کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قوم لوط کا سا عمل کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10634
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، وَزَيْدَ بْنَ حَسَنٍ يَذْكُرُونَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ فَجَرَ بِغُلَامٍ مِنْ قُرَيْشٍ مَعْرُوفِ النِّسَبِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : وَيْحَكُمْ أَيْنَ الشُّهُودُ ؟ أُحْصِنَ ؟ قَالُوا : تَزَوَّجَ بِامْرَأَةٍ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا بَعْدُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - : لَوْ دَخَلَ بِهَا لَحَلَّ عَلَيْهِ الرَّجْمُ ، فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَدْخُلْ بِأَهْلِهِ فَاجْلِدْهُ الْحَدَّ . ¤ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ الَّذِي ذَكَرَ أَبُو الْحَسَنِ ، فَأَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَجُلِدَ مِائَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
جابر نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے سالم بن عبداللہ اور ابان بن عثمان اور زید بن حسن کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ) ان کے پاس ایک ایسے شخص کو لایا گیا جس نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے کے ساتھ بدکاری کی تھی جس کا نسب معروف تھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو گواہ کہاں ہیں کیا یہ شخص محصن ہے لوگوں نے کہا: اس شخص نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی تھی لیکن اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر تو اس نے اس عورت کی رخصتی کروا لی ہوتی تو پھر اسے سنگسار کرنے کی سزا دی جا سکتی تھی لیکن کیونکہ اس نے اپنی بیوی کی رخصتی نہیں کروائی تو اب آپ اسے حد کے کوڑے لگوا دیں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو جناب ابوالحسن نے نقل کی ہے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا تو اسے ایک سو کوڑے لگائے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے جس نے سماع کی صراحت کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10635
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ : الرَّاكِبُ وَالْمَرْكُوبُ ، وَالرَّاكِبَةُ وَالْمَرْكُوبَةُ ، وَالْإِمَامُ الْجَائِرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَدَنِيُّ الْحَارِثِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین قسم کے لوگ ہیں جن کی یہ گواہی قبول نہیں ہو گی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( وہ لوگ یہ ہیں ) سوار ہونے والا مرد اور جس پر سوار ہوا جائے سوار ہونے والی عورت اور جس عورت پر سوار ہوا جائے ( یعنی ہم جنسی کا فعل کرنے والے مرد یا عورتیں ) اور ظالم حکمران “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد مدنی حارثی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10635
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 10636
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ سَبْعَةً مِنْ خَلْقِهِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتِهِ " - وَرَدَّدَ اللَّعْنَةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ ثَلَاثًا ، وَلَعَنَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ لَعْنَةً تَكْفِيهِ - فَقَالَ : " مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ . مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى شَيْئًا مِنَ الْبَهَائِمِ ، مَلْعُونٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ ، مَلْعُونٌ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةٍ وَابْنَتِهَا ، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ حُدُودَ الْأَرْضِ ، مَلْعُونٌ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحْرِزُ بْنُ هَارُونَ ، وَيُقَالُ : مُحَرِّرٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے اپنی مخلوق میں سے سات قسم کے لوگوں پر لعنت کی ہے اور ان میں سے ایک پر تین مرتبہ لعنت کی ہے حالانکہ ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک لعنت ہی کفایت کر جائے اس نے فرمایا ہے وہ شخص ملعون ہے جو قوم لوط کا سا عمل کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو قوم لوط کا سا عمل کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو قوم لوط کا سا عمل کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور کے ساتھ بدکاری کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو عورت اور اس کی بیٹی کو ( صحبت کرنے میں ) جمع کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو زمین کی حدود کو تبدیل کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو آزاد کرنے والے اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محرز بن ہارون ہے ایک قول کے مطابق ان کا نام محرر ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10636
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10637
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعَةٌ يُصْبِحُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ ، وَيُمْسُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ " . قُلْتُ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمُتَشَبِّهُونَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَشَبِّهَاتُ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ ، وَالَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ ، وَالَّذِي يَأْتِي الرِّجَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار قسم کے لوگ اللہ کے غضب میں صبح کرتے ہیں اور اللہ کی ناراضگی میں شام کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خواتین کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مرد مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی خواتین وہ شخص جو کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے اور وہ شخص جو مرد کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل محمد بن سلام خزاعی کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں اس کی اس حدیث میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف