حدیث نمبر: 10543
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالْفَرْجُ يَزْنِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ : " وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ " . وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں دونوں پاؤں زنا کرتے ہیں ، اور شرمگاہ زنا کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور دونوں ہاتھ زنا کرتے ہیں “ ۔ امام بزار اور امام طبرانی دونوں کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور دونوں ہاتھ زنا کرتے ہیں “ ۔ امام بزار اور امام طبرانی دونوں کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 10544
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر آنکھ زنا کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10545
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ : حَدَّثَنِي جَدِّي ، سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَجَدُّ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن مطرف بیان کرتے ہیں : میرے دادا نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دونوں آنکھوں کا زنا ، دیکھنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن مطرف کے دادا سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن مطرف کے دادا سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10546
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ أَمِيرٌ فَصَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً ، كَأَنَّهَا صَلَاةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهَا فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ أَمْ شَيْءٌ تَنَفَّلْتَهُ ؟ قَالَ : إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ ، وَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَخْطَأْتُ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا سَهَوْتُ عَنْهُ . إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ ، فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارَاتِ وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ . ¤ ثُمَّ غَدَوْا مِنَ الْغَدِ فَقَالُوا : نَرْكَبُ فَنَنْظُرُ وَنَعْتَبِرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَرَكِبُوا جَمِيعًا فَإِذَا هُمْ بِدِيَارٍ قَفْرٍ ، قَدْ بَادَ أَهْلُهَا وَانْقَرَضُوا وَبَقِيَتْ خَاوِيَةً عَلَى عُرُوشِهَا ، فَقَالُوا : أَتَعْرِفُ هَذِهِ الدِّيَارَ ؟ قَالَ : مَا أَعْرَفَنِي بِهَا وَبِأَهْلِهَا ، هَؤُلَاءِ أَهْلُ دِيَارٍ أَهْلَكَهُمُ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ ، إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ ، وَالْبَغْيَ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ . وَالْعَيْنُ تَزْنِي وَالْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْيَدُ وَاللِّسَانُ ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سہل بن ابوامامہ بیان کرتے ہیں : وہ اور ان کے والد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے زمانے کی بات ہے وہ امیر تھے انہوں نے مختصر نماز پڑھائی یوں جیسے مسافر کی نماز ہو یا اس کے قریب کی نماز پڑھائی جب انہوں نے سلام پھیر دیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے کیا آپ نے فرض نماز ادا کی ہے یا آپ نے کوئی نفل نماز ادا کی ہے ۔ انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی اور یہ اللہ کے رسول کی نماز تھی میں نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور نہ ہی اس کے بارے میں بھول کا شکار ہوا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم اپنے اوپر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سختی مسلط کر دی ان لوگوں کے بقایا ( افراد ) گرجا گھروں اور عبادت خانوں میں باقی ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کیا تھا وہ ہم نے ان پر لازم نہیں کی تھی “ ۔ پھر جب اگلا دن آیا تو لوگوں نے کہا: اب ہم سوار ہو کر جائزہ لیں گے ، اور تحقیق کریں گے انہوں نے کہا: ٹھیک ہے پھر وہ سب لوگ سوار ہو گئے ، تو وہاں ایک ویرانہ تھا ، جہاں آبادی ختم ہو چکی تھی اور صرف کھنڈرات باقی رہ گئے تھے ، لوگوں نے کہا: کیا آپ اس جگہ کو پہچانتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اس جگہ اور یہاں کے رہنے والوں سے مجھ سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہے ، یہ اس علاقے کے لوگ ہیں ، جنہیں زنا اور حسد نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، بے شک حسد ، نیکیوں کو بجھا دیتا ہے ، اور سرکشی ، اس کی تصدیق کرتی ہے ، یا اس کی تکذیب کرتی ہے ، آنکھ زنا کرتی ہے ، ہتھیلی ، پاؤں ، ہاتھ اور زبان ( زنا کرتے ہیں ) اور شرمگاہ اُن کی تصدیق کرتی ہے یا اس کو جھٹلا دیتی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سعید بن عبدالرحمن بن ابوعمياء کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سعید بن عبدالرحمن بن ابوعمياء کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 10547
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ : إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا ، فَذَكَرَ ابْنَيْ صُورِيَا حِينَ أَتَاهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمَا : " بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، وَالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ ، وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى ، أَنْتُمْ أَعْلَمُ ؟ " . ¤ قَالَا : قَدْ نَحَلَنَا قَوْمُنَا ذَلِكَ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يُنَاشِدُنَا بِمِثْلِ هَذِهِ ، قَالَ : " تَجِدُونَ النَّظَرَ زَنْيَةً ، وَالِاعْتِنَاقَ زَنْيَةً ، وَالْقُبَلَ زَنْيَةً . . . . " فَذَكَرَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اگر تمہیں یہ ( مطلوبہ یا پسندیدہ ، حکم یا فیصلہ ) دیدیا جائے ، تو تم قبول کر لینا اور اگر تمہیں ( تمہارا مطلوبہ حکم یا فیصلہ ) نہیں دیا جاتا ، تو تم ( اس کو قبول کرنے سے ) پرہیز کرنا “ ۔ انہوں نے صوریا کے دو بیٹوں کا ذکر کیا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے تورات کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا اور جس نے سمندر کو چیر دیا ، اور اس ذات کی قسم ! جس نے تم لوگوں پر من و سلوی نازل کیا تم لوگ زیادہ بہتر جانتے ہو ۔ ان دونوں نے کہا: ہم اپنی قوم کو یہ عطیہ ( یا سہولت ) دیتے ہیں ، پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا: یہ ہمیں اس طرح کا واسطہ دے رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے یہ بات پائی ہے کہ دیکھنا بھی زنا ہے ، اور گلے لگانا بھی زنا ہے ، اور بوسہ لینا بھی زنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10548
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السِّحَاقُ بَيْنَ النِّسَاءِ زِنًا بَيْنَهُنَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سِحَاقُ النِّسَاءِ بَيْنَهُنَّ زِنًا " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کا ایک دوسرے سے جنسی تعلق زنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہی روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کا جنسی تعلق زنا ہے “ ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہی روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کا جنسی تعلق زنا ہے “ ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔