حدیث نمبر: 10330
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ كَانَ يَهْجُو النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ خَمْسَةَ نَفَرٍ ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ فِي مَجْلِسِ قَوْمِهِ فِي الْعَوَالِي ، فَلَمَّا رَآهُمْ ذُعِرَ مِنْهُمْ ، قَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَا إِلَيْكَ لِحَاجَةٍ ، قَالَ : فَلْيَدْنُ إِلَيَّ بَعْضُكُمْ فَلْيُحَدِّثْنِي بِحَاجَتِهِ ، فَدَنَا مِنْهُ بَعْضُهُمْ ، فَقَالُوا : جِئْنَاكَ لِنَبِيعَكَ أَدْرُعًا لَنَا ، قَالَ : وَوَاللَّهِ إِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ جَهِدْتُمْ مُنْذُ نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، أَوْ قَالَ : بِكُمْ . فَوَاعَدُوهُ أَنْ يَأْتُوهُ بَعْدَ هَدْأَةٍ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَجَاءُوهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : مَا جَاءَكَ هَؤُلَاءِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لِشَيْءٍ مِمَّا تُحِبُّ ، قَالَ : إِنَّهُمْ قَدْ حَدَّثُونِي بِحَاجَتِهِمْ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُمُ اعْتَنَقَهُ أَبُو عَبْسٍ ، وَعَلَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بِالسَّيْفِ ، وَطَعَنَهُ فِي خَاصِرَتِهِ فَقَتَلُوهُ . ¤ فَلَمَّا أَصْبَحَتِ الْيَهُودُ غَدَوْا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَّرَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كَانَ يَهْجُوهُ فِي أَشْعَارِهِ ، وَمَا كَانَ يُؤْذِيهِ ، ثُمَّ دَعَاهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا . قَالَ : فَكَانَ ذَلِكَ الْكِتَابُ مَعَ عَلِيٍّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کی طرف پانچ افراد بھیجیں وہ لوگ اس کے پاس آئے وہ اس وقت نواحی علاقے میں اپنی قوم کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا جب اس نے ان لوگوں کو دیکھا کہ تو ان کے حوالے سے پریشان ہو گیا اس نے دریافت کیا : تم لوگ کس وجہ سے آئے ہو انہوں نے بتایا ہم ضرورت کی وجہ سے تمہارے پاس آئے ہیں اس نے کہا: تم میں سے کوئی ایک میرے قریب آ جائے ، اور اپنی ضرورت کے حوالے سے میرے ساتھ بات چیت کرے ان لوگوں میں سے ایک اس کے قریب ہو گیا ان لوگوں نے یہ ظاہر کیا کہ ہم تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ اپنی زرہیں تمہیں فروخت کر دیں اس نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم یہ کرنا چاہتے ہو ، تو بات یہ ہے کہ جب سے یہ صاحب تمہارے درمیان آئے ہیں تم لوگ مسلسل مشقت کا شکار ہو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر ان لوگوں نے اس کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ رات ہو جانے کے بعد اس کے پاس آئیں گے جب وہ لوگ اس کے پاس آئے ، تو وہ اٹھ کر ان کی طرف جانے لگا اس کی بیوی نے اس سے کہا: یہ لوگ اس وقت میں تمہارے پاس کسی ایسی چیز کی وجہ سے نہیں آئے ہوں گے ، جو تمہیں پسند ہو ۔ اس نے کہا: ان لوگوں نے اپنے حاجت مند ہونے کے بارے میں مجھے بتا دیا ہوا ہے جب وہ ان لوگوں کے قریب ہوا تو سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن پکڑ لی اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ذریعے اس پر وار کیا ۔ انہوں نے اس کے پہلو میں تلوار مار کر اسے قتل کر دیا صبح کے وقت یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ وہ اپنے اشعار میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو یہ دعوت دی کہ آپ اپنے اور ان لوگوں کے درمیان کوئی معاہدہ تحریر کروا لیتے ہیں راوی کہتے ہیں : وہ تحریر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10331
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ثُمَّ وَجَّهَهُمْ ، وَقَالَ : " انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ " . يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا وَجَّهَ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَأَصْحَابَهُ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ لِيَقْتُلُوهُ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِهِ . وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے بقیع غرقد کی طرف جا رہے تھے پھر آپ نے ان لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا : تم اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ اے اللہ تو ان کی مدد کرنا راوی کہتے ہیں : یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے یہ فرمایا تھا جنہیں آپ نے کعب بن اشرف کی طرف بھجوایا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو کعب بن اشرف کی طرف بھجوایا تھا تاکہ وہ اسے قتل کر دیں ( اس وقت یہ واقعہ پیش آیا ) باقی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لے آئے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو کعب بن اشرف کی طرف بھجوایا تھا تاکہ وہ اسے قتل کر دیں ( اس وقت یہ واقعہ پیش آیا ) باقی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لے آئے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10332
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ : كَانَ كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَ أَبِي وَدَاعَةَ بِمَكَّةَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ فَهَجَاهُ . ¤ فَلَمَّا بَلَغَ قُرَيْشًا هِجَاءُ حَسَّانَ أَبَا وَدَاعَةَ أَخْرَجُوا كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَأَبَا عَبْسِ بْنَ جَبْرٍ ، وَأَبَا نَائِلَةَ ، فَقَتَلُوا كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ بِشَرْجِ الْعُجُولِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کعب بن اشرف نے مکہ میں ابووداعہ کے پاس موجود رہ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، تو انہوں نے اس کی ہجو کی جب قریش کو اس بات کا پتہ چلا کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ابووداعہ کی ہجو کی ہے ، تو ان لوگوں نے کعب بن اشرف کو وہاں سے نکال دیا جب وہ مدینہ منورہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے محمد بن مسلمہ ابوعبس بن جبر اور ابونائلہ کو بھیجا ان لوگوں نے بنوامیہ بن زید کے علاقے میں عجول نامی نالے کے پاس کعب بن اشرف کو قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔