عَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا . أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوغادیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عقبہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تمہاری جانیں تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے اس دن تک کے لئے قابل احترام ہیں جب تم لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گے اور یہ تمہارے آج کے اس دن کی طرح قابل احترام ہیں جو تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں ہے خبردار کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو گواہ ہو جا ( پھر آپ نے فرمایا : ) خبردار تم لوگ میرے بعد پھر کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو “ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : بِيَمِينِكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، وَخَطَبَنَا يَوْمَ الْعَقَبَةِ . . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَهُ طُرُقٌ فِي الْفِتَنِ ، وَتَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ ، وَطُرُقٌ فِي الْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی میں نے عرض کی : دائیں ہاتھ کے ذریعے ( یا آپ کی قسم کے ہمراہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں پھر آپ نے عقبہ کے دن ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس کے مختلف طرق فتنوں سے متعلق باب میں آئیں گے اس سے پہلے اس کے مختلف طرق حج کے موقع پر خطبوں سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ، اور کچھ طرق فتنوں والے باب میں آئیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس کے مختلف طرق فتنوں سے متعلق باب میں آئیں گے اس سے پہلے اس کے مختلف طرق حج کے موقع پر خطبوں سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ، اور کچھ طرق فتنوں والے باب میں آئیں گے ۔