حدیث نمبر: 10630
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا وَجَدَ الْيَهُودِيُّ مَسَّ الْحِجَارَةِ ، قَامَ عَلَى صَاحِبَتِهِ فَحَنَى عَلَيْهَا ; يَقِيهَا مَسَّ الْحِجَارَةِ حَتَّى قُتِلَا جَمِيعًا ، فَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي تَحْقِيقِ الزِّنَا مِنْهُمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ أُحْصِنَا فَسَأَلُوهُ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمَا بِالرَّجْمِ فَرَجَمَهُمَا فِي فِنَاءِ الْمَسْجِدِ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ فِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو سنگسار کرنے کا حکم دیا جب یہودی مرد کو پتھر لگے تو وہ اپنی ساتھی عورت کی طرف بڑھا اور اس پر جھگ گیا تاکہ اسے پتھر لگنے سے بچائے یہاں تک کہ ان دونوں کو قتل کر دیا گیا تو ان دونوں کی طرف سے زنا ثابت ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے یہ طرز عمل مقرر کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو لایا گیا وہ دونوں محصن تھے ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ ان دونوں کے بارے میں سنگسار کرنے کا حکم دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے باہر ان دونوں کو سنگسار کروایا ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے جو امام أحمد کی روایت میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو لایا گیا وہ دونوں محصن تھے ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ ان دونوں کے بارے میں سنگسار کرنے کا حکم دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے باہر ان دونوں کو سنگسار کروایا ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے جو امام أحمد کی روایت میں ہے ۔
حدیث نمبر: 10631
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَهْطًا أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاؤُوا مَعَهُمْ بِامْرَأَةٍ فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، مَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ فِي الزِّنَا ؟ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا فَائْتُونِي بِرَجُلَيْنِ مِنْ عُلَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ " . فَذَهَبُوا فَأَتَوْهُ بِرَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ فَصِيحٌ وَالْآخَرُ شَيْخٌ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ حَتَّى يَرْفَعَهُمَا بِعِصَابَةٍ . ¤ فَقَالَ : " أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ ، لَمَا أَخْبَرْتُمُونَا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى فِي الزَّانِي ؟ " . فَقَالَا : نَشَدْتَنَا بِعَظِيمٍ ، وَإِنَّا نُخْبِرُكَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْزَلَ عَلَى مُوسَى فِي الزَّانِي الرَّجْمَ ، وَإِنَّا كُنَّا قَوْمًا شَببَةً وَكَانَ نِسَاؤُنَا حَسَنَةً وُجُوهُهُنَّ ، وَإِنَّ ذَلِكَ كَثُرَ فِينَا فَلَمْ نَقُمْ لَهُ ، فَصِرْنَا نَجْلِدُ وَالتَّعْيِيرُ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا بِصَاحِبَتِكُمْ فَإِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَارْجُمُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَلَهُ طَرِيقٌ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ اپنے ساتھ ایک عورت کو لے کے آئے تھے انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ پر زنا کے بارے میں کیا نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا تم لوگ جاؤ اور میرے پاس بنی اسرائیل کے علماء میں سے دو افراد کو لے کے آؤ وہ لوگ گئے اور اپنے میں سے دو علماء کو آپ کے پاس لے کے آئے جن میں سے ایک نوجوان تھا اور فصیح تھا اور دوسرا بوڑھا تھا جس کی بھویں اس کی آنکھوں پے آ رہی تھیں یہاں تک کہ انہیں اٹھایا جاتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دونوں کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ تم لوگ ہمیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ زنا کرنے والے شخص کے بارے میں سیدنا موسیٰ پر کیا حکم نازل کیا ہے تو انہوں نے کہا: آپ نے ہمیں عظیم واسطہ دیا ہے ہم آپ کو بتاتے ہیں زنا کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ پر سنگسار کرنے کا حکم نازل کیا ہے ہم ایسے لوگ ہیں جن میں نوجوان زیادہ ہیں اور ہماری عورتیں خوبصورت ہوتی ہیں زنا ہمارے درمیان زیادہ ہو گیا تو ہم پھر یہ سزا نہیں دیتے تھے ہم کوڑے لگوا دیتے تھے اور شرمندہ کروا دیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی ساتھی عورت کو لے جاؤ جب یہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے دے گی تو تم اسے سنگسار کر دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کا ایک اور طریق ہے جو سورت مائدہ میں آئے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کا ایک اور طریق ہے جو سورت مائدہ میں آئے گا ۔
حدیث نمبر: 10632
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا ، وَقَدْ أُحْصِنَا ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُجِمَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ : فَكُنْتُ فِي مَنْ رَجَمَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ فِيهِ : لَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لے کے آئے جنہوں نے زنا کیا تھا وہ دونوں محصن تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان دونوں کو سنگسار کر دیا گیا ۔ سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے انہیں سنگسار کرنے ولوں میں شامل تھا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10633
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَتِ الْيَهُودُ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتُونِي بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ فِيكُمْ " . فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا ، فَقَالَ : " أَنْتُمَا أَعْلَمُ مَنْ وَرَاءَكُمَا ؟ " . فَقَالَا : كَذَلِكَ يَزْعُمُونَ . ¤ فَنَاشَدَهُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى : " كَيْفَ تَجِدُونَ أَمْرَ هَذَيْنِ فِي تَوْرَاةِ اللَّهِ تَعَالَى ؟ " . قَالَا : نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ : إِذَا وُجِدَ الرَّجُلُ مَعَ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتٍ فَهِيَ رِيبَةٌ ، فِيهَا عُقُوبَةٌ ، وَإِذَا وُجِدَ فِي ثَوْبِهَا أَوْ عَلَى بَطْنِهَا فَهِيَ رِيبَةٌ فِيهَا عُقُوبَةٌ . فَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ نَظَرُوا إِلَيْهِ مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ رَجَمُوهُ ، فَقَالَ : " مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَرْجُمُوهُمَا ؟ " . فَقَالَا : ذَهَبَ سُلْطَانُنَا فَكَرِهْنَا الْقَتْلَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشُّهُودِ فَشَهِدُوا فَأَمَرَ بِرَجْمِهِمَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَقَدْ صَحَّحَهَا ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہودی اپنے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کے آئے جنہوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے درمیان موجود دو سب سے بڑے عالموں کو میرے پاس لے کے آئے تو لوگ صوریا کے دو بیٹوں کو لے کے آپ کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اپنے پیچھے موجود افراد سے زیادہ علم رکھتے ہو انہوں نے کہا: لوگوں کا یہی سمجھنا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس اللہ کا واسطہ دیا جس نے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل کی کہ تم دونوں مرد اور عورت ) کے بارے میں اللہ کی تورات میں کیا حکم پاتے ہو ان دونوں نے یہ کہا: کہ ہم نے تورات میں یہ حکم پایا ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ کسی گھر میں پایا جائے تو ایک مشکوک صورت حال ہے اس میں سزا دی جائے گی جب کوئی شخص عورت کے کپڑے میں پایا جائے یا اس کے پیٹ پر پایا جائے تو یہ مشکوک صورت حال ہے تو اس میں سزا دی جائے گی اور جب چار افراد اس بات کی گواہی دیں کہ ان لوگوں نے مرد کو دیکھا ہے کہ جس طرح سرمہ دانی کی سلائی سرمہ دانی میں ڈالی جاتی ہے اس طرح اس نے ( اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے ) تو اسے سنگسار کر دیا جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا وجہ ہے تم نے ان دونوں کو سنگسار کیوں نہیں کیا ان دونوں نے کہا: ایک تو ہماری حکومت ختم ہو گئی ہے تو ہم نے قتل کرنے کو ناپسند کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوایا ان لوگوں نے گواہی دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں ( مرد و عورت ) کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے مجالد کے حوالے سے امام شعبی کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ابن عدی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے مجالد کے حوالے سے امام شعبی کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ابن عدی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔