کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کوئی شخص کسی دوسرے کے خلاف زیادتی نہیں کرے گا اور کسی شخص کو کسی دوسرے کے جرم میں پکڑا نہیں جائے گا
حدیث نمبر: 10702
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ أَسْوَدَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ، أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ " . ¤ قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سلیم بن اسود نے بنو یربوع سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کا یہ بیان نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سنا آپ ان کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے تم اپنی ماں اپنے باپ اپنی بہن اپنے بھائی اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں پر خرچ کرو ) “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع انہوں نے فلاں شخص کو نقصان پہنچایا ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار کوئی شخص کسی شخص کے خلاف زیادتی نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10703
وَعَنْ رَجُلٍ كَانَ قَدِيمًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ رَجُلًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ ; أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبْ لِي كِتَابًا أَنْ لَا أُؤْخَذَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ذَلِكَ لَكَ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب جن کا تعلق بنو تمیم کے پرانے افراد میں سے ہے ۔ انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص کو اپنے والد کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ ان کی ملاقات ( یعنی دوسرے شخص کے والد کی ملاقات ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے تحریر لکھ دیں کہ مجھے کسی دوسرے کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چیز تمہیں حاصل ہے ، اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10704
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " لَا تَرْتَدُّوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : ” میرے بعد دوبارہ کافر ہو کے ایک دوسرے کی گردنیں نہ اڑانے لگ جانا کوئی شخص اپنے بھائی کے جرم میں نہیں پکڑا جائے ۔ گا یا اپنے باپ کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10705
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، وَلَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد دوبارہ کافر ہو کے ایک دوسرے کی گردنیں نہ اڑانے لگ جانا کوئی شخص اپنے باپ کے جرم میں یا اپنے بھائی کے جرم کے بدلے میں نہیں پکڑا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10706
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ; أَنَّ أَبَاهُ مَالِكًا ، وَعَمَّيْهِ عُبَيْدًا وَقَيْسًا بَنِي الْخَشْخَاشِ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْا إِلَيْهِ إِغَارَةَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَمِّهِمْ عَلَى النَّاسِ . ¤ فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَالِكٍ وَعُبَيْدٍ ; أَنَّكُمْ آمِنُونَ مُسْلِمُونَ بِأَمَانٍ عَلَى دِمَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ، لَا تُؤْخَذُونَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِكُمْ ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْكُمْ إِلَّا أَيْدِيكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حصین بن ابوحر بیان کرتے ہیں : ان کے والد مالک اور ان کے دو چچاؤں عبید اور قیس یہ سب خشخاش کے بیٹے ہیں یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی کہ ان کے چچا زاد سے لوگوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لوگوں پر ظلم کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو مکتوب لکھا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ” یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جانب سے مالک اور عبید کے نام مکتوب ہے تم لوگ ایمان رکھنے والے مسلمان ہو اور تمہاری جانوں اور اموال کو امان حاصل ہے ، تو تم اپنے علاوہ کسی اور کے جرم میں نہیں پکڑے جاؤ گے اور کوئی تم پر زیادتی نہیں کرے گا البتہ تم خود جو کرو گے اس کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔