کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص کسی ذمی کو قتل کر دے یا اسے دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے
حدیث نمبر: 10751
عَنْ رَجُلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ ، فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ تِسْعِينَ عَامًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جنہیں عہد دیا گیا ہو گا ، تو جو شخص ان میں سے کسی فرد کو قتل کر دے وہ شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اگرچہ اس کی خوشبو نوے سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10751
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (61/4)»
حدیث نمبر: 10752
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ : " خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اگرچہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے ” پانچ سو سال “ کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2944 و 433)»
حدیث نمبر: 10753
وَفِي رِوَايَةٍ : " مِائَةِ عَامٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک سو سال “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن علاف ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10753
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10754
وَعَنْ جُنْدَبٍ قَالَ : وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ يَخْفِرُ ذِمَّتِي كُنْتُ خَصْمَهُ ، وَمَنْ خَاصَمْتُهُ خَصَمْتُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا میں اس کا مقابل فریق ہوؤں گا اور میں جس کا مقابل فریق ہوؤں گا اس کا ( بھرپور ) مقابلہ کروں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10754
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1668)»
حدیث نمبر: 10755
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَ ، وَلَا يُتِمُّ شَهْرَانِ ، وَمَنْ أَخْفَرَ بِذِمَّةٍ لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے یا صفر کے ( منحوس ہونے ) یا ہام کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، اور دو مہینے مکمل نہیں ہوتے اور جو شخص ذمہ کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے دحیم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10755
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7761)»
حدیث نمبر: 10756
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُعَلِّلِ بْنِ نُفَيْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ناحق طور پر کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اگرچہ جنت کی خوشبو ایک سو سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ستر سال کی مسافت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن قاسم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال الفتہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں صرف معلل بن نفیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10756
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف