کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جس شخص کی ایک آنکھ ہو اور وہ کسی دوسرے کی کوئی ایک آنکھ پھوڑ دے
حدیث نمبر: 10761
عَنْ عِصْمَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ فُقِئَتْ عَيْنُهُ ، فَقَالَ : " مَنْ ضَرَبَكَ ؟ " ، فَقَالَ : أَعْوَرُ بَنِي فُلَانٍ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ ، فَقَالَ : " أَنْتَ فَقَأْتَ عَيْنَ هَذَا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، فَقَضَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالدِّيَةِ ، وَقَالَ : " لَا نَفْقَأُ عَيْنَهُ فَنَدَعُهُ غَيْرَ بَصِيرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کی آنکھ پھوڑ دی گئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تمہیں کس نے مارا ہے اس نے بتایا : بنوفلاں کے کانے شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوایا وہ شخص آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اس کی آنکھ پھوڑی ہے اس نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دیت کی ادائیگی کا فیصلہ دیا آپ نے فرمایا : ہم اس کی آنکھ نہیں پھوڑیں گے کہ اسے یوں کر دیں کہ یہ دیکھ ہی نہ سکے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10761
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (182/17)»