کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: غزوہ بدر کون سے مہینے میں پیش آیا تھا ؟ اور اس میں شریک ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے ؟
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتًّا وَسَبْعِينَ ، وَكَانَتْ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشَرَةَ مَضَيْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثَلَاثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشْرَ . وَقَالَ : وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ مِائَتَيْنِ وَسِتًّا وَثَلَاثِينَ ، وَكَانَ لِوَاءُ الْمُهَاجِرِينَ مَعَ عَلِيٍّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كَذَلِكَ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے تھے : اہل بدر کی تعداد تین سو تیرہ تھی ، جن میں مہاجرین چھہتر تھے ۔ غزوہ بدر کا واقعہ رمضان کی ، سترہ تاریخ کو جمعہ کے دن پیش آیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انصار کی تعداد دو سو چھتیس تھی ، اور مہاجرین کا جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انصار کی تعداد دو سو چھتیس تھی ، اور مہاجرین کا جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ لِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر ستائیس رمضان کو ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَدْرِيِّ قَالَ : كَانَتْ صَبِيحَةُ بَدْرٍ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِسَبْعَ عَشَرَةَ مِنْ رَمَضَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن عبدالله بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کی صبح ، پیر کے دن ، سترہ رمضان کو ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : كَانَ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ عِدَّةَ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسَبْعَةَ عَشَرَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل بدر کی تعداد ، طالوت کے ساتھیوں کی تعداد جتنی تھی ، جب اُنہوں نے جالوت کے ساتھ جنگ کی تھی ، یعنی تین سو سترہ تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ عِدَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَمِائَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ( غزوہ بدر کے موقع پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی تعداد تین سو ( کے لگ بھگ ) تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُمْ - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - هَلُمُّوا أَنْ نَتَعَادَّ " . فَإِذَا نَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَخْبَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَّرَهُ ذَلِكَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ : " عِدَّةُ أَصْحَابِ طَالُوتَ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَائِلِ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث منقول ہے ، جس میں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ یعنی مشرکین ( کتنے ہیں ؟ ) تم آؤ ! تاکہ ہم بھی گنتی کر لیں ( کہ ہماری تعداد کتنی ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ) تو ہم تین سو تیرہ افراد تھے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ اس بات پر خوش ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور ارشاد فرمایا : یہ طالوت کے ساتھیوں جتنی تعداد ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے “ ۔
یہ روایت غزوہ بدر سے متعلق باب کے آغاز میں گزر چکی ہے اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔
یہ روایت غزوہ بدر سے متعلق باب کے آغاز میں گزر چکی ہے اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔