حدیث نمبر: 10757
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أُنَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَاقُوهَا ، وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُؤْمِنًا . فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آثَارِهِمْ ، فَأُخِذُوا فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کیا ، اور انہیں ہانک کر لے گئے وہ لوگ اسلام چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا جو ایک مومن تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگوں کو روانہ کیا ان لوگوں نے انہیں پکڑ لیا ان قاتلوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد أحمد بن محمد بن حجاج بن رشدین کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد أحمد بن محمد بن حجاج بن رشدین کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10758
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ : يَسَارٌ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَأَعْتَقَهُ وَبَعَثَهُ فِي لِقَاحٍ لَهُ بِالْحَرَّةِ ، فَكَانَ بِهَا فَأَظْهَرَ قَوْمٌ الْإِسْلَامَ مِنْ عُرَيْنَةَ مِنَ الْيَمَنِ ، وَجَاؤُوا وَهُمْ مَرْضَى مَوْعُوكُونَ قَدْ عَظُمَتْ بُطُونُهُمْ . ¤ فَبَعَثَ بِهِمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى يَسَارٍ وَكَانُوا يَشْرَبُونَ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ حَتَّى انْطَوَتْ بُطُونُهُمْ ، ثُمَّ عَدَوْا عَلَى يَسَارٍ فَذَبَحُوهُ ، وَجَعَلُوا الشَّوْكَ فِي عَيْنَيْهِ ، ثُمَّ طَرَدُوا الْإِبِلَ ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آثَارِهِمْ خَيْلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، أَمِيرُهُمْ كُرْزُ بْنُ مَالِكٍ الْفِهْرِيُّ ، فَلَحِقَهُمْ فَجَاءَ بِهِمْ إِلَيْهِ ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا ، جس کا نام یسار تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اچھے طریقے سے نماز ادا کرتا ہے ، تو آپ نے اسے آزاد کر دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھریلی زمین پر موجود اپنی اونٹنیوں میں اسے بھیجوا دیا وہ شخص وہاں رہا یمن کے عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے بظاہر اسلام قبول کر لیا جب وہ لوگ آئے ، تو وہ بیمار ہو گئے انہیں بخار ہو گیا ان کے پیٹ بڑھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بیسار کے پاس بھجوا دیا وہ لوگ وہاں اونٹوں کا دودھ پیتے تھے ، یہاں تک کہ ان کے پیٹ ٹھیک ہو گئے پھر انہوں نے بیسار پر حملہ کر کے اسے ذبح کر دیا اور اس کی آنکھوں میں کانٹے پھیر دیے پھر اونٹوں کو کھولا اور لے گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے گھڑ سواروں کو بھیجا ان کے امیر سیدنا کرز بن جابر فہری رضی اللہ عنہ تھے وہ ان لوگوں تک پہنچ گئے اور ان لوگوں کو پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10759
وَعَنْ جَرِيرٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تُقْطَعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ ، وَأَنْ تُسْمَلَ أَعْيُنُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں پر حملہ کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔