کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: زخموں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10764
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَجُلٍ طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رِجْلِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِدْنِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَعْجَلْ حَتَّى يَبْرَأَ جُرْحُكَ " فَأَبَى الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يَسْتَقِيدَ ، فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ ، فَعَرِجَ الْمُسْتَقِيدُ ، وَبَرَأَ الْمُسْتَقَادُ مِنْهُ ، فَأَتَى الْمُسْتَقِيدُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَرِجْتُ وَبَرَأَ صَاحِبِي ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " أَلَمْ آمُرْكَ أَنْ لَا تَسْتَقِيدَ حَتَّى يَبْرَأَ جُرْحُكَ فَعَصَيْتَنِي ، فَأَبْعَدَكَ اللَّهُ وَبَطَلَ جُرْحُكَ " . ¤ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ الرَّجُلَ الَّذِي عَرِجَ مَنْ كَانَ بِهِ جُرْحٌ أَنْ لَا يَسْتَقِيدَ حَتَّى يَبْرَأَ مِنْ جِرَاحَتِهِ ، فَإِذَا بَرِأَتْ جِرَاحَتُهُ اسْتَقَادَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فیصلہ دیا تھا ، جس نے دوسرے شخص کی ٹانگ پر سینگ مار کر اسے زخمی کر دیا تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بدلہ دلوایئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم جلدی نہ کرو جب تک تمہارا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا اس شخص نے یہ بات نہیں مانی اور بدلہ لینے پر اصرار کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسرے شخص سے بدلہ دلوایا پھر بدلہ لینے والا شخص لنگڑا ہو گیا اور جس سے بدلہ لیا گیا تھا وہ ٹھیک ہو گیا بدلہ لینے والا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں لنگڑا ہو گیا ہوں اور دوسرا شخص ٹھیک ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں یہ ہدایت نہیں کی تھی کہ تم اس وقت تک بدلہ نہ لو جب تک تم تمہارا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا ؟ تم نے میری بات نہیں مانی اب اللہ تعالیٰ تمہیں دور کرے تمہارا زخم باطل ہو گیا ہے پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے معاملے کے بعد جو لنگڑا ہو گیا تھا یہ حکم دیا کہ جس شخص کو زخم لاحق ہو ، تو وہ اس وقت تک بدلہ نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا جب اس کا زخم ٹھیک ہو جائے گا ، پھر وہ بدلہ لے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10764
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7034)»
حدیث نمبر: 10765
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ طَعَنَ رَجُلًا عَلَى فَخِذِهِ بِقَرْنٍ فَقَالَ الَّذِي طُعِنَتْ فَخِذُهُ : أَقِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَاوِهَا وَاسْتَأْنِ بِهَا حَتَّى تَنْظُرَ إِلَى مَا تَصِيرُ " . ¤ فَقَالَ : أَقِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَقِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَبِسَتْ رِجْلُ الَّذِي اسْتَقَادَ ، وَبَرِئَ الَّذِي يَسْتَقِيدُ مِنْهُ ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دِيَتَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مقدمہ پیش کیا گیا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے زانوں پر ( کسی جانور کا ) سینگ مارا تھا ، جس شخص کو چوٹ لگی تھی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بدلہ دلوایئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس زخم کا علاج کرو اور اس کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرو تاکہ یہ پتہ چل جائے کہ کیا صورت حال سامنے آتی ہے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بدلہ دلوایئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس کی مانند بات ارشاد فرمائی اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بدلہ دلوایئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدلہ دلوایا جس شخص نے بدلہ لیا تھا اس کی ٹانگ سوکھ گئی اور جس شخص سے بدلہ لیا گیا تھا اس کی ٹانگ ٹھیک ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت کو رائیگاں قرار دیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10765
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (377)»
حدیث نمبر: 10766
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ : " دَاوِهَا " وَأَجِّلْهُ سَنَةً . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کا علاج کرو اور دوسرے فریق کو ایک سال کی مہلت دو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10766
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (126)»
حدیث نمبر: 10767
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ رَجُلًا جُرِحَ فَنَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُسْتَقَادَ مِنَ الْجَارِحِ حَتَّى يَبْرَأَ الْمَجْرُوحُ . ¤ رَوَى الْأَوَّلَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَمِنْ قَوْلِي ، وَفِي رِوَايَةٍ رَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص نے دوسرے شخص کو زخمی کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا کہ زخمی کرنے والے شخص سے بدلہ لیا جائے جب تک زخمی ہونے والا شخص تندرست نہیں ہو جاتا ۔ امام طبرانی نے پہلی روایت معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ایک روایت انہوں نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن نمران ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10768
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : تَرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ مُتَوَافِزُونَ ، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ فَتَّشَ عَنْ جَائِفَةٍ أَوْ مُنَقِّلَةٍ إِلَّا عَمْرُو بْنُ عُمَيْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْجِرَاحَاتِ فِي الدِّيَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جب ہمیں چھوڑا ( یعنی جب آپ دنیا سے رخصت ہوئے ) تو ہم لوگ زیادہ تر سفر میں رہتے تھے ، اور جائفہ یا منقلہ زخم کی تفتیش ہم میں سے صرف عمرو بن عمیر ہی کر سکتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بقال ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : زخموں کے بارے میں کچھ احادیث دیتوں سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف