حدیث نمبر: 10549
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ " . يَعْنِي وَلَدَ الزِّنَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَسْوَدَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ تینوں میں سب سے برا ہے جبکہ وہ اپنے ماں باپ کا سا عمل کرے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسود بن عامر کے حوالے سے ابراہیم بن اسحاق کے اسحاق نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسود بن عامر کے حوالے سے ابراہیم بن اسحاق کے اسحاق نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10550
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَمَنْدَلٌ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے جب وہ اپنے ماں باپ کا سا عمل کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اور ایک راوی مندل ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اور ایک راوی مندل ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 10551
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا ، فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا ، فَأَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ ، مُتَمَاسِكٌ أَمْرُهَا مَا لَمْ يَظْهَرْ . . . . " . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاحِ ، فَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ أَوْ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت اس وقت تک بھلائی پر گامزن رہے گی جب تک ان کے درمیان زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نہیں پھیل جائیں گے جب ان کے درمیان زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پھیل جائیں گے ، تو عنقریب اللہ تعالیٰ ان سب کو عمومی عذاب دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میری امت مسلسل بھلائی پر گامزن رہے گی اور وہ اپنے معاملے کو تھام کے رکھے گی جب تک ( ان کے درمیان زنا کرنے والے بچے ) ظاہر نہیں ہوں گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن لبیبہ ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، تو یہ حدیث صحیح یا حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میری امت مسلسل بھلائی پر گامزن رہے گی اور وہ اپنے معاملے کو تھام کے رکھے گی جب تک ( ان کے درمیان زنا کرنے والے بچے ) ظاہر نہیں ہوں گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن لبیبہ ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، تو یہ حدیث صحیح یا حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10552
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا مَنَّانٌ ، وَلَا وَلَدُ زَنْيَةٍ " . قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ : وَلَا وَلَدُ زَنْيَةٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابَانُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( والدین کا ) نافرمان شخص ، باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص ، احسان جتانے والا شخص اور زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے : ” زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابان ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے : ” زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابان ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10553
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَدْخُلُ وَلَدُ الزِّنَا الْجَنَّةَ ، وَلَا شَيْءٌ مِنْ نَسْلِهِ إِلَى سَبْعَةِ آبَاءٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اور اس کی نسل میں سے سات پشتوں تک کوئی جنت میں داخل نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن ادریس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن ادریس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10554
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَلَدُ الزِّنَا لَيْسَ عَلَيْهِ مِنْ إِثْمِ أَبَوَيْهِ شَيْءٌ " . ثُمَّ قَرَأَ : " وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پر اس کے ماں باپ کے گناہوں میں سے کوئی چیز لاگو نہیں ہو گی “ ۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد بن جعفر مدائنی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد بن جعفر مدائنی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10555
وَعَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْقُرَشِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ ، إِنَّ أَهْلَ الطَّفِّ لَا يُؤَدُّونَ زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ ، فَقَالَ : وَمَا كَانَ ؟ قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُ الْأَمِيرَ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ ، فَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ شُرَطَتِهِ فَقَالَ : ابْعَثْ إِلَى عَبْدِ الْقَيْسِ فَسَلْ عَنْ فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيهِمْ ، فَرَجَعَ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : وَجَدْتُهُ يُغْمَزُ فِي حَسَبِهِ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَبْغِي عَلَى النَّاسِ ، إِلَّا وَلَدُ بَغْيٍ ، وَإِلَّا مَنْ فِيهِ عِرْقٌ مِنْهُ " . ¤ وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ : " لَا يَسْعَى " بَدَلَ : " لَا يَبْغِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوولید قرشی بیان کرتے ہیں : میں بلال بن ابوبردہ کے پاس موجود تھا عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے طف کے رہنے والے لوگ اپنے اموال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : پھر کیا ہوا اس نے کہا: آپ یہ بات جانتے ہیں میں نے تو امیر کو اطلاع دی ہے ۔ انہوں نے کہا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اُس نے کہا: عبدالقیس قبیلے سے انہوں نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے اس نے بتایا : فلاں بن فلاں ہے ، تو بلال بن ابوبردہ نے اس کے علاقے کے کوتوال کو خط لکھا ، اور فرمایا : تم عبدالقیس قبیلے کی طرف کسی کو بھیج کر ان سے فلاں بن فلاں کے بارے میں دریافت کرو کہ ان کے درمیان اُس کا حسب کیسا ہے قاصد واپس آیا تو اس نے بتایا : میں نے یہ چیز پائی کہ اس شخص کے حسب پر نکتہ چینی کی جاتی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ اکبر ! میرے والد نے میرے دادا سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کے خلاف ( پوشیدہ امور ) کی تلاش صرف وہ کرے گا ، جو زنا کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو یا جس میں اس کا کچھ اثر ہو “ ۔ ابوالولید نامی راوی نے لا یبغی کی جگہ لفظ لا یعسی ( یعنی کوشش کرے گا ) کا لفظ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ولید قرشی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ولید قرشی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔