیویاں تھیں اُم عفیف نے ملیکہ کو اپنے گھر میں موجود ایک لکڑی ماری ملیکہ حاملہ تھی اس کے نتیجے میں وہ قتل ہو گئی اور اس کے پیٹ میں بچہ بھی موجود تھا ( وہ بھی مارا گیا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( عورت کے بارے ) میں دیت کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور اس کے پیٹ کے بچے کے بارے میں ایک غلام یا لڑکے ( یعنی غلام کے بچے یا کنیز ) کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تو اس عورت کے بھائی علاء بن مسروح نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس ( بچے ) کا تاوان دیا جائے گا جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ بولا: نہیں چیخ کر رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ زمانہ جاہلیت کی سجع گفتگو کی طرح سجع کی جا رہی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔