حدیث نمبر: 10617
عَنْ صَالِحِ بْنِ رَاشِدٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ : أُتِيَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ بِرَجُلٍ اغْتَصَبَ أُخْتَهُ نَفْسَهَا ، فَقَالَ : احْبِسُوهُ وَاسْأَلُوا مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَسَأَلُوا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُطَرِّفٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَخَطَّى الْحُرْمَتَيْنِ الِاثْنَتَيْنِ ، فَخُطُّوا وَسَطَهُ بِالسَّيْفِ " . ¤ قَالَ : وَكَتَبُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ بِمِثْلِ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُطَرِّفٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِفْدَةُ بْنُ قُضَاعَةَ ، وَثَّقَهُ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
صالح بن راشد قرشی بیان کرتے ہیں حجاج بن یوسف کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے اپنی بہن کے ساتھ زنا کیا تھا حجاج نے کہا: اسے قید کر دو اور یہاں جو صحابہ کرام موجود ہیں ان سے اس بارے میں دریافت کرو لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن ابومطرف رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دو حرمتوں کو پھیلانگے اسے درمیان میں سے تلوار کے ذریعے چیر دو “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی انہیں جواب میں اسی کی مانند لکھا جو سیدنا عبداللہ بن ابومطرف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رفدہ بن قضاعہ ہے ہشام بن عمار نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رفدہ بن قضاعہ ہے ہشام بن عمار نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10618
وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ ابْنِهِ أَنْ يَقْتُلَهُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ الْبَرَاءِ عَنْ عَمِّهِ ، وَعَنْهُ عَنْ خَالِهِ ، وَعَنْهُ عَنْ فَوَارِسَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي الْجَهْمِ وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَقَالَ : يَضْرِبُ عُنُقَهُ وَيَأْتِي بِرَأْسِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف کسی کو بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی کہ اسے قتل کر دے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت سنن میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر ہے جو ان کے چچا سے منقول ہے اور ان کے حوالے ان کے ماموں سے منقول ہے اور ان کے حوالے سے فوارس سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوجہم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں ان صاحب نے اس شخص کی گردن اڑا دی تھی اور اس کا سر لے کے آئے تھے ۔
یہ روایت سنن میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر ہے جو ان کے چچا سے منقول ہے اور ان کے حوالے ان کے ماموں سے منقول ہے اور ان کے حوالے سے فوارس سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوجہم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں ان صاحب نے اس شخص کی گردن اڑا دی تھی اور اس کا سر لے کے آئے تھے ۔
حدیث نمبر: 10619
وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : أَتَوْا قُبَّةً فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا فَقَتَلُوهُ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا رَجُلٌ دَخَلَ بِأُمِّ امْرَأَتِهِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَتَلُوهُ . هَكَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بیان کرتے ہیں وہ لوگ ایک خیمے میں آئے انہوں نے اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اسے قتل کر دیا میں نے دریافت کیا اس کا کیا معاملہ ہے لوگوں نے بتایا کہ اس شخص نے اپنی بیوی کی ماں کے ساتھ زنا کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف لوگوں کو بھیجا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10620
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ الْكُوفِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جو کسی محرم عورت کے ساتھ زنا کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یحیی بن حسان کوفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یحیی بن حسان کوفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 10621
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : كَانَ مِنَ الْحُفَّاظِ الرَّحَّالِينَ . وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِيسَى لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ” وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جو کسی محرم عورت کے ساتھ زنا کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید سے نقل کی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں وہ پائے کا نہیں ہے امام ذہبی کہتے ہیں وہ حافظان حدیث اور علم کے لئے سفر کرنے والوں میں سے ایک ہے ایک راوی عبدالعزیز بن عیسیٰ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید سے نقل کی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں وہ پائے کا نہیں ہے امام ذہبی کہتے ہیں وہ حافظان حدیث اور علم کے لئے سفر کرنے والوں میں سے ایک ہے ایک راوی عبدالعزیز بن عیسیٰ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔