کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غزوہ احد کا بیان نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے متعلق خواب میں کیا دیکھا ؟
حدیث نمبر: 10057
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُنْحَرُ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ ، وَأَنَّ الْبَقَرَ نَفَرٌ ، وَاللَّهُ خَيْرٌ " ، قَالَ : فَقَالَ أَصْحَابُهُ : " لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ ، فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ " ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ ؟ ! فَقَالَ : " شَأْنُكُمْ إِذًا " ، فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ قَالَ : فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْيَهُ ، فَجَاءُوا فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، شَأْنُكَ إِذًا ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : میں نے خواب دیکھا کہ میں نے ایک مضبوط زرہ پہنی ہوئی ہے اور میں نے ایک گائے کو دیکھا کہ اسے قربان کیا گیا ہے ، تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ مضبوط زرہ سے مراد مدینہ منورہ ہے اور گائے سے مراد کچھ افراد ہیں ، باقی اللہ بہتری کرنے والا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اگر ہم مدینہ میں مقیم رہیں اور وہ لوگ مدینہ میں ہم پر داخل ہو گئے ، تو ہم ان سے لڑائی کر لیں گے ، لوگوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! وہ زمانہ جاہلیت میں کبھی ہم پر ہمارے شہر میں داخل نہیں ہو سکے ، تو وہ اسلام میں کیسے ہمارے پاس آ سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم جیسا چاہو کرو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار پہن لئے انصار نے ( ایک دوسرے سے ) کہا: ہم نے اللہ کے رسول کی رائے کو قبول نہیں کیا ؟ پھر وہ آئے اور انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ جیسے مناسب سمجھیں کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ جب وہ ہتھیار پہنچ چکا ہو ، تو پھر وہ لڑائی سے پہلے انہیں اُتار دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10057
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (351/3)»
حدیث نمبر: 10058
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَبُو سُفْيَانَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ سَيْفِيَ ذَا الْفَقَارِ انْكَسَرَ ، وَهِيَ مُصِيبَةٌ ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ ، وَهِيَ مُصِيبَةٌ ، وَرَأَيْتُ عَلَيَّ دِرْعِي وَهِيَ مَدِينَتُكُمْ ، لَا يَصِلُونَ إِلَيْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ فِي التَّعْبِيرِ رَوَاهَا الْبَزَّارُ أَبَيْنُ مِنْ هَذِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے دن پڑاؤ کیا ، تو دوسری طرف ابوسفیان اور اس کے ساتھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میری تلوار ذوالفقار ٹوٹ گئی ہے اور یہ کسی مصیبت کی نشان دہی ہے اور میں نے ایک گائے کو دیکھا کہ اُسے ذبح کیا گیا ہے ، تو یہ بھی کسی مصیبت کی نشانی ہے اور میں نے یہ دیکھا کہ میرے جسم پر زرہ ہے ، تو اس سے مراد یہ مدینہ ہے ، اگر اللہ نے چاہا ، تو وہ لوگ یہاں تک نہیں پہنچ پائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا ایک طریق تعبیر سے متعلق باب میں آئے گا ، جسے امام بزار نے روایت کیا ہے ، اور وہ اس سے زیادہ واضح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10058
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12104)»
حدیث نمبر: 10059
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا ، وَكَأَنَّ ضَبَّةَ سَيْفِيَ انْكَسَرَتْ ، فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ كَبْشَ الْقَوْمِ ، وَأَوَّلْتُ ضَبَّةَ سَيْفِي قَتْلَ رَجُلٍ مِنْ عِتْرَتِي " . فَقُتِلَ حَمْزَةُ ، وَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلْحَةَ ، وَكَانَ صَاحِبَ اللِّوَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَلَمْ يُكْمِلْهُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَقَدْ جَاءَ مِنْ غَيْرِ طَرِيقِهِ كَمَا تَرَاهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں نے ایک دنبے کو اپنے پیچھے بیٹھایا ہوا ہے اور جیسے میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے ، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ میں دشمن کے ایک اہم فرد کو قتل کروں گا ، اور اپنی تلوار کی دھار کی میں نے یہ تعبیر کی ہے کہ میرے خاندان کا ایک فرد قتل ہو جاے گا ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ نامی شخص کو قتل کیا تھا ، جو اُن کا علم بردار تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اسے امام بزار اور امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، لیکن انہوں نے اسے مکمل نقل نہیں کیا ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10059
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2131) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2950) اخرجه أحمد فى المسند (267/3)»