حدیث نمبر: 10556
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَعْدٌ غَيُورٌ ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " . ¤ قَالَ رَجُلٌ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يَغَارُ اللَّهُ ؟ قَالَ : " عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ النُّورِ - وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن شرحبيل بن سعید بن سعد بن عبادہ نے ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سعد غیور ہے میں اس سے زیادہ غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے ایک صاحب نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کسی چیز پر غیور ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس مجاہد کے حوالے سے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو ، اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی ( کے ساتھ برائی کرنے کی کوشش کی جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو سورہ نور کی تفسیر کے بارے میں ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو سورہ نور کی تفسیر کے بارے میں ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10557
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَنِسَاءَ الْغُزَاةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” غازیوں ( یعنی مجاہدین ) کی خواتین کے بارے میں احتیاط کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زربی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زربی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10558
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " مَنْ قَعَدَ عَلَى فِرَاشِ مُغَيَّبَةٍ قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ ثُعْبَانًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی عورت کے بچھونے پر بیٹھتا ہے ، جس کا شوہر موجود نہ ہو ، تو قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اُس شخص پر اژدھے کو مسلط کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 10559
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ عَلَى فِرَاشِ الْمُغَيَّبَةِ مَثَلُ الَّذِي نَهَشَهُ أَسْوَدُ مِنْ أَسَاوِدِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو شخص ایسی عورت کے بچھونے پر بیٹھتا ہے ، جس کا شوہر موجود نہ ہو اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جسے قیامت کے دن سیاہ سانپوں میں سے کوئی سانپ نوچ لے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔