کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہیجڑوں کا بیان
حدیث نمبر: 10638
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ مُخَنَّثًا أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْضُوبَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْفِقُونَهُ بِنِعَالِهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْذَرُوا هَذَا وَأَصْحَابَهُ عَلَى نِسَائِكُمْ " فَقَالُوا : أَفَلَا نَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . قُلْتُ : وَفِي كِتَابِ الْأَدَبِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہیجڑے کو لایا گیا جس نے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں پر مہندی لگائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اسے جوتوں کے ذریعے مارنا شروع کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اور اس طرح کے دیگر لوگوں کو اپنی خواتین کے پاس جانے سے روکو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی نہیں مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحدر ہے اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کتاب الادب میں اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث مذکور ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10638
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 10639
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ ، وَقَالَ : " أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہیجڑوں پر لعنت کی ہے آپ نے فرمایا ہے انہیں اپنے گھروں سے نکال دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عبدالرحمن کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10639
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10640
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ لَعَنَ عَشَرَةً : الْوَاشِمَةَ وَالْمَوْشُومَةَ ، وَالسَّالِخَةَ وَجْهَهَا ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ ، وَآكِلَ الرِّبَا وَشَاهِدَهُ ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ ، وَالرَّجُلَ الْمُتَشَبِّهَ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمَرْأَةَ الْمُتَشَبِّهَةَ بِالرِّجَالِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ : الْمُتَشَبِّهِينَ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ ، وَالسَّالِخَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت کی ہے ، جسم گودنے والی عورت ، گودنے والی عورت ، چہرے کے بال نوچنے والی عورت ، نقلی بال لگوانے والی عورت اور لگانے والی عورت اور سود کھانے والا شخص اور اس کا گواہ اور زکوۃ نہ دینے والا شخص اور عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والا مرد اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورت “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے لیکن اس میں اختصار ہے اس میں صرف مشابہت اختیار کرنے والے مردوں مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں اور ( چہرے کے بال ) نوچنے والی عورت کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10640
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف