کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غزوہ بئر معونہ کا بیان
حدیث نمبر: 10126
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ; أَنَّ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَرَاجَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَفَعَ صَوْتُهُ ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَائِمٌ بِسَيْفِهِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا عَامِرُ ، غُضَّ مِنْ صَوْتِكَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : وَمَا أَنْتَ وَذَاكَ ؟ فَقَالَ ثَابِتٌ : أَمَا وَالَّذِي أَكْرَمَهُ لَوْلَا أَنْ يَكْرَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَضَرَبْتُ بِهَذَا السَّيْفِ رَأْسَكَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرٌ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَثَابِتٌ قَائِمٌ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ ، لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِي لَتُوَلِّيَنَّ عَنِّي ، فَقَالَ ثَابِتٌ : أَمَا وَاللَّهِ ، يَا عَامِرُ لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِلِسَانِي لَتَكْرَهَنَّ حَيَاتِي ، فَعَطَسَ ابْنُ أَخٍ لِعَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عَطَسَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَامِرٌ : شَمَّتَ هَذَا الصَّبِيَّ وَتَرَكَنِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ " ، قَالَ : وَمَحْلُوفِهِ لَأَمْلَأَنَّهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكْفِينِيكَ اللَّهُ وَابْنَا قَيْلَةَ " ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِرٌ فَجَمَعَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ثَلَاثَةُ أَبْطُنٍ ، هُمُ الَّذِينَ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ ، وَرِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ " ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا سَمِعَ أَنَّ عَامِرًا جَمَعَ لَهُ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشَرَةً فِيهِمْ : عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، وَسَائِرُهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَأَمِيرُهُمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو ، فَمَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى هَجَمَ عَلَيْهِمْ فَقَتَلَهُمْ كُلَّهُمْ ، فَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ إِلَّا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ كَانَ فِي الرِّكَابِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قَتَلُوا ، خَيْرَ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " قَدْ قُتِلَ أَصْحَابُكُمْ مِنْ وَرَائِكُمْ " فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اكْفِنِي عَامِرًا " فَكَفَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ بِفِنَائِهِ ، فَرَمَاهُ اللَّهُ بِالذَّبْحَةِ فِي حَلْقِهِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ سَلُولٍ ، فَأَقْبَلَ يَنْزُو وَهُوَ يَقُولُ : يَا آلَ عَامِرٍ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ تَرْغَبُ أَنْ تَمُوتَ فِي بَيْتِهَا ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى مَاتَ فِي بَيْتِهَا ، وَكَانَ أَرْبَدُ بْنُ قَيْسٍ أَصَابَتْهُ صَاعِقَةٌ فَاحْتَرَقَ فَمَاتَ ، فَرَجَعَ مَنْ كَانَ مَعَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عامر بن طفیل ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرتے ہوئے تکرار کی ، تو اس کی آواز بلند ہو گئی ، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنی تلوار پکڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے تھے ، انہوں نے فرمایا : اے عامر ! تم اپنی آواز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں پست رکھو ! اُس نے کہا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے انہیں عزت عطا کی ہے ، اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناپسند نہ ہوتی ، تو میں نے اس تلوار کے ذریعے تمہارا سر اُڑا دینا تھا ، عامر جو بیٹھا ہوا تھا ، اُس نے ان کی طرف دیکھا ، ثابت کھڑے ہوئے تھے اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اے ثابت ! اگر تم اپنے آپ کو میرے لئے پیش کر دیتے ، تو تم نے مجھ سے ضرور منہ موڑ لینا تھا ، تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اے عامر ! اگر تم اپنے آپ کو میری زبان کے لئے پیش کرتے ، تو تم نے میری زندگی کو ناپسند کرنا تھا ، اسی دوران عامر بن طفیل کے بھتیجے کو چھینک آ گئی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے چھینک کا جواب دیا ، پھر عامر بن طفیل کو چھینک آئی ، تو اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے جواب نہیں دیا ، عامر نے کہا: آپ نے اس لڑکے کو جواب دیا ہے اور مجھے نہیں دیا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی تھی ، اس نے کہا: پھر اسی کی ذات کی قسم ہے ، میں آپ کے خلاف گھڑ سواروں اور پیدل لوگوں کو جمع کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے مقابلے میں اللہ تعالیٰ میری کفایت کر لے گا ، اور قیلہ کے دو بیٹے کفایت کریں گے ، پھر عامر وہاں سے نکلا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا ، تو بنوسلیم کی تین شاخوں کے لوگ اس کے ساتھ مل گئے ، یہ وہ لوگ تھے ، جن کے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں دعائے ضرر کرتے رہے تھے ، آپ یہ کہتے تھے : اے اللہ ! لحیان ، رعل اور ذکوان قبیلے پر لعنت فرما ! اور عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سترہ دن تک یہ دعا کرتے رہے ، جب آپ نے یہ بات سنی کہ عامر نے آپ کے خلاف لوگوں کو جمع کر لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس افراد کو بھیجا ، جن میں ایک سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ تھے ، ان سب کا تعلق انصار سے تھا ، اور ان کے امیر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ، یہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے بئر معونہ کے پاس پڑاؤ کیا ، تو دشمن آگے آیا اور ان لوگوں کو گھیر لیا اور ان سب کو قتل کر دیا ، ان سب میں سے صرف سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ ان سے بچ پائے ، وہ سواروں کے درمیان تھے ( یا سواریوں کے درمیان تھے ) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اُسی دن یہ وحی کی ، جس دن آپ کے اصحاب میں سے بہترین لوگ شہید ہو گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی شہید ہو گئے ہیں ، تو تم دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن طفیل کے خلاف دعائے ضرر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! عامر کے حوالے سے میرے لئے کفایت کر جا ! تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حوالے سے آپ کی کفایت کی ، وہ شخص آیا اپنے صحن میں اترا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حلق میں ” ذبحہ “ ( نامی پھوڑے ) کی بیماری لاحق کر دی ، وہ سلول سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں تھا ، اس کے زخم سے خون بہنے لگا ، اور وہ یہ کہہ رہا تھا : اے آل عامر ! اونٹ کے غدہ کی طرح غدہ ہے ، جو سلولیہ کے گھر میں ہے ، وہ اس بات سے منہ موڑنا چاہ رہا تھا کہ وہ اس عورت کے گھر میں مرے ، لیکن وہ مسلسل وہیں رہا ، یہاں تک کہ اُس عورت کے گھر میں مر گیا ، اربد بن قیس نامی شخص پر آسمانی بجلی گری اور وہ جل گیا اور مر گیا ، تو ان لوگوں کے ساتھ جتنے بھی لوگ تھے ، وہ سب واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10126
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5724)»
حدیث نمبر: 10127
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا ، قُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ ، وَكَانَ رَئِيسَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، وَكَانَ هُوَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : اخْتَرْ مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ : يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ ، وَيَكُونُ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ ، أَوْ أَكُونُ خَلِيفَةً مِنْ بَعْدِكَ ، أَوْ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ . ¤ قَالَ : فَطَعَنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ قَالَ : غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ ، فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ، ائْتُونِي بِفَرَسِي ، فَأُتِيَ بِهِ فَرَكِبَهُ فَمَاتَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَهُ : رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ ، وَرَجُلٌ أَعْرَجُ ، فَقَالَ لَهُمْ : كُونُوا قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ ، فَإِنْ أَمَّنُونِي وَإِلَّا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْكُمْ ، فَإِنْ قَتَلُونِي أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَكُمْ ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ ، فَقَالَ : أَتُؤَمِّنُونِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ ، وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ لَهُمْ مِنْ خَلْفِهِمْ فَطَعَنَهُ ، حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : فَقَتَلُوهُمْ كُلَّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ ، كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے ماموں سیدنا حرام رضی اللہ عنہ کو ، جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں ، انہیں ستر افراد کے ہمراہ بھیجا ، جو بعد میں ” بئر معونہ “ کے پاس شہید کر دیے گئے تھے ، اُن دنوں مشرکین کا سردار عامر بن طفیل تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میرے لئے تین میں سے کوئی ایک چیز طے کر دیں ، شہری علاقے کے لوگ آپ کے ساتھ ہوں گے دیہاتوں کے لوگ میرے پاس رہیں گے ، یا پھر یہ ہے کہ میں آپ کے بعد خلیفہ بن جاؤں گا ، ورنہ پھر میں غطفان قبیلے کے دو ہزار جانوروں ( سمیت لوگوں ) کے ہمراہ آپ کے ساتھ جنگ کروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : بنو فلاں سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں اسے بیماری لاحق ہوئی ، اس نے کہا: یہ تو اونٹ کے غدہ کی طرح کا غدہ ہے ، جو فلاں قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں ہے ، تم میرا گھوڑا میرے پاس لے کے آؤ ! وہ اُس کے پاس لایا گیا ، وہ اس پر سوار ہوا ، پھر وہ اس کی پشت پر موجود رہتے ہوئے مر گیا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی سیدنا حرام رضی اللہ عنہ گئے ، اُن کے ساتھ دو آدمی تھے ، ایک کا تعلق بنوامیہ سے تھا ، اور ایک شخص لنگڑا تھا ۔ انہوں نے ان لوگوں سے کہا: تم میرے قریب رہنا ، جب تک کہ میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، اگر تو مجھے ان لوگوں نے امان دے دی تو ٹھیک ہے ، ورنہ تم لوگ میرے قریب ہو گے ، اگر وہ لوگ مجھے قتل کر دیتے ہیں ، تو تم اپنے ساتھیوں کو اس بارے میں اطلاع دے دینا ، پھر سیدنا حرام رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس گئے ، اور فرمایا : کیا تم مجھے اس بارے میں امان دیتے ہو کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ، تمہاری طرف پیغام کی تم تک تبلیغ کروں ؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے ! پھر وہ ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ، انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو اشارہ کیا ، وہ اُن کے پیچھے سے آیا ، اُس نے انہیں نیزہ مارا ، یہاں تک کہ وہ نیزہ اُن کے اندر سرایت کر گیا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اُن لوگوں نے ان سب کو قتل کر دیا ، صرف لنگڑے شخص کو قتل نہیں کیا ، کیونکہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر موجود تھا اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10127
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند 210/3»
حدیث نمبر: 10128
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ هَمَّامٌ : فَأَرَاهُ ذَكَرَ مَعَ الْأَعْرَجِ آخَرَ عَلَى الْجَبَلِ ، قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہمام نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس لنگڑے کے ساتھ ایک اور شخص بھی اس پہاڑ پر موجود تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10129
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ ، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ " . ¤ قَالَ : فَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ مَنْ شِئْتَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِقَوْمٍ فِيهِمُ : الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الْمُعْتَقُ لِيَمُوتَ أَوْ أُعْتِقَ عِنْدَ الْمَوْتِ ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ بَنِي عَامِرٍ فَأَبَوْا أَنْ يُطِيعُوهُ ، وَأَبَوْا أَنْ يَخْفِرُوا مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ . ¤ فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَأَطَاعُوهُ ، فَأَتْبَعَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ ، فَأَدْرَكُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ملاعب الاسنہ “ تحفہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ، تو اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ، اس نے کہا: پھر آپ اہل نجد کی طرف جسے چاہیں بھیج دیں ، میں ان لوگوں کو پناہ دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کی طرف بھیجا ، جن میں سے ایک سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ، یہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں ” معتق لیموت “ کہا: جاتا ہے یا ” اعتق عندالموت “ کہا: جاتا ہے ، تو عامر بن طفیل نے ان حضرات کے خلاف بنو عامر کو اکٹھا کرنا چاہا ، ان لوگوں نے اس کی اطاعت کرنے سے انکار کر دیا اور اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ ” ملاعب الاسنہ “ کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں ، عامر نے ان لوگوں ( یعنی صحابہ کرام ) کے خلاف بنو سلیم کو اکٹھا ہونے کے لئے کہا: ، تو انہوں نے اس کی بات مان لی ، وہ تقریباً ایک سو تیر انداز مل کر اس کے پیچھے آ گئے ، وہ ان حضرات تک ” بئر معونہ “ کے پاس پہنچ گئے ، اور انہیں قتل کر دیا ، صرف سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بچ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (71/19)»
حدیث نمبر: 10130
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ ; أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ الَّذِي يُدْعَى مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُشْرِكٌ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْإِسْلَامَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ " . ¤ فَقَالَ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ : ابْعَثْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ رُسُلِكَ مَنْ شِئْتَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَهْطًا فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو السَّاعَدِيُّ - وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : أُعْتِقَ لِيَمُوتَ - عَيْنًا فِي أَهْلِ نَجْدٍ ، فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَنَفَرُوا مَعَهُ فَقَتَلَهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، أَخَذَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَأَرْسَلَهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْنِهِمْ ، وَكَانَ فِيهِمْ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ . ¤ فَزَعَمَ لِي عُرْوَةُ : أَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُوجَدْ جَسَدُهُ حِينَ دَفَنُوهُ ، يَقُولُ عُرْوَةُ : كَانُوا يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ هِيَ دَفَنَتْهُ ، فَقَالَ حَسَّانُ يُعَرِّضُ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ : ¤ بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ تَهَكُّمُ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ ¤ لِيَخْفِرَهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ ¤ فَطَعَنَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ فِي خَفْرَتِهِ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ فِي فَخِذِهِ طَعْنَةً فَقَدَّهُ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ” عامر بن مالک ، وہ شخص ہے ، جسے ” ملاعب الاسنہ “ کہا: جاتا ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ شخص اس وقت مشرک تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اسلام کی پیشکش کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ، تو عامر بن مالک نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اپنے پیغام رساں ( یا مبلغین ) افراد میں سے جسے چاہیں بھیج دیں ، میں اُنہیں پناہ دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افراد کو بھیجا ، جن میں سے ایک سیدنا منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ تھے ، یہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں ” اعتق لیموت “ کہا: جاتا ہے ، انہیں اہل نجد میں جاسوسی کے لئے بھیجا گیا تھا ، عامر بن طفیل کو ان کے بارے میں پتہ چل گیا ، اس نے بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا: ، تو وہ لوگ اُس کے ساتھ روانہ ہوئے ، ان لوگوں نے ان صحابہ کرام کو ” بئر معونہ “ کے پاس قتل کر دیا ، صرف سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بچ گئے ، عامر بن طفیل نے انہیں پکڑ لیا اور پھر انہیں چھوڑ دیا ، ان لوگوں کے درمیان میں سے صرف وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُن لوگوں میں ایک سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عروہ نے میرے سامنے یہ بات بیان کی ہے : وہ اُسی دن قتل ہو گئے تھے لیکن دفن کے وقت انہیں ان کا جسم نہیں ملا ، عروہ کہتے ہیں : لوگوں کا یہ خیال تھا کہ فرشتوں نے انہیں دفن کیا تھا ، تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عامر بن طفیل پر طنز کرتے ہوئے یہ اشعار کہے : ” بیٹوں کی ماں کے بیٹو ! تم اہل نجد کے نمایاں حیثیت کے افراد ہو ، کیا یہ چیز تمہیں پریشان نہیں کرتی ، کہ عامر نے ابوبراء کے سامنے تکبر کا مظاہرہ کیا ہے ، کہ اس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے ، اور خطاء ، عمد کی طرح نہیں ہوتی “ ۔ پھر ربیعہ بن عامر بن مالک نے عامر بن طفیل کے عہد کی خلاف ورزی کرنے پر طعن کیا ، اور عامر بن مالک کے زانوں پر ہتھیار مارا ، جو اس میں سرایت کر گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (71/19)»
حدیث نمبر: 10131
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : ثُمَّ غَزْوَةُ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ إِلَى بِئْرِ مَعُونَةَ ، وَبَعَثَ مَعَهُمُ الْمُطَّلِبَ السُّلَمِيَّ لِيَدُلَّهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَبَعَثَ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ يَسْتَمِدُّونَهُ ، فَأَمَدُّوهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَقُتِلَ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو وَأَصْحَابُهُ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ ، فَإِنَّهُمْ أَسَرُوهُ فَاسْتَحْيَوْهُ حَتَّى قَدِمُوا بِهِ مَكَّةَ ، فَهُوَ دَفَنَ خُبَيْبَ بْنَ عَدِيٍّ ، وَعَرَضَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى عُرْوَةَ بْنِ الصَّلْتِ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ : أَنْ يُؤَمِّنُوهُ فَأَبَى ، فَقَتَلُوهُ ، فَذُكِرَ لَنَا : أَنَّ الْمُسْلِمِينَ قَالُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ حِينَ أَحَاطَ بِهِمُ الْعَدُوُّ : اللَّهُمَّ إِنَّا لَا نَجِدُ مَنْ يُبَلِّغُ عَنَّا رَسُولَكَ غَيْرَكَ ، اللَّهُمَّ فَاقْرَأْ مِنَّا عَلَيْهِ السَّلَامَ ، وَأَخْبِرْهُ خَبَرَنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِذَا تُوبِعَ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ والا غزوہ ہوا ، جن کا تعلق بنو ساعدہ سے تھا ، اور وہ ” بئر معونہ “ کی طرف گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہمراہ ” مطلب سلمی “ کو بھیجا تھا ، تاکہ وہ راستے کے بارے میں ان کی رہنمائی کرے ، پھر اللہ کے دشمنوں نے عامر بن طفیل کو پیغام بھیجا اور اس سے مدد مانگی ، تو اس نے مسلمانوں کے خلاف اُن کی مدد کی ، اس نے سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو قتل کروا دیا ، صرف سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بچ گئے ، ان لوگوں نے انہیں قید کر لیا ، انہیں ان سے حیاء آئی وہ لوگ انہیں لے کر مکہ آ گئے ، یہی وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو دفن کیا تھا ” بئر معونہ “ کے دن مشرکین نے عروہ بن صلت کو پیشکش کی کہ وہ انہیں امان دیدیتے ہیں ، لیکن انہوں نے یہ نہیں مانا ، تو ان لوگوں نے انہیں بھی قتل کر دیا ، ہمارے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ” بئر معونہ “ کے دن جب دشمن نے ان لوگوں کو گھیر لیا تھا ، تو انہوں نے یہ کہا: اے اللہ ! ہمیں ایسا کوئی شخص نہیں ملتا ، جو ہمارے بارے میں تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پیغام پہنچائے ، تیرے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں ہے ، اے اللہ ! تو ہماری طرف سے انہیں سلام پہنچا دینا اور انہیں ہماری صورت حال کے بارے میں بتا دینا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہو گی ، جب اس کی متابعت کی گئی ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (355/20)»
حدیث نمبر: 10132
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ أُحُدٍ بَقِيَّةَ شَوَّالٍ وَذَا الْقَعْدَةِ وَذَا الْحِجَّةِ ، وَوَلَّى تِلْكَ الْحِجَّةُ وَالْمُحَرَّمُ ، ثُمَّ بَعَثَ أَصْحَابَهُ بِئْرَ مَعُونَةَ فِي صَفَرٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ أُحُدٍ ، فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِمْ كَمَا حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا : قَدِمَ أَبُو بَرَاءٍ عَامِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَلَمْ يُسْلِمْ ، وَلَمْ يَبْعُدْ مِنَ الْإِسْلَامِ ، وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَوْ بَعَثْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَدْعُوهُمْ إِلَى أَمْرِكَ ، رَجَوْتُ أَنْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي أَخْشَى أَهْلَ نَجْدٍ ، فَقَالَ أَبُو بَرَاءٍ : أَنَا لَهُمْ جَارٌ ، فَابْعَثْهُمْ فَلْيَدْعُوا النَّاسَ إِلَى أَمْرِكَ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُنْذِرَ بْنَ عَمْرٍو أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ الْخَزْرَجِ الْمُعْتَقَ لِيَمُوتَ فِي أَرْبَعِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، مِنْ خِيَارِهِمْ ، مِنْهُمُ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ ، وَحَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ أَسْمَاءَ بْنِ الصَّلْتِ السُّلَمِيُّ ، وَنَافِعُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَرِجَالٌ مُسَمَّوْنَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ ، فَسَارُوا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ ، وَهِيَ بِئْرُ أَرْضِ بَنِي عَامِرٍ ، وَحَرَّةُ بَنِي سُلَيْمٍ ، كِلَا الْبَلَدَيْنِ مِنْهَا قَرِيبٌ ، وَهِيَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَقْرَبُ ، فَلَمَّا نَزَلُوا بَعَثُوا حَرَامَ بْنَ مِلْحَانَ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ لَمْ يَنْظُرْ فِي كِتَابِهِ حَتَّى غَدَا عَلَى الرَّجُلِ فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ اسْتَصْرَخَ بَنِي عَامِرٍ فَأَبَوْا أَنْ يُجِيبُوهُ إِلَى مَا دَعَاهُمْ ، وَقَالُوا : لَنْ نَخْفِرَ أَبَا بَرَاءٍ ، وَقَدْ عَقَدَ لَهُمْ عَقْدًا وَجِوَارًا ، فَاسْتَصْرَخَ عَلَيْهِمْ قَبَائِلَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَصِيَّةَ وَرَعْلًا وَذَكْوَانَ ، فَأَجَابُوهُ إِلَى ذَلِكَ ، فَخَرَجُوا حَتَّى غَشَوُا الْقَوْمَ ، فَأَحَاطُوا بِهِمْ فِي رِحَالِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ أَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ فَقَاتَلُوا حَتَّى قُتِلُوا عَنْ آخِرِهِمْ ، إِلَّا كَعْبَ بْنَ زَيْدٍ أَخَا بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ ، فَإِنَّهُمْ تَرَكُوهُ وَبِهِ رَمَقٌ ، فَارْتَثَّ مِنْ بَيْنِ الْقَتْلَى ، فَعَاشَ حَتَّى قُتِلَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَكَانَ فِي السَّرْحِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَلَمْ يُنْبِئْهُمَا بِمُصَابِ إِخْوَانِهِمَا ، إِلَّا الطَّيْرُ تَحُومُ عَلَى الْعَسْكَرِ ، فَقَالَا : وَاللَّهِ إِنَّ لِهَذَا الطَّيْرِ لَشَأْنًا ، فَأَقْبَلَا لِيَنْظُرَا فَإِذَا الْقَوْمُ فِي دِمَائِهِمْ وَإِذَا الْخَيْلُ الَّتِي أَصَابَتْهُمْ وَاقِفَةٌ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ : مَا تَرَى ؟ قَالَ : أَرَى أَنْ نَلْحَقَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُخْبِرَهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : لَكِنِّي مَا كُنْتُ لِأَرْغَبَ بِنَفْسِي عَنْ مَوْطِنٍ قُتِلَ فِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو ، وَمَا كُنْتُ لِتَجْتَزِيَ عَنْهُ الرِّجَالُ ، فَقَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ ، وَأَخَذُوا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَسِيرًا ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ مِنْ مُضَرَ أَطْلَقَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، وَجَزَّ نَاصِيَتَهُ ، وَأَعْتَقَهُ عَنْ رَقَبَةٍ زَعَمَ أَنَّهَا عَلَى أُمِّهِ ، فَخَرَجَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْقَرْقَرَةِ مِنْ صَدْرِ قُبَاءَ أَتَاهُ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، نَزَلَا فِي ظِلٍّ هُوَ فِيهِ ، وَكَانَ لِلْعَامِرِيِّينَ عَقْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِوَارٌ ، فَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ ، وَقَدْ سَأَلَهُمَا حِينَ نَزَلَ : مِمَّنْ أَنْتُمَا ؟ قَالَا : مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، فَأَمْهَلَهُمَا حَتَّى نَامَا ، فَغَدَا عَلَيْهِمَا فَقَتَلَهُمَا ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَصَابَ بِهِمَا ثَأْرَهُ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ; لِمَا أَصَابُوا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ قَتَلْتَ قَتِيلَيْنِ لَأُدِينَّهُمَا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا عَمَلُ أَبِي بَرَاءٍ ، قَدْ كُنْتُ لِهَذَا كَارِهًا مُتَخَوِّفًا " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَرَاءٍ فَشَقَّ عَلَيْهِ إِخْفَارُ عَامِرٍ إِيَّاهُ ، وَمَا أُصِيبَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبَبِهِ وَجِوَارِهِ ، فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُحَرِّضُ ابْنَ أَبِي بَرَاءٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ : ¤ بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ تَهَكُّمُ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ ¤ لِيَخْفِرَهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ أَلَا أَبْلِغْ رَبِيعَةَ ذَا الْمَسَاعِي ¤ بِمَا أَحْدَثْتَ فِي الْحُدْثَانِ بَعَدِي أَبُوكَ أَبُو الْحُرُوبِ أَبُو بَرَاءٍ ¤ وَخَالُكَ مَاجِدٌ حَكَمُ بْنُ سَعْدِ . ¤ فَحَمَلَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ فَطَعَنَهُ بِالرُّمْحِ ، فَوَقَعَ فِي فَخِذِهِ فَأَشْوَاهُ ، وَوَقَعَ عَنْ فَرَسِهِ ، فَقَالَ : هَذَا عَمَلُ أَبِي بَرَاءٍ ، فَإِنْ أَمُتْ فَدَمِي لِعَمِّي لَا يُتْبَعُ بِهِ ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَرَى رَأْيِي فِيمَا أَتَى إِلَيَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے بعد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شوال کا بقیہ حصہ ، ذیقعدہ اور ذوالج کے ( پورے ) مہینے تک ٹھہرے رہے ، اس حج کے موقع کے نگران مشرکین بنے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محرم کا مہینہ بھی ٹھہرے رہے ، پھر آپ نے صفر کے مہینے میں اپنے اصحاب کو ” بئر معونہ “ کی طرف بھجوایا ، یہ غزوہ اُحد کے بعد چوتھے مہینے کی بات ہے ، ان حضرات نے
یہ روایت جس طرح بیان کی ہے ، اسی طرح اسحاق نے مجھے بیان کی ہے ، مغیرہ بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کے حوالے سے ، اور عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمر بن حزم کے حوالے سے ، اور دیگر اہل علم کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” ابوبراء عامر بن مالک بن جعفر ” ملاعب الاسنہ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ، اس نے اسلام قبول نہیں کیا ، لیکن وہ اسلام سے دور بھی نہیں تھا ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آپ اپنے اصحاب میں سے کسی شخص کو بھیج دیں ، جو اُن لوگوں کو آپ کے معاملے کی طرف دعوت دے ، تو یہ مناسب ہو گا مجھے یہ امید ہے کہ وہاں کے لوگ آپ کی بات مان لیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، جنہیں ” معتق لیموت “ کہا: جاتا تھا ، ان کے ہمراہ مسلمانوں کے چالیس بہترین افراد بھیجے ، جن میں ایک سیدنا حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ ایک سیدنا حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو عدی بن نجار سے ہے ایک سیدنا عروہ بن اسماء بن صلت سلمی رضی اللہ عنہ تھے ایک سیدنا نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ تھے ایک سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں اور ان کے علاوہ کچھ لوگ تھے ، جو مسلمانوں کے بہترین لوگ تھے اور ان کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں ، یہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے ” بئر معونہ “ کے پاس پڑاؤ کیا ، وہ بنو عامر کے علاقے میں موجود کنواں تھا ، اور اس کے پاس بنو سلیم کا پتھریلی زمین کا علاقہ تھا ، ان دونوں کے علاقے اس کنویں کے قریب تھے لیکن بنو سلیم کے علاقے سے یہ زیادہ قریب تھا ، جب ان لوگوں نے وہاں پڑاؤ کیا ، تو ان لوگوں نے سیدنا حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول کے مکتوب کے ہمراہ عامر بن طفیل کے پاس بھیجا ، جب وہ ان کے پاس آئے ، تو اس نے مکتوب کی طرف دیکھا ہی نہیں ، بلکہ ان صاحب کی طرف بڑھا اور انہیں قتل کر دیا ، پھر اس نے بنو عامر کو مدد کے لئے بلایا ، تو ان لوگوں نے اس کی وہ بات ماننے سے انکار کر دیا ، جس کی طرف اس نے انہیں بلایا تھا ، انہوں نے کہا: ہم ابوبراء ( یعنی عامر بن مالک ” ملاعب الاسنہ “ ) کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کریں گے ، کیونکہ اس نے ان لوگوں کے لئے عقد طے کیا تھا ، اور پناہ دی تھی ۔ پھر اُس نے ( یعنی عامر بن طفیل نے ) بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے مختلف قبائل عصیہ ، رعل اور ذکوان کو ، اُن کے خلاف بلایا ، تو ان لوگوں نے اُس کی بات مان لی ، وہ لوگ وہاں سے نکلے اور انہوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا اور ان کی رہائشی جگہ کے آس پاس انہیں گھیرے میں لے لیا ، جب ان حضرات نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہوں نے اپنی تلواریں نکال لیں اور لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ ان کا آخری فرد بھی شہید ہو گیا ، صرف بنو نجار بن دینار سے تعلق رکھنے والے سیدنا کعب بن زید رضی اللہ عنہ بچ گئے ، کیونکہ ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا تھا ، کیونکہ ان کے اندر رمق باقی تھی اور مقتولین کے درمیان وہی شدید زخمی تھے ، وہ بعد میں زندہ رہے ، یہاں تک کہ غزوہ خندق کے موقع پر شہید ہوئے ، ان لوگوں میں سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ تھے اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے ، جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا ، ان کے ساتھیوں کو جو صورت حال لاحق ہوئی تھی ، اس کے بارے میں ان دونوں کو پرندے کے ذریعے چلا ، جو لشکر پر گھوم رہا تھا ، ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس پرندے کے حوالے سے ضرور کوئی چیز سامنے آئے گی ، پھر وہ دونوں آئے تاکہ اس بات کا جائزہ لیں ، تو لوگ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور ان کے گھوڑے وہاں کھڑے ہوئے تھے ، انصاری نے عمرو بن امیہ سے کہا: تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ کو اس بارے میں بتانا چاہیے ، انصاری نے کہا: لیکن میں اپنی جان کے حوالے سے یہ رغبت نہیں رکھتا کہ میں اس جگہ سے چلا جاؤں ، جہاں منذر بن عمرو قتل ہو چکا ہے ، انہوں نے دشمن کے ساتھ جنگ کی ، یہاں تک کہ شہید ہو گئے ، پھر انہوں نے سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو قیدی کے طور پر پکڑ لیا ، جب انہوں نے ان لوگوں کو بتایا کہ ان کا تعلق مضر قبیلے سے ہے ، تو عامر بن طفیل نے انہیں چھوڑ دیا ، اس نے ان کی پیشانی کے بال کاٹ دیے اور انہیں اس غلام کی جگہ آزاد کر دیا ، جس کے بارے میں اس کا یہ خیال تھا اس کی ماں کے ذمہ غلام آزاد کرنا لازم تھا ، سیدنا عمر بن امیہ رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے ، یہاں تک کہ جب وہ قباء کے مقام ” قرقرہ “ میں موجود تھے ، تو بنو عامر سے تعلق رکھنے والے دو افراد آ گئے ، اُن دونوں نے اسی سائے میں پڑاؤ کیا ، جہاں وہ موجود تھے ، بنو عامر سے تعلق رکھنے والے افراد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عہد ملا ہوا تھا ، اور پناہ ملی ہوئی تھی ۔ لیکن سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں پتہ نہیں تھا ، انہوں نے ان دونوں سے پڑاؤ کے وقت دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ ان دونوں نے بتایا : بنو عامر سے ہے ، تو سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سونے کی مہلت دی ، جب وہ سو گئے ، تو انہوں نے ان دونوں پر حملہ کر کے ان دونوں کو قتل کر دیا ، وہ یہ سمجھ رہے تھے ، انہوں نے ان دونوں کے ساتھ ٹھیک کیا ہے ، کیونکہ یہ بنو عامر کو بدلہ دینے کے مترادف ہے ، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نقصان پہنچایا تھا ۔ جب سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے دو ایسے افراد کو قتل کیا ہے ، جن کی میں دیت ضرور دوں گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ابوبراء کا عمل ہے ، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں اور مجھے اس بات کا اندیشہ تھا ۔ جب ابوبراء کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو اس پر یہ بات بہت گراں گزری کہ عامر ( بن طفیل ) نے اُس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے سبب سے اور اُس کی پناہ کی وجہ سے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نقصان اُٹھانا پڑا ہے ، تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابوبراء کے بیٹے کو عامر بن طفیل کے خلاف برانگیختہ کرتے ہوئے ، یہ اشعار کہے : ” بیٹوں کی ماں کے بیٹو ! تم اہل نجد کے نمایاں حیثیت کے افراد ہو ، کیا یہ چیز تمہیں پریشان نہیں کرتی ، کہ عامر نے ابوبراء کے سامنے تکبر کا مظاہرہ کیا ہے ، کہ اس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے ، اور خطا ، عمد کی طرح نہیں ہوتی ، خبردار ! کوششیں کرنے والے ربیعہ تک یہ پیغام پہنچا دو ، کہ میرے بعد کیا حادثہ رونما ہوا ہے ، تمہارا باپ ، ابوبراء جنگوں کا باپ ہے ، اور تمہارا ماموں حکم بن سعد بزرگی والا فرد ہے “ ۔ تو ربیعہ بن عامر ( یعنی ابوبراء ” ملاعب الاسنہ “ کے بیٹے ) نے عامر بن طفیل پر حملہ کر کے اُسے نیزہ مارا ، جو اس کے زانوں پر لگنا تھا ، وہ اپنی جگہ سے ہٹ کے لگا ، اور وہ شخص اپنے گھوڑے سے گر گیا ، اُس نے کہا: یہ ابوبراء کا عمل ہے ، اگر میں مر گیا ، تو میرے خون کا حساب میرا چچا کے ذمہ ، اس بارے میں اس کے پیچھے نہیں جایا جائے گا ، اور اگر میں زندہ رہ گیا ، تو میں نے جو مناسب سمجھوں گا ، وہ فیصلہ کر لوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10132
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (356/20)»