کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غزوہ تبوک کا بیان
حدیث نمبر: 10311
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : ¤ أَنَّهُ شَهِدَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَيَّامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّدَقَةِ وَالْقُوَّةِ وَالتَّأَسِّي وَكَانَتْ نَصَارَى الْعَرَبِ كَتَبَتْ إِلَى هِرَقْلَ : إِنَّ هَذَا الَّذِي خَرَجَ يَنْتَحِلُ النُّبُوَّةَ قَدْ هَلَكَ وَأَصَابَتْهُ سِنُونُ فَهَلَكَتْ أَمْوَالُهُمْ ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَلْحَقَ دِينَكَ فَالْآنَ ، فَبَعَثَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يُقَالُ لَهُ : الضِّنَادُ ، وَجَهَّزَ مَعَهُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ فِي الْعَرَبِ ، وَكَانَ يَجْلِسُ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ فَيَدْعُو وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ " فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ قُوَّةٌ . ¤ وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ جَهَّزَ عِيرًا إِلَى الشَّامِ يُرِيدُ أَنْ يَمْتَارَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَقْتَابِهَا وَأَحْلَاسِهَا وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَبَّرَ النَّاسُ [ ثُمَّ قَامَ مَقَامًا آخَرَ ،وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ ، فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،وَهَاتَا مِائَتَانِ وَمَائَتَا أُوقِيَّةٍ ، ،فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ ] وَأَتَى عُثْمَانُ بِالْإِبِلِ وَأَتَى بِالصَّدَقَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا يَضُرُّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر جسے جیش عسرت کہا: جاتا ہے وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کی قوت فراہم کرنے اور ساتھ دینے کا حکم دیا کیونکہ عربوں کے عیسائیوں نے ہرقل کو خط لکھا تھا کہ یہ صاحب جو نکلے ہیں ، جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ، اور انہیں قحط سالی لاحق ہو گئی ہے ، جس کی وجہ سے ان کے اموال ہلاک ہو گئے ہیں ، تو اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے دین کو بچا لو تو اب یہ موقع ہے ، تو ہرقل نے اپنے بڑے سرداروں میں سے ایک سردار کو بھیجا جس کا نام ضنا تھا اس نے اس سردار کے ساتھ چالیس ہزار افراد بھی بھیجے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے عربوں کے مختلف علاقوں میں مکتوب بھجوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے اے اللہ اگر ( مسلمانوں کے ) اس گروہ کو تو نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی اس وقت لوگوں کے پاس قوت نہیں تھی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف ایک قافلہ بھیجا ہوا تھا وہ یہ چاہتے تھے کہ اس کے ذریعے اناج حاصل کریں گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دو سو اونٹ ہیں یہ اپنے پالانوں اور کپڑوں سمیت ( میں نذر کرتا ہوں ) اور اس کے ساتھ دو سو اوقیہ ( چاندی ) ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور لوگوں نے تکبیر کہی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کھڑے ہوئے آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دو سو ( اونٹ ہیں ) اور دو سو اوقیہ ( چاندی ) ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کی لوگوں نے بھی نعرہ تکبیر لگایا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اونٹ لے کر آئے ، اور صدقہ ( کی رقم ) لے کر آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ” عثمان کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اگر وہ آج کے بعد کوئی عمل نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10311
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (231/18)»
حدیث نمبر: 10312
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ [ وَكُنْتُ ] عَلَى خِدْمَتِهِ ذَلِكَ السَّفَرَ ، فَنَظَرْتُ إِلَى نِحْيِ السَّمْنِ قَدْ قَلَّ مَا فِيهِ ، وَهَيَّأْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا فَوَضَعْتُ السَّمْنَ فِي الشَّمْسِ وَنِمْتُ ، فَانْتَبَهْتُ بِخَرِيرِ النِّحْيِ ، فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ بِيَدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَآنِي : " لَوْ تَرَكْتَهُ لَسَالَ وَادِيًا سَمْنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ إِحْدَاهُمَا فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ ، وَرِجَالُهُمَا وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے اس سفر کے دوران میں آپ کی خدمت پر مامور تھا میں نے گھی کے برتن میں دیکھا کہ اس میں گھی کم ہو چکا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا پھر میں نے گھی کو دھوپ میں رکھ دیا ، اور میں سو گیا میں اس وقت بیدار ہوا جب اس برتن میں سے آواز آئی تو میں اٹھا میں نے اس کا سرا اپنے ہاتھ سے پکڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملاحظہ فرما رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو پوری وادی میں گھی بہہ رہا ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک سند کے ساتھ یہ علامات نبوت سے متعلق باب میں آگے آئے گی اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10312
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2992)»
حدیث نمبر: 10313
وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ قَالَ : كُنَّا فِي مَسِيرٍ وَإِلَى جَنْبِي رَجُلٌ أَزْحَمُهُ بِاللَّيْلِ وَلَا أَعْرِفُهُ ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : أَبُو رُهْمٍ ، قَالَ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ الطِّوَالُ الْجِعَادُ الْأُدْمُ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ؟ هَلْ مَعَنَا مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ أَحَدٌ ؟ " قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَمَا فَعَلَ النَّفَرُ الْأُدْمُ الْقِصَارُ الْخُنَّسُ مِنْ أَسْلَمَ ؟ هَلْ مَعَنَا مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ أَحَدٌ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَمَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الثِّطَاطُ ؟ هَلْ مَعَنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " مَا مِنْ أَهْلِي أَحَدٌ أَعَزُّ عَلَيَّ مُخَلَّفًا مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ وَأَسْلَمَ وَغِفَارٍ ، فَمَا يَمْنَعُ أَحَدَهُمْ إِذَا تَخَلَّفَ أَنْ يَفْقِرَ الْبَعِيرَ مِنْ إِبِلِهِ ، فَيَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْخَارِجِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِ ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سفر کر رہے تھے میرے پہلو میں کوئی صاحب تھے جو رات کے وقت میرے پاس آ جاتے تھے میں انہیں پہچانتا نہیں تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : ابورہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان افراد کا کیا بنا جو طویل قد کے گھنگھریالے بالوں والے گندمی رنگت والے ہیں ، جن کا تعلق بنو غفار سے ہے کیا اس چلنے کے دوران ان میں سے کوئی ایک ہمارے ساتھ ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جو گندمی رنگت والے چھوٹے قد کے بیٹھے ہوئے ناک والے ہیں ، جن کا تعلق اسلم قبیلے سے ہے کیا ان میں سے کوئی ہمارے ساتھ چل رہا ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جو سرخ رنگ کے مالک ہیں ، اور جن کی داڑھی ہلکی ہوتی ہے کیا ان میں سے کوئی ایک شخص ہمارے ساتھ چل رہا ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے اہلخانہ میں سے کسی کا مجھ سے پیچھے رہ جانا اتنا زیادہ گراں نہیں ہے جتنا گراں قریش یا انصار یا اسلم یا غفار قبیلے کے لوگوں میں سے کسی کا پیچھے رہ جانا ( مجھ پر گراں گزرتا ہے ) جب ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ گیا ہو ، تو اس کے لئے اس کام میں کیا رکاوٹ ہے کہ وہ اپنے اونٹوں میں سے کوئی اونٹ عارضی استعمال کے لئے کسی کو دیدے تو اسے جانے والے شخص کی مانند اجر مل جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں دونوں اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10313
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10314
وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ - قَالَ : ¤ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ ، فَلَمَّا فَصَلَ سَرَى لَيْلَةً فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ ، وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا ; خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَأُؤَخِّرَ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي نِصْفَ اللَّيْلِ ، فَرَكِبَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ ، وَرِجْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ : " حِسَّ " . فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَقُلْتُ : اسْتَغْفِرْ لِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " سَلْ " . فَطَفِقَ يَسْأَلُنِي عَنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُنِي : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الطِّوَالُ الثِّطَاطُ أَوِ الْقِصَارُ - عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَشُكُّ - الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَظِيَّةِ شَرْخٍ ؟ " . فَذَكَرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَمْنَعُ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّيَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ . ¤
محمد محی الدین
ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کی بیعت کی تھی وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے ذرا ہٹ گئے ، اور آپ رات بھر چلتے رہے میں بھی آپ کے قریب چلتا رہا پھر مجھے اونگھ آنے لگی پھر میری آنکھ کھل جاتی تھی میں نے دیکھا کہ میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہو گئی ہے آپ کے زیادہ قریب ہونے نے مجھے پریشان کر دیا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں رکاب میں موجود آپ کے پاؤں کو تکلیف نہ پہنچا دوں تو میں نے اپنی سواری کو پیچھے کر لیا ، یہاں تک کہ نصف رات کے وقت میری آنکھ لگ گئی پھر میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہونے لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں رکاب میں تھا آپ کے پاؤں کو تکلیف پہنچی تو میں آپ کے ان الفاظ پر بیدار ہوا : ارے ، میں نے سر اٹھایا پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کچھ پوچھو ( یا تم کچھ مانگو ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بنوغفار کے بارے میں دریافت کرنا شروع کیا میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا پھر آپ نے مجھ سے دریافت کیا : ان لوگوں کا کیا حال ہے ، جو سرخ رنگ کے مالک ، طویل قد والے ہیں ، ان کے بال چھوٹے ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تھوڑے بالوں والے ہیں ، یہ شک عبدالرزاق نامی راوی کو ہے ، وہ لوگ جن کے ” شظیہ شرخ “ میں جانور ہیں ، میں نے بنوغفار کے بارے میں ان کا ذکر کیا لیکن مجھے یاد نہیں آ سکا ، یہاں تک کہ مجھے اسلم قبیلے کے لوگوں کا خیال آیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( یہاں شاید کچھ الفاظ نقل ہونے سے رہ گئے ہیں ، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ) ان میں سے کوئی ایک شخص جب پیچھے رہ جاتا ہے ، تو اس کے لئے کیا رکاوٹ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والے کسی شخص کو اپنا اونٹ سواری کے لئے دیدے اور میرے گھر والوں میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ گراں یہ بات ہے کہ مہاجرین مجھ سے پیچھے رہ جائیں ، جن کا تعلق قریش سے ہے یا انصار یا اسلم قبیلے کے لوگ یا غفار قبیلے کے لوگ پیچھے رہ جائیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10314
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (19094)»
حدیث نمبر: 10315
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْقِصَارُ السُّودُ الْجِعَادُ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُولَئِكَ خُلَفَاءُ فِينَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " سِرْ " بَدَلَ : " سَلْ " . وَقَالَ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّوَادُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ ؟ " . قَالَ : فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ وَقَدْ تَخَلَّفُوا . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَنَعَ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَالْأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ . ¤ فِي إِسْنَادِهِمَا ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں کا کیا بنا جن کے قد چھوٹے ہیں رنگ سیاہ ہیں ، اور بال بکھرے ہوئے ہیں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ ہم سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ ” تم کچھ مانگ لو “ کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ” تم چلتے رہو “ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جن کے رنگ سیاہ ہیں بال بکھرے ہوئے ہیں قد چھوٹے ہیں ، جن کے ” شبکہ شرخ “ میں جانور ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے بنو غفار میں ایسے لوگوں کو سوچنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے یاد نہیں آئے ، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال آ گیا کہ یہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو پیچھے رہ چکے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں سے کسی ایک کے لئے کیا رکاوٹ تھی کہ جب وہ پیچھے رہ گیا تھا تو وہ اپنا اونٹ کسی ایسے شخص کو سواری کے لئے دے دیتا جو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے تازہ دم ہو میرے اہلخانہ میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ گراں یہ بات ہے کہ مہاجرین جن کا تعلق قریش سے ہے وہ یا انصار یا اسلم یا غفار سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے پیچھے رہ جائے ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10315
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (183/19) اخرجه احمد فى المسند (19096)»
حدیث نمبر: 10316
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ قَالَ : تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَرَأَيْتُ عَرِيشًا قَدْ رُشَّ بِالْمَاءِ ، وَرَأَيْتُ زَوْجَتِي فَقُلْتُ : مَا هَذَا بِالْإِنْصَافِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّمُومِ وَالْحَمِيمِ ، وَأَنَا فِي الظِّلِّ وَالنَّعِيمِ ، فَقُمْتُ إِلَى نَاضِحٍ فَاحْتَقَبْتُهُ ، وَإِلَى تَمَرَاتٍ فَتَزَوَّدْتُهَا ، فَنَادَتْ زَوْجَتِي إِلَيَّ : أَيْنَ يَا أَبَا خُثَيْمَةَ ؟ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ لَقِيَنِي عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ رَجُلٌ جَرِيءٌ وَإِنِّي أَعْرِفُ ، جِئْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي امْرُؤٌ مُذْنِبٌ ، فَتَخَلَّفْ عَنِّي حَتَّى أَخْلُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَتَخَلَّفَ عَنِّي عُمَيْرٌ ، فَلَمَّا طَلَعْتُ عَلَى الْعَسْكَرِ فَرَآنِي النَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُنْ أَبَا خُثَيْمَةَ " فَجِئْتُ فَقُلْتُ : كِدْتُ أَهْلَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرًا وَدَعَا لِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا میں باغ میں داخل ہوا اور میں نے وہاں چھپر دیکھا جس پر پانی چھڑکا گیا تھا میں نے اپنی بیوی کو دیکھا تو میں نے کہا: یہ انصاف کی بات نہیں ہے اللہ کے رسول تو گرمی میں ہوں ، اور میں سائے ، اور نعمتوں میں ہوں پھر میں اٹھ کر اپنے اونٹ کی طرف بڑھا میں نے اس کو تیار کیا پھر میں پھلوں کی طرف گیا انہیں میں نے زاد راہ کے طور پر ساتھ لیا میری بیوی نے مجھ سے پوچھا: اے ابوخیثمہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا راستے میں کسی جگہ پر عمیر کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو میں نے کہا: تم ایک جرات مند شخص ہو مجھے یہ بات پتہ ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں ، اور گناہگار شخص ہوں ، اور تم مجھ سے پیچھے رہ جاؤ گے ، یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ جاؤں گا ، تو عمیر نے مجھے چھوڑ دیا جب میں لشکر کے قریب پہنچا لوگوں نے مجھے دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ابوخیثمہ ہو جب میں آیا تو میں نے عرض کی : یا رسول الله ! قریب تھا کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاتا پھر میں نے آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں بھلائی کے کلمات ارشاد فرمائے ، اور مجھے دعائیں دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10316
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5419)»
حدیث نمبر: 10317
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ فَجَهِدَ الظَّهْرُ جَهْدًا شَدِيدًا ، فَشَكَوْا إِلَيْهِ ذَلِكَ ، قَالَ : وَرَآهُمْ رِجَالًا لَا يُرَوِّحُونَ ظَهْرَهُمْ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَضِيقٍ يَمُرُّ النَّاسُ فِيهِ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ فَنَفَخَ فِيهَا نَفْخَةً ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكَ ، فَإِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ وَالرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ " . ¤ قَالَ : فَاسْتَمَرَّتْ فَمَا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ إِلَّا وَهِيَ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے گئے اس وقت سواریاں کم تھیں لوگوں نے اس بات کی شکایت آپ سے کی راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ملاحظہ فرمایا کہ ان کے پاس سواریاں نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تنگ جگہ کو دیکھا جہاں سے لوگ گزر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہر گئے لوگ وہاں سے گزرنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پھونک ماری اور پھر یہ دعا کی اے اللہ اپنی راہ میں ان لوگوں کو سواریاں فراہم کر کیونکہ تو ہی ہر طاقتور اور کمزور کو خشک اور تر کو خشکی اور سمندروں میں سواری فراہم کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سواریاں چلنے لگیں اور مدینہ منورہ تک ہماری یہ حالت تھی کہ ہم سواریوں کو کھینچ کھینچ کے روکتے تھے ( اور وہ تیز رفتاری سے چل رہی ہوتی تھیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10317
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1840) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (300/18)»
حدیث نمبر: 10318
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا مَرَّ بِالْجُلَيْحَةِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ ، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : الْمَبْرَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الظِّلُّ وَالْمَاءُ ، وَكَانَ فِيهَا دَوْمٌ وَمَاءٌ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا أَرْضُ زَرْعٍ وَتَبْرُدُ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ " - يَعْنِي نَاقَتَهُ - فَأَقْبَلَتْ حَتَّى بَرَكَتْ تَحْتَ الدَّوْمَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي مَسْجِدِ ذِي الْمَرْوَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تبوک کی طرف اپنے سفر کے دوران جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” جلیحہ “ کے مقام سے گزرے تو آپ کے ساتھیوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہاں ٹھہر جاتے ہیں یہاں سایہ بھی ہے ، اور پانی بھی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس جگہ پر بارش بھی تھا ، اور پانی بھی تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کھیتی باڑی کی اور ٹھنڈک کی جگہ ہے تم اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ حکم کی پابند ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنی اونٹنی تھی وہ اونٹنی چلتی رہی ، یہاں تک کہ وہ مسجد ذی مروہ میں موجود ” دومتہ“ کے نیچے بیٹھ گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10318
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10319
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزْوَةَ تَبُوكَ ، قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کا ارادہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10319
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 10320
وَعَنْ أَبِي الشُّمُوسِ الْبَلَوِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَصْحَابَهُ يَوْمَ الْحِجْرِ عَنْ بِئْرِهِمْ ، فَأَلْقَى ذُو الْعَجِينِ عَجِينَهُ ، وَذُو الْحَيْسِ حَيْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ فِي الشَّيْءِ بَعْدَ الشَّيْءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوشموس بلوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وادی حجر سے گزرنے کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو وہاں کے کنویں ( کا پانی استعمال کرنے ) سے منع کر دیا تھا تو جس شخص نے آٹا گوندھا ہوا تھا اس نے اپنا آٹا پھینک دیا ، اور جس شخص نے حیس تیار کیا تھا اس نے حیس پھینک دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں یہ ایک چیز کے بعد دوسری چیز میں غلطی کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10320
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (329/22)»
حدیث نمبر: 10321
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحِجْرِ ، وَاسْتَقَى النَّاسُ مِنْ بِئْرِهِمْ ، ثُمَّ رَاحَ مِنْهَا فَلَمَّا اسْتَقَرَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يَشْرَبُوا مِنْ مَائِهَا ، وَلَا يَتَوَضَّئُوا مِنْهَا ، وَمَا كَانَ مِنْ عَجِينٍ عُجِنَ مِنْ مَائِهَا أَنْ يُعْلَفَ ، فَفَعَلَ النَّاسُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر نامی جگہ پر پڑاؤ کیا لوگوں نے وہاں کے کنویں سے پانی حاصل کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے جب آپ وہاں ٹھہرے تو آپ نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہاں کے پانی کو نہیں پینا اور اس پانی کے ذریعے وضو نہیں کرنا اور وہاں کے پانی کے ذریعے جو آٹا گوندھا گیا تھا اسے جانوروں کو کھلا دیا جائے ، تو لوگوں نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشیر دمشقی ہے ۔ جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10321
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10322
10322- (کتاب میں حدیث موجود نہیں ہے )
محمد محی الدین
(کتاب میں ترجمہ موجود نہیں ہے)
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10322
حدیث نمبر: 10323
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَأَتَوْا عَلَى وَادٍ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ بِوَادٍ مَلْعُونٍ ; فَأَسْرِعُوا " . فَرَكِبَ فَرَسَهُ فَدَفَعَ وَدَفَعَ النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنِ اعْتَجَنَ عَجِينَهُ ، أَوْ مَنْ كَانَ طَبَخَ قِدْرًا فَلْيَكُبَّهَا " . ثُمَّ سِرْنَا ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ فَيَعْبَأُ اللَّهُ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ صَخْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ لوگ ایک وادی میں پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم لوگ ایک ملعون وادی میں ہو ، تو تیزی سے چلو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے ، اور وہاں سے نکل گئے لوگ بھی وہاں سے نکل گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے وہاں آٹا گوندھا تھا یا جس نے ہنڈیا پکائی تھی تو وہ اس کو پھینک دے پھر ہم روانہ ہوئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آج کے دن جو بھی شخص زندہ ہے ٹھیک ایک سو سال گزرنے کے بعد اگر کوئی ایسا شخص زندہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قدامہ بن صخر ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10323
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1843)»
حدیث نمبر: 10324
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَاهُمْ يَوْمَ وَرَدَ ثَمُودَ عَنْ رَكِيَّةٍ عِنْدَ جَانِبِ الْمَدِينَةِ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهَا أَحَدٌ أَوْ يَسْتَقِيَ ، وَنَهَانَا أَنْ نَتَوَلَّجَ بُيُوتَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم ثمود کے علاقے میں پہنچنے کے دن ان لوگوں کو اس کنویں کا پانی استعمال کرنے سے منع کیا تھا جو شہر کے ایک طرف تھا کہ کوئی شخص اس میں سے پی لے یا پینے کے لئے حاصل کر لے اور آپ نے ہمیں اس بات سے منع کیا تھا کہ ہم ان لوگوں کے گھروں میں داخل ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10324
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1846)»
حدیث نمبر: 10325
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ : لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَرْضِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَى النَّاسَ : " الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ " قَالَ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : ¤ " مَا يَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ؟ " فَنَادَاهُ رَجُلٌ : نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ؟ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ ، فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا ، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ حجر والوں کی سرزمین پر داخل ہونے میں جلدی کرنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے لوگوں میں یہ اعلان کروایا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا ، اور آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : تم ایک ایسی قوم پر داخل ہونا چاہتے ہو جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب ( نازل ) کیا تھا تو ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا یا رسول اللہ ہم ان پر حیران ہو رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے زیادہ حیران کن چیز کے بارے میں نہ بتاؤں تم لوگوں میں سے ایک شخص تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتا ہے ، جو تم سے پہلے ہوئی تھی اور جو تمہارے بعد ہو گی تو تم لوگ سیدھے رہو ، اور درست رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کے حوالے سے کسی چیز کی پرواہ نہیں کرے گا اور عنقریب ایسے لوگ آ جائیں گے ، جو اپنے آپ سے کسی چیز کو پرے نہیں کر سکیں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10325
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (231/4)»
حدیث نمبر: 10326
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَسْأَلُوا عَنِ الْآيَاتِ - أَوْ : لَا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمُ الْآيَاتِ - فَإِنَّ قَوْمَ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ أَنْ يَبْعَثَ لَهُمْ آيَةً فَبَعَثَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُمُ النَّاقَةَ ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَتَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمَ وِرْدِهَا ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوا النَّاقَةَ ، فَقِيلَ لَهُمْ : ( تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ) ، أَوْ قِيلَ لَهُمْ : إِنَّ الْعَذَابَ يَأْتِيكُمْ إِلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ . ثُمَّ جَاءَتْهُمُ الصَّيْحَةُ فَأَهْلَكَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ فَمَنَعَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : " أَبُو رِغَالٍ " . قِيلَ : وَمَنْ أَبُو رِغَالٍ ؟ قَالَ : " جَدُّ ثَقِيفٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَيَأْتِي لَفْظُهُ فِي سُورَةِ هُودٍ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ نشانیوں کے بارے میں سوال نہ کرو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم لوگ اپنے نبی سے نشانیوں کا سوال نہ کرو کیونکہ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے کوئی نشانی لے کر آئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے اونٹنی کو بھیجا وہ اس راستے سے آتی تھی اور اپنے آنے کے مخصوص دن ان لوگوں کا پانی پیتی تھی اور پھر اس راستے سے واپس چلی جاتی تھی ان لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی اور اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے تو ان سے یہ کہا: گیا کہ تم تین دن تک اپنے علاقے میں بچے رہو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان سے یہ کہا: گیا تین دن تک عذاب تمہارے پاس آ جائے گا پھر ایک زبردست آواز ان کے پاس آئی ، تو اللہ تعالیٰ نے زمین کے مشرقی حصوں اور مغربی حصوں میں موجود ان کے افراد کو ہلاکت کا شکار کر دیا صرف ایک شخص بچ گیا تھا جو حرم کی حدود میں موجود تھا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اسے لاحق نہیں ہوا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابورغال عرض کی گئی : ابورغال کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ثقیف قبیلے کا جد امجد “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ان کے الفاظ سورہ ہود سے متعلق باب میں آگے آئیں گے امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10326
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1844) اخرجه احمد فى المسند (296/3)»
حدیث نمبر: 10327
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : حَدِّثْنَا عَنْ شَأْنِ الْعُسْرَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ شَدِيدٌ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا يَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْخَلَاءَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى يَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ تَنْقَطِعُ ، وَحَتَّى إِنِ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبَهُ ، وَيَضَعَهُ عَلَى بَطْنِهِ . ¤ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا فَادْعُ اللَّهَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتُحِبُّ ذَلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ فَلَمْ يَرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ : فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَكَبَتْ ، فَمَلَئُوا مَا مَعَهُمْ ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَاوَزَتِ الْعَسْكَرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں بتائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کی طرف روانہ ہوئے یہ شدید گرمی کا موسم تھا ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں ہمیں شدید پیاس لاحق ہو چکی تھی ، یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی ، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کے لئے جاتا تھا تو واپس آنے سے پہلے اسے یہ لگتا تھا کہ اس کی گردن کٹ جائے گی ، یہاں تک کہ جب کوئی شخص اپنا اونٹ ذبح کرتا تھا تو وہ اس کی لید کو نچوڑ لیتا تھا ، اور اسے پی لیتا تھا ، اور اسے اپنے پیٹ پر رکھ لیتا تھا ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا میں برکت رکھی ہے تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوبکر کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے ابھی آپ کے ہاتھ نیچے نہیں آئے تھے کہ آسمان سے بارش نازل ہونے لگی اور اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں پھر ہم نے جائزہ لیا تو ہمیں پتہ چلا کہ شکر والے علاقے کے علاوہ کہیں بارش نہیں ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10327
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1841)»
حدیث نمبر: 10328
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً [ الَّذِي يَرُدُّهُ ] ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ : " أَنْ لَا يَسْبِقَنِي فِي الْمَاءِ أَحَدٌ " . فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ کو یہ اطلاع ملی کہ پانی کم ہے اس جگہ پر جہاں لوگ آ گئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ مجھ سے پہلے پانی تک کوئی نہ پہنچے تو کچھ لوگ آپ سے پہلے اس تک پہنچ چکے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10328
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1845) اخرجه احمد فى المسند (400/5)»
حدیث نمبر: 10329
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذٌ الْعَقَبَةَ فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ . فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُودُهُ عَمَّارٌ ، وَيَسُوقُهُ حُذَيْفَةُ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ حَتَّى غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وَجُوهُ الرَّوَاحِلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحُذَيْفَةَ : " قَدْ قَدْ " . حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ . فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ ، هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ ؟ " قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ ، وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا ؟ " قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَطْرَحُوهُ " . ¤ قَالَ : فَسَارَّ عَمَّارٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ مَا كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ ؟ قَالَ : أَرْبَعَةَ عَشَرَ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ . ¤ فَعَذَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ ثَلَاثَةً ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، وَالْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ . ¤ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ : وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلنَّاسِ ، وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنَادِيًا فَنَادَى : لَا يَرِدُ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ رَهْطًا قَدْ وَرَدُوهُ قَبْلَهُ ، فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے جا رہے تھے ، تو آپ نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ اللہ کے رسول گھاٹی کی طرف جا رہے ہیں ، تو کوئی شخص اس طرف نہ جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جا رہے تھے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آپ کے جانور کو لے کے چل رہے تھے اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اسے ہانک رہے تھے اسی دوران کچھ لوگ آئے جو مختلف سواریوں پر سوار تھے اور انہوں نے ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے ان لوگوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور کو لے کے چل رہے تھے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی سواریوں کے چہروں پر مارنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم لے کے چلو تم لے کے چلو یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اتر آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اتر آئے ، تو آپ نے پڑاؤ کیا سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس آ گئے آپ نے دریافت کیا : اے عمار کیا تم ان لوگوں کو پہچانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں ان کی زیادہ تر سواریوں کو پہچان لوں گا لیکن لوگوں نے منہ پر کپڑا لیا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو ان کا ارادہ کیا تھا ۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو ایک طرف لے جائیں اور انہیں شہید کر دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ( بعد کے زمانے میں ) ایک مرتبہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا ایک صحابی کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اس موقع پر گھاٹی میں آنے والے افراد کتنے تھے اس نے جواب دیا چودہ افراد تھے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان میں سے ایک تھے ، تو پھر وہ پندرہ ہوں گے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تین افراد کو معذور قرار دے دیا تھا انہوں نے یہ عرض کی تھی : اللہ کی قسم ہم نے اللہ کے رسول کے منادی کی بات نہیں سنی تھی اور ہمیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ دوسرے لوگوں کا کیا ارادہ ہے ۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے جو باقی کے بارہ افراد تھے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیاوی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور اس دن بھی جنگ کی جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔ ابوالولید کہتے ہیں ابوطفیل نے اس غزوہ میں یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی تھی یا آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ یہاں پانی کم ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو یہ حکم دیا تھا تو اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ اللہ کے رسول سے پہلے کوئی پانی تک نہ جائے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی تک پہنچے تو آپ نے کچھ لوگوں کو پایا کہ وہ آپ سے پہلے وہاں تک پہنچ چکے تھے ، تو اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10329
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (453/5)»