کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: زانی کا اعتراف کرنا اور محصن کو سنگسار کیا جانا
حدیث نمبر: 10605
عَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا ، فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّةً فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ الثَّانِيَةَ فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ الثَّالِثَةَ فَرَدَّهُ . ¤ فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ إِنِ اعْتَرَفْتَ الرَّابِعَةَ رَجَمَكَ ، قَالَ : فَاعْتَرَفَ الرَّابِعَةَ فَحَبَسَهُ ، ثُمَّ سَأَلَ عَنْهُ ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، قَالَ : فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّ مَاعِزًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . وَفِي أَسَانِيدِهِمْ كُلِّهَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجَعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا سیدنا مالک بن ماعز رضی اللہ عنہ آیا اس نے آپ کے سامنے ایک مرتبہ اعتراف کیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا وہ پھر آیا اس نے آپ کے سامنے دوسری مرتبہ اعتراف کیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا وہ پھر آیا اس نے تیسری مرتبہ اعتراف کیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا میں نے اس سے کہا: اگر تم نے چوتھی مرتبہ بھی اعتراف کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سنگسار کروا دیں گے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس نے چوتھی مرتبہ بھی اعتراف کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قید کروا دیا پھر آپ نے اس کے بارے میں تحقیق کی تو لوگوں نے بتایا کہ ہمیں تو صرف بھلائی کا علم ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو چار مرتبہ واپس کیا تھا اور پھر انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں تین مرتبہ واپس کیا تھا ۔ ان تمام روایات کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو چار مرتبہ واپس کیا تھا اور پھر انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں تین مرتبہ واپس کیا تھا ۔ ان تمام روایات کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10606
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ ثَلَّثَ ثُمَّ رَبَّعَ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا ، فَرَدَّدَهُ أَرْبَعًا ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَرَنَا فَحَفَرْنَا لَهُ حَفِيرَةً لَيْسَتْ بِالطَّوِيلَةِ فَرُجِمَ . ¤ فَارْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَئِيبًا حَزِينًا ، فَسِرْنَا حَتَّى نَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى صَاحِبِكُمْ ، قَدْ غُفِرَ لَهُ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا: اس بدنصیب نے زنا کا ارتکاب کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا پھر اس نے تیسری مرتبہ بھی ایسا کیا چوتھی مرتبہ بھی ایسا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعتراف کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ اسے واپس کیا پھر آپ سواری سے نیچے اترے آپ نے ہمیں حکم دیا ہم نے اس کے لئے گڑھا کھودا جو زیادہ لمبا نہیں تھا پھر اسے سنگسار کر دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو آپ پریشان اور غمگین تھے ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر کیا تم نے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا کہ اس کی مغفرت ہو گئی اور اسے جنت میں داخل کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 10607
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ يَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ . ¤ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ : " اجْلِسْ " فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . فَقَالَ : " وَمَا حَدُّكَ ؟ " . قَالَ : أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْعَبَّاسُ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ : " انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ " . ¤ وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَجْلِدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا " . فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَاحِبَتُكَ ؟ " . قَالَ : فُلَانَةٌ - امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي بَكْرٍ - فَأُتِيَ بِهَا فَسَأَلَهَا ، فَقَالَتْ : كَذَبَ وَاللَّهِ ، مَا أَعْرِفُهُ ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِيئَةٌ ، وَاللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَهِدَ عَلَى أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا ، فَإِنَّهَا تُنْكِرُ فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا حَدًّا وَإِلَّا جَلَدْنَاكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي مَنْ يَشْهَدُ . فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے بنولیث بن بکر بن عبدمناد بن کنانہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ لوگوں کی گردنیں پھیلانگتا ہوا آپ کے پاس آ گیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر حد قائم کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا پھر وہ دوسری مرتبہ کھڑا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ پھر وہ تیسری مرتبہ کھڑا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مانند ارشاد فرمایا آپ نے دریافت کیا تمہاری حد کیا ہے اس نے بتایا میں نے حرام طور پر ایک عورت کے ساتھ صحبت کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک صاحب سے فرمایا ان اصحاب میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اسے ساتھ لے جاؤ اور اسے ایک سو کوڑے لگاؤ اس لیثی شخص نے بھی شادی نہیں کی تھی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اس عورت کو کوڑے نہیں لگوائیں گے جس کے ساتھ اس نے زنا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسے کوڑے لگا کے میرے پاس لے کے آؤ جب اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم نے کس کے ساتھ ایسا کیا تھا اس نے بنو بکر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کا نام لے کے کہا: کہ فلاں عورت کے ساتھ اس عورت کو لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم یہ جھوٹ بول رہا ہے میں اسے نہیں جانتی ہوں اور اس نے جو الزام لگایا ہے میں اس سے لاتعلق ہوں اور میں جو کہہ رہی ہوں اس بات پر گواہ اللہ تعالیٰ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون شخص اس بات کی گواہی دے گا کہ تم نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے یہ تو انکار کر رہی ہے اگر تمہارے پاس گواہ ہیں تو ہم اس عورت کو حد کے طور پر کوڑے لگائیں گے ورنہ ہم تمہیں زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی وجہ سے کوڑے لگائیں گے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے حق میں گواہی کون دے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو زنا کا الزام لگانے کی حد میں اسی کوڑے لگائے گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10608
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن عبدالله بن عمرو قرشی بیان کرتے ہیں مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے جو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک شخص کو سنگسار کرنے کا حکم دیا جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ( لوگوں سے ) فرمایا تم لوگوں نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10609
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا اعْتَرَفَ الرَّجُلُ بِالزِّنَا ، فَأَضَرَبَهُ الرَّجْمُ ، فَهَرَبَ تُرِكَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيَّ فِي قِصَّةِ مَاعِزٍ : " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص زنا کا اعتراف کر لے اور پھر سنگسار ہونے کے وقت وہ بھاگ کھڑا ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کا واقعہ نقل کیا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں ” تم لوگوں نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ حمید کندی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کا واقعہ نقل کیا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں ” تم لوگوں نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ حمید کندی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 10610
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَلَمَّا قَالَ لَهُ ذَلِكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ ، فَإِنْ كَانَ صَحِيحًا فَارْجُمُوهُ " . ¤ فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ صَحِيحًا فَرُجِمَ ، فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ حَاضِرَهُمْ ، وَتَلَقَّاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَحْيِ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِلَى النَّارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَلَّا إِنَّهُ قَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ " . ¤ قُلْتُ : لِسَمُرَةَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ صَفْوَانَ بْنِ الْمُغَلِّسِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے منہ پھیر لیا پھر وہ تیسری طرف سے آئے تو آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا جب وہ چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے جب انہوں نے یہ بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا اپنے ساتھی کے پاس اٹھ کے جاؤ اگر یہ ٹھیک ہے تو اسے سنگسار کر دو اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ صحیح ہے ( یعنی پاگل نہیں ہے ) تو اسے سنگسار کر دیا گیا جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب اونٹ کی ہڈی لے کے اس کے سامنے آئے وہ انہوں نے اسے ماری تو وہ مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے فرمایا یہ جہنم میں جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہرگز نہیں اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایک پوری امت اتنی توبہ کرتی تو ان کی طرف سے وہ قبول ہو جاتی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے لیکن وہ اس طرح آپ کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد صفوان بن مغلظ سے نقل کی ہے میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد صفوان بن مغلظ سے نقل کی ہے میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10611
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : شَهِدْتُ مَاعِزًا حِينَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجْمِهِ فَعَدَا ، فَاتَّبَعَهُ النَّاسُ يَرْجُمُونَهُ حَتَّى لَقِيَهُ عُمَرُ بِالْجَبَّانَةِ ، فَضَرَبَهُ بَلَحِي بَعِيرٍ فَقَتَلَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں ماعز کے پاس موجود تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا وہ بھاگا تو لوگ اس کو پتھر مارتے ہوئے اس کے پیچھے گئے یہاں تک کہ جبابہ کے مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے انہوں نے اسے اونٹ کی ہڈی مار کے قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 10612
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنگسار کروا دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10613
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فِي بَطْنِي حَدَثًا ، فَأَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ ، فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَقْتُلُ مَا فِي بَطْنِكِ " فَانْطَلَقَتْ فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْ ، فَقَالَتْ : قَدْ وَضَعْتُ ، فَقَالَ : " اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ " . فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ فَقَالَتْ : قَدْ فَطَمْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " انْطَلِقِي فَاكْفُلِيهِ " . فَانْطَلَقَتْ فَجَاءَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا تَمْشِيَانِ ، فَعَجِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ صَبْرِهَا ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجْمِهَا . ¤ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ : " انْطَلِقْ فَإِذَا وُضِعَتْ فِي حُفْرَتِهَا ، فَقُمْ بَيْنَ يَدَيْهَا حَتَّى تَكُونَ نُصْبَ عَيْنَيْهَا ، فَأَسِرَّ إِلَيْهَا " . وَأَمَرَ رَجُلًا ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى حَجَرٍ عَظِيمٍ فَأْتِهَا مِنْ خَلْفِهَا فَارْمِهَا فَاشْدَخْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاملہ ہوں آپ مجھ پر حد جاری کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پیٹ میں جو ہے ہم اسے قتل نہیں کریں گے وہ عورت چلی گئی جب اس نے بچے کو جنم دے دیا تو وہ آئی اس نے عرض کی میں نے بچے کو جنم دے دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ جب تک تم اس کا دودھ نہیں چھڑاتی ہو ( تمہیں سزا نہیں ملے گی ) پھر اس نے جب اس بچے کا دودھ چھڑا دیا تو وہ آئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس کا دودھ چھڑوا دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور اس کا کفیل لے کے آؤ ( جو اس کی دیکھ بھال کرے ) وہ چلی گئی پھر وہ عورت اور اس کی بہن چلتی ہوئی آئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عورت کا صبر پسند آیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تم جاؤ جب اس عورت کو گڑھے میں رکھا جائے تو تم اس کے سامنے کھڑے ہو جانا یہاں تک کہ تم اس کی آنکھوں کے بلکل سامنے آ جانا پھر آپ نے ایک اور شخص کو حکم دیا اور فرمایا تم جاؤ ایک بڑا پتھر لو اور پیچھے کی طرف سے اس عورت کے پاس آنا اور اس کو مار کر اسے توڑ دینا ( یعنی قتل کر دینا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10614
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ زَنَتْ ، وَكَانَتْ حَامِلًا ، فَقَالَ : " انْطَلِقِي حَتَّى تَضَعِي حَمْلَكِ " . وَلَوْ لَمْ تَرْجِعْ لَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا ، فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا ثُمَّ أَتَتْهُ ، فَقَالَ : " انْطَلِقِي حَتَّى تَفْطِمِي وَلَدَكِ " . فَأَتَتْهُ ، وَلَوْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا ، فَجَاءَتْ بَعْدَ مَا فَطَمَتْهُ فَرَجَمَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے عرض کی اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے وہ عورت حاملہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور پہلے حمل کو جنم دو وہ عورت نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیج کے نہیں بلوایا پھر اس عورت نے اپنے حمل کو جنم دیا پھر وہ آپ کے پاس آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ جب تک تم اپنے بچے کا دودھ نہیں چھڑاتی ہو پھر وہ عورت آپ کے پاس آئی اگر وہ آپ کے پاس نہ آتی تو آپ نے اسے پیغام بھیج کے بلوانا نہیں تھا دودھ چھڑانے کے بعد وہ آپ کے پاس آئی تو آپ نے اسے سنگسار کروا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10615
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا ، وَكَانَتْ حَامِلًا ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى وَضَعَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ فَسُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ وَرَجَمْتَهَا ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا سَبْعُونَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ ، هَلْ وَجَدَتْ أَفْضَلَ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي : لَا أَعْلَمُهُ ذُمَّ فِي الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے زنا کا اعتراف کیا وہ عورت حاملہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معاملے کو مؤخر کر دیا جب تک وہ بچے کو جنم نہیں دیتی پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا اس کے کپڑے اس کے جسم پر باندھ دیے گئے پھر آپ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں جبکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور آپ نے اسے سنگسار بھی کروایا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر افراد نے اگر ایسی توبہ کی ہوتی تو وہ ان کی طرف سے بھی قبول ہو جاتی ہے کیا تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والا کوئی فرد ملتا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن أحمد بن نضر کے حوالے سے نقل کی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے أحمد بن کامل قاضی کہتے ہیں میرے علم کے مطابق اسے حدیث میں قابل مذمت قرار نہیں دیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن أحمد بن نضر کے حوالے سے نقل کی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے أحمد بن کامل قاضی کہتے ہیں میرے علم کے مطابق اسے حدیث میں قابل مذمت قرار نہیں دیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10616
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجَمَ امْرَأَةً ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفِرَ لَهَا ، فَحَفَرْتُ لَهَا إِلَى سُرَّتِي . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو سنگسار کروایا آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لئے گڑھا کھودوں تو میں نے اپنی ناف تک اس کے لئے گڑھا کھود دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔