کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اہل بدر کی فضیلت
حدیث نمبر: 10053
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ مَوْلُودًا وُلِدَ فِي فِقْهِ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ أَهْلِ الدِّينِ يَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ ، وَيَجْتَنِبُ مَعَاصِيَ اللَّهِ كُلَّهَا إِلَى أَنْ يُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، أَوْ يُرَدَّ إِلَى أَنْ [ لَا ] يَعْلَمَ بَعْدَ عَلَمٍ شَيْئًا ، لَمْ يَبْلُغْ أَحَدُكُمْ هَذِهِ اللَّيْلَةَ " . وَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا لَفُضَلَاءُ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مِقْلَاصٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر کوئی بچہ ایسی حالت میں پیدا ہو کہ جس طرح دیندار افراد میں سے کسی فرد کی چالیس سال کی عمر میں سمجھ بوجھ ہوتی ہے ، اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ہر کام سے اجتناب کرتا رہے ، یہاں تک کہ وہ سٹھیا جانے والی عمر تک پہنچ جائے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہاں تک کہ وہ اس عمر تک پہنچ جائے کہ جب علم ہونے کے بعد کسی چیز کا علم نہیں رہتا ، تو بھی وہ فرد ( اتنی عبادت کے باوجود ) تم میں سے کسی ایک کے اس رات کے اجر و ثواب تک ) نہیں پہنچ پائے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ فرشتے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ، وہ ان فرشتوں پر فضیلت رکھتے ہیں ، جو اس میں شریک نہیں ہوئے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے اہل بدر کی فضیلت کے بارے میں ، ایک اور حدیث بھی منقول ہے ، جسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن مقلاص ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10053
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4435)»
حدیث نمبر: 10054
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ عَمِيَ فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْطُطْ لِي فِي دَارِي مَسْجِدًا لِأُصَلِّيَ فِيهِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَغَيَّبَ رَجُلٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا فَعَلَ فُلَانٌ ؟ " ، فَذَكَرَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، وَلَكِنَّهُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نابینا ہو گئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ میرے گھر میں میرے لئے مسجد کی نشان دہی کر دیں ، تاکہ میں وہاں نماز ادا کیا کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، ان صاحب کی قوم کے افراد آپ کے گرد اکٹھے ہو گئے ، ایک صاحب وہاں موجود نہیں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : فلاں شخص کا کیا حال ہے ؟ تو حاضرین میں سے کسی نے اس کا ( منفی انداز میں ) ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن اس میں یہ ، یہ ( خامی پائی جاتی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر یہ فرمایا ہو : ” تم جو چاہو عمل کرو ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10054
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (662)»
حدیث نمبر: 10055
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ وَغَيْرِهِمْ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي مَنَاقِبِ حَاطِبٍ وَغَيْرِهِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے یہ امید ہے کہ اگر اللہ نے چاہا ، تو ایسا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ، جو غزوہ بدر میں شریک ہوا ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اہل بدر اور دیگر حضرات کی فضیلت کے بارے میں اس نوعیت کی دیگر احادیث سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے مناقب سے متعلق باب میں ، آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10055
درجۂ حدیث محدثین: حدیث صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2761)»
حدیث نمبر: 10056
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : إِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَاضَلَنَا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ رِفَاعَةَ نَفْسِهِ ، وَهُنَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ رِفَاعَةَ ، وَيَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: فرشتوں میں سے ، جو فرشتہ غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے ، وہ ہم پر فضیلت رکھتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں خود سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے اور یہاں یہ ان کے والد کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے یحیی بن سعید کی سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، حالانکہ یحیی نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں میں سے کسی کا زمانہ نہیں پایا ، باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10056
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4455)»