حدیث نمبر: 10125
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ كَلَّ أَصْحَابُهُ ، وَهُوَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ وَضَعْتُمْ أَسْلِحَتَكُمْ وَمَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ أَوْزَارَهَا ، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ قَبْلَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ غَسْلِهِ ، فَأَتَوُا النَّضِيرَ ، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ حِبَّانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھک چکے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر دھو رہے تھے ، انہوں نے عرض کی : اے سیدنا محمد ! آپ لوگوں نے اسلحہ اتار دیا ہے ، حالانکہ فرشتوں نے ابھی اسلحہ نہیں اتارا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو پورا دھونے سے پہلے اپنا سر دھونے سے رک گئے ، پھر یہ لوگ بنو نضیر کی طرف گئے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے انہیں ( یعنی بنونضیر کو ) فتح کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔