کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص کسی دوسرے کے ہاتھ پر کاٹے اور دوسرا شخص اپنا ہاتھ کھینچ لے اور کاٹنے والے کے سامنے کے دانت ٹوٹ جائیں
حدیث نمبر: 10760
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ ، فَأَهْدَرَهَا النَّبِيُّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ حَكَمَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيِّ بِالْوَهْمِ ، وَقَدْ خَالَفَهُ أَصْحَابُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، فَرَوَوْهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَهُوَ الصَّوَابُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹا دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا تو پہلے شخص کے دانت گر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دانتوں کو رائیگاں قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ امام طبرانی نے سعید بن عمرو اشعثی نامی راوی پر وہم کا حکم عائد کیا ہے ابن عیینہ کے دوسرے شاگردوں نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ۔ انہوں نے اس روایت کو ابن عیینہ کے حوالے سے عمرو کے حوالے سے عطاء کے حوالے سے سیدنا صفوان بن یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اور یہی درست ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10760
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11393)»