کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جب حاکم کے سامنے حد ثابت ہو جائے ، اور پھر اس بارے میں سفارش کی جائے
حدیث نمبر: 10560
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَتَعَافَى النَّاسُ بَيْنَهُمْ فِي الْحُدُودِ مَا لَمْ تُرْفَعْ إِلَى الْحُكَّامِ ، فَإِذَا رُفِعَتْ إِلَى الْحُكَّامِ ، حُكِمَ بَيْنَهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کے درمیان آپس میں حدود والے معاملے کو نمٹا دیا کرو جب تک معاملہ حکام کے سامنے پیش نہیں ہوتا جب یہ حکام کے سامنے پیش ہو جائے ، تو پھر وہ حاکم لوگوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرے گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10561
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ خَالَتَهُ أُخْتَ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ حَدَّثَتْهُ : أَنَّ أَبَاهَا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ قَطِيفَةً : نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَنْ تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا " . فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا ، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ أَوْ مَنْ بَنِي أَسَدٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْهَا عَنْ أَبِيهَا ، وَهَذَا عَنْهَا نَفْسِهَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن یزید بن رکانہ بیان کرتے ہیں : ان کی خالہ جو مسعود بن عجماء کی بہن تھی انہوں نے ان صاحب کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ اس خاتون کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس مخزومی عورت کے بارے میں گزارش کی جس نے ایک چادر کی چوری کی تھی یہ گزارش کی کہ ہم اس کے بدلے میں فدیہ کے طور پر چالیس اوقیہ دے دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس کی تطہیر ہو لینے دو تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس کا تعلق بنو عبداشہل یا شاید بنواسعد سے تھا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے یہ روایت اس خاتون کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہاں یہ روایت اس خاتون کے حوالے سے نقل ہوئی ہے ، اور باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے یہ روایت اس خاتون کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہاں یہ روایت اس خاتون کے حوالے سے نقل ہوئی ہے ، اور باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 10562
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ ، قَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَايْمِ اللَّهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرِ إِلَّا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ الرَّازِيُّ ، وَخَالَفَهُ أَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ ، فَقَالُوا : عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : قریش ، مخزومی عورت کے معاملے میں پریشانی کا شکار ہو گئے جس نے چوری کی تھی لوگوں نے کہا: اس عورت کے بارے میں اللہ کے رسول کے ساتھ کون بات کرے گا لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے لوگ اس لئے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ جب ان میں نمایاں حیثیت کا کوئی شخص چوری کرتا تھا تو وہ لوگ اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تھا تو وہ لوگ اس پر حد جاری کر دیتے تھے اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد نے ( ایسا کیا ہوتا ) تو میں نے اس کا ہاتھ بھی کٹوا دینا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں عمر بن قیس ماصر کے حوالے سے
یہ روایت صرف عمرو بن ابوقیس رازی نے نقل کی ہے زہری کے شاگردوں نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی یہ زہری کے حوالے سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں عمر بن قیس ماصر کے حوالے سے
یہ روایت صرف عمرو بن ابوقیس رازی نے نقل کی ہے زہری کے شاگردوں نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی یہ زہری کے حوالے سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10563
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَقِيَ الزُّبَيْرُ سَارِقًا فَشَفَعَ فِيهِ فَقِيلَ لَهُ : حَتَّى نُبَلِّغَهُ الْإِمَامَ ، فَقَالَ : " إِذَا بُلِّغَ الْإِمَامُ فَلَعَنَ اللَّهُ الشَّافِعَ وَالْمُشَفَّعَ " . كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ایک چور سے ہوئی ۔ انہوں نے اس چور کے بارے میں سفارش کی ان سے کہا: گیا : ہم پہلے حاکم تک اسے پہنچا دیں انہوں نے فرمایا : جب یہ معاملہ حاکم تک پہنچ جائے گا ، تو اللہ تعالٰی سفارش کرنے والے اور جس کے سامنے سفارش کی گئی ( یا جس کے بارے میں سفارش کی گئی ) ان پر لعنت کرے “ ۔ یا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ انصاری ہے ۔ جسے امام ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ انصاری ہے ۔ جسے امام ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10564
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي مُلْكِهِ " . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَحْكَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ رَجَاءُ بْنُ صُبْحٍ صَاحِبُ السَّقْطِ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بن رہی ہو ، تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں اس کے خلاف کرتا ہے “ ۔
یہ روایت اس سے پہلے احکام سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رجاء بن صبح ہے ، جو ” صاحب سقط “ ہے ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت اس سے پہلے احکام سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رجاء بن صبح ہے ، جو ” صاحب سقط “ ہے ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 10565
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں رکاوٹ بن رہی ہو ، تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں اس کی خلاف ورزی کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر مدینی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر مدینی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10566
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ " . وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْأَحْكَامِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جس بھی شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بن رہی ہو ایسا شخص مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک وہ اس ( رکاوٹ بننے ) سے الگ نہیں ہو جاتا “ ۔ یہ مکمل روایت احکام سے متعلق باب میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10567
وَعَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِرَجُلٍ فَقَالُوا : إِنَّهُ قَدْ سَرَقَ جَمَلًا ، فَقَالَ : مَا أَرَاكَ سَرَقْتَ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَلَعَلَّهُ شُبِّهَ لَكَ ؟ قَالَ : بَلَى قَدْ سَرَقْتُ ، قَالَ : اذْهَبْ بِهِ يَا قُنْبُرُ ، فَشُدَّ أَصَابِعَهُ ، وَأَوْقِدِ النَّارَ وَادْعُ الْجَزَّارَ يَقْطَعْهُ ، ثُمَّ انْتَظِرْ حَتَّى أَجِيءَ لَكَ ، قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ قَالَ لَهُ : سَرَقْتَ ؟ قَالَ : لَا . فَتَرَكَهُ . ¤ قَالُوا لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، لِمَ تَرَكْتَهُ ، وَقَدْ أَقَرَّ لَكَ ؟ قَالَ : أَخَذْتُهُ بِقَوْلِهِ وَأَتْرُكُهُ بِقَوْلِهِ ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، ثُمَّ بَكَى فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِمَ تَبْكِي ؟ قَالَ : " فَكَيْفَ لَا أَبْكِي ، وَأُمَّتِي تُقْطَعُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " . ¤ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا عَفَوْتَ عَنْهُ ؟ قَالَ : " ذَاكَ سُلْطَانُ سُوءٍ الَّذِي يَعْفُو عَنِ الْحُدُودِ ، وَلَكِنْ تَعَافَوْا بَيْنَكُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَأَبُو مَطَرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ وَلَكِنَّ الرَّاوِيَ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
ابومطر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ۔ لوگوں نے بتایا : اس نے ایک اونٹ چوری کیا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے بارے میں میری یہ رائے نہیں ہے کہ تم نے چوری کی ہو گی ؟ اس نے کہا: جی ہاں ( میں نے چوری کی ہے ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہو سکتا ہے تمہیں کوئی شبہ لاحق ہو گیا ہو ۔ اس نے کہا: جی نہیں ! میں نے چوری کی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے قنبر ! تم اسے لے جاؤ اور اس کی انگلیاں باندھ دو اور آگ جلا دو اور قصائی کو بلا لو ، جو اس کو کاٹ دے پھر تم انتظار کرنا ، جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم نے چوری کی ہے ؟ تو اس نے کہا: جی نہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ لوگوں نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا ہے ؟ جبکہ وہ آپ کے سامنے اقرار کر چکا تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس کے قول کی بنیاد پر اسے پکڑا تھا ، اور اس کے قول کی بنیاد پر اسے چھوڑ دیا ہے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ، جس نے چوری کی تھی ۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ، پھر آپ رو پڑے ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں کیوں نہ روؤں ، جبکہ میری امت کے ایک فرد ( کے ہاتھ ) کو تمہارے درمیان کاٹا جا رہا ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اس سے درگزر کیوں نہیں کیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا شخص برا حکمران ہو گا ، جو حدود کے معاملے میں درگزر کرے تاہم تم آپس میں اسے معاف کر دیا کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ابومطر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اور اس سے روایت کرنے والے شخص سے بھی میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ابومطر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اور اس سے روایت کرنے والے شخص سے بھی میں واقف نہیں ہوں ۔