کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اسلام پر بیعت جسے خواتین کی بیعت کا نام دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 9856
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ : بَايَعْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مِثْلِ مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءَ ، مَنْ مَاتَ مِنَّا وَلِمَ يَأْتِ شَيْئًا مِنْهُنَّ ضَمِنَ لَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ مِنَّا وَقَدْ أَتَى شَيْئًا مِنْهُنَّ ، وَقَدْ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ كَفَّارَةٌ ، وَمَنْ مَاتَ مِنَّا وَقَدْ أَتَى شَيْئًا مِنْهُنَّ ، فَسَتَرَ عَلَيْهِ ، فَعَلَى اللَّهِ حِسَابُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ هَارُونَ ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت انہی امور کے حوالے سے کی تھی ، جن امور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تھی اور یہ طے پایا تھا ) کہ ہم میں سے جو شخص مر جائے اور اس نے ان ( گناہوں میں سے ) کسی کا ارتکاب نہ کیا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے جنت کی ضمانت دی تھی ، اور ہم میں سے کوئی شخص اگر ایسی حالت میں مر جائے کہ اس نے ان میں سے کسی ایک ( گناہ ) کا ارتکاب کیا ہو اور اس پر حد بھی قائم ہو چکی ہو ، تو وہ ( حد کا جاری ہونا ) کفارہ بن جائے گا اور ہم میں سے جو شخص ایسی حالت میں مر جائے کہ اس نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کر لی ہو ، تو اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سیف بن ہارون ہے ، جسے ابونعیم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سیف بن ہارون ہے ، جسے ابونعیم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9857
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ; أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ حَضَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَايِعُ النَّاسَ ، فَجَاءَهُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ ، فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ ، فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسود بن خلف بیان کرتے ہیں : ان کے والد سیدنا اسود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم علی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے ، مرد ، خواتین ، چھوٹے ، بڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ، آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کرتے تھے ، اور گواہی دیتے تھے ۔ محمد بن اسود نے یہ بات بیان کی ہے : وہ اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9858
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَتْ أُمَيْمَةُ بِنْتُ رَقِيقَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ : " أُبَايِعُكِ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكِي بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقِي ، وَلَا تَزْنِي ، وَلَا تَقْتُلِي وَلَدَكِ ، وَلَا تَأْتِي بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِيهِ بَيْنَ يَدَيْكِ وَرِجْلَيْكِ ، وَلَا تَنُوحِي ، وَلَا تَبَرَّجِي تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم سے اس بات کی بیعت کرتا ہوں کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گی ، تم چوری نہیں کرو گی ، تم زنا نہیں کرو گی ، تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ، اور تم اپنی طرف سے ایجاد کیا ہوا ( یعنی جھوٹا ) بہتان نہیں لگاؤ گی ، تم نوحہ نہیں کرو گی اور تم زمانہ جاہلیت کی سی آرائش و زیبائش نہیں کرو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9859
وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ : بَايَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ابْنَتِي الْحُويْصِلَةِ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی بیٹی حویصلہ کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9860
وَعَنْ كَدَنِ بْنِ عَبْدٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْيَمَنِ فَبَايَعْتُهُ ، وَأَسْلَمْتُ عَلَى يَدِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کدن بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9861
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ عَلَيْهَا : ( أَنْ لَا يُشْرِكْنَ وَلَا يَزْنِينَ ) الْآيَةَ ، قَالَتْ : فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً ، فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا رَأَى مِنْهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَقِرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ ، فَوَاللَّهِ مَا بَايَعْنَا إِلَّا عَلَى هَذَا ، قَالَتْ : فَنَعَمْ ، إِذًا فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَوْ غَيْرِهِ عَنْ عُرْوَةَ . وَالْبَزَّارُ لَمْ يَشُكَّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کرنے کے لئے آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بیعت لی کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی ، وہ زنا نہیں کریں گی ( جس کا ذکر پوری آیت میں ہے ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو اس خاتون نے حیاء کی وجہ سے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات اچھی لگی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے خاتون ! تم اقرار کرو ، اللہ کی قسم ہم نے بھی ان امور پر بیعت کی تھی ، تو اس خاتون نے کہا: پھر ٹھیک ہے ، پھر اس نے اس آیت کے حکم کے مطابق بیعت کر لی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ بات معمر نے زہری ، یا شاید ان کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے عروہ سے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس میں کسی شک کا اظہار نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ بات معمر نے زہری ، یا شاید ان کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے عروہ سے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس میں کسی شک کا اظہار نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9862
وَعَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتُبَايِعَهُ ، فَنَظَرَ إِلَى يَدَيْهَا ، فَقَالَ : " اذْهَبِي فَغَيِّرِي يَدَيْكِ " . قَالَ : فَذَهَبَتْ فَغَيَّرَتْهُمَا بِحِنَّاءٍ ، ثُمَّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أُبَايِعُكِ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكِي بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقِي ، وَلَا تَزْنِي " . قَالَتْ : أَوَتَزْنِي الْحُرَّةُ ؟ قَالَ : " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُنَّ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ " . قَالَتْ : وَهَلْ تَرَكَتْ لَنَا أَوْلَادًا نَقْتُلُهُمْ ؟ قَالَ : فَبَايَعَتْهُ ، ثُمَّ قَالَتْ لَهُ ، وَعَلَيْهَا سُوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ : مَا تَقَوُلُ فِي هَذَيْنِ السُّوَارَيْنِ ؟ قَالَ : " جَمْرَتَيْنِ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُنَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : تم جاؤ اور اپنے ہاتھوں ( کی رنگت ) تبدیل کر لو ! وہ خاتون گئی ، اس نے مہندی لگا کر ان کو تبدیل کر لیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم سے یہ بیعت لیتا ہوں کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گی ، تم چوری نہیں کرو گی ، تم زنا نہیں کرو گی ، ہند نے کہا: کیا کوئی آزاد عورت زنا کرتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غربت کے خوف کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ، ہند نے کہا: کیا آپ نے ہماری اولاد چھوڑی ہے ؟ جسے ہم قتل کریں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی ، اس نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : ان کنگنوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جہنم کے انگاروں میں سے ، دو انگارے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9863
وَعَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ - وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ ، وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ - قَالَتْ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا : أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا نَسْرِقَ ، وَلَا نَزْنِيَ ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا ، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيَهُ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا ، وَلَا نَعْصِيَهُ فِي مَعْرُوفٍ . قَالَ : " وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ " . قَالَتْ : فَبَايَعْنَاهُ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا ، فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ : ارْجِعِي فَسَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا ؟ قَالَتْ : فَسَأَلْتُهُ قَالَ : " تَأْخُذُ مَالَهُ فَتُحَابِي بِهِ غَيْرَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سلمی بنت قیس رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ننھیالی عزیزوں میں سے ہیں ، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دونوں قبلوں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ہے ، اُن کا تعلق بنوعدی بن نجار سے ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے انصار کی کچھ خواتین سمیت آپ کی بیعت کی آپ نے ہم پر یہ شرط عائد کی کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی ، ہم چوری نہیں کریں گی ہم زنا نہیں کریں گی ہم اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ہم اپنی طرف سے ایجاد کر کے بہتان نہیں لگائیں گی اور ہم بھلائی کے کام میں ، آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور تم اپنے شوہروں کے ساتھ دھوکہ نہ کرنا ، راوی خاتون کہتی ہیں : ہم نے آپ کی بیعت کر لی جب ہم واپس گئیں ، تو میں نے اُن خواتین میں سے ایک خاتون سے کہا: تم واپس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرو کہ شوہر کو دھوکہ دینے سے مراد کیا ہے ؟ وہ خاتون کہتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : یہ کہ عورت شوہر کا مال لے کر کسی اور کو دیدے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9864
وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ ، فَرَدَدْنَ السَّلَامَ ، فَقَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُنَّ ، فَقُلْنَ : مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقْنَ ، وَلَا تَزْنِينَ ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ ، وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ ، قُلْنَ : نَعَمْ . فَمَدَّ عُمَرُ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَابِ وَمَدَدْنَ هُنَّ أَيْدِيَهُنَّ مِنْ دَاخِلٍ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، وَأَمَرَ أَنْ يَخْرُجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْحُيَّضُ وَالْعُتَّقُ ، وَنُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَا جُمْعَةَ عَلَيْنَا ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبُهْتَانِ ، وَعَنْ قَوْلِهِ : ( وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ) قَالَ : هِيَ النِّيَاحَةُ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع اور اکٹھا کروایا ، پھر آپ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان خواتین کی طرف بھیجا ، وہ دروازے پر کھڑے ہوئے انہوں نے ان خواتین کو سلام کیا ، خواتین نے انہیں جواب دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اللہ کے رسول کا تمہاری طرف نمائندہ ہوں ، ان خواتین نے کہا: اللہ کے رسول کو ، اور اللہ کے رسول کے نمائندے کو خوش آمدید ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گی ، تم چوری نہیں کرو گی ، تم زنا نہیں کرو گی ، تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ، تم اپنی طرف سے ایجاد کر کے بہتان نہیں لگاؤ گی اور تم بھلائی کے بارے میں نافرمانی نہیں کرو گی ، ان خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دروازے کے باہر کی طرف سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ان خواتین نے اندرونی حصے سے اپنا ہاتھ بڑھایا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ عیدین کے موقع پر ، حیض والی خواتین اور آزاد عورتیں ( یا لڑکیاں ) بھی نکلیں گی ، تاہم ہمیں ( یعنی خواتین کو ) جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا ، اور ہم پر جمعہ بھی لازم قرار نہیں دیا گیا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے بہتان کے بارے میں دریافت کیا ، اور اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ، کہ وہ بھلائی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی ، تو انہوں نے جواب دیا : اس سے مراد نوحہ کرنا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے یہ روایت انتہائی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9865
وَعَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ ، قَالَتْ : أَنَا مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ الْخُزَاعِيَّةِ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَايِعُ النِّسْوَةَ ، وَيَقُولُ : " أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقْنَ ، وَلَا تَزْنِينَ ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ ، وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ " . قُلْنَ : نَعَمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْنَ : نَعَمْ . فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ " . فَكُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُلْنَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ " . وَقَالَ : " قُلْنَ : نَعَمْ ، فِيمَا اسْتَطَعْنَهُ " . قُلْنَ : نَعَمْ ، فِيمَا اسْتَطَعْنَا . وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اپنی والدہ سیدہ رائطہ بنت سفیان خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین سے بیعت لے رہے تھے ، اور یہ فرما رہے تھے : میں اس بات پر تم سے بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی ، تم چوری نہیں کرو گی ، تم زنا نہیں کرو گی ، تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ، تم اپنی طرف سے ایجاد کر کے بہتان نہیں لگاؤ گی ، اور تم بھلائی کے بارے میں نافرمانی نہیں کرو گی ، اُن خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تم سے ہو سکے ، راوی خاتون کہتی ہیں : تو میں نے بھی اُسی طرح کے کلمات کہے ، جس طرح کے کلمات اُن خواتین نے کہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم شرک نہیں کرو گی ۔ اور راوی نے یہ کہا: ہے : اُن خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک تمہاری استطاعت ہو ، تو ان خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، جہاں تک ہماری استطاعت ہوئی ( ہم اس پر عمل کریں گی ) ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان بن ابراہیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم شرک نہیں کرو گی ۔ اور راوی نے یہ کہا: ہے : اُن خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک تمہاری استطاعت ہو ، تو ان خواتین نے کہا: ٹھیک ہے ، جہاں تک ہماری استطاعت ہوئی ( ہم اس پر عمل کریں گی ) ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان بن ابراہیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9866
وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ - وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ - قَالَ يَعْقُوبُ : أَخْبَرَتْهُ : بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام العلاء ، رضی اللہ عنہا جو ان لوگوں کے خاندان کی خواتین میں سے ایک ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9867
وَعَنْ عَزَّةَ بِنْتِ خَابِلٍ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهَا عَلَى أَنْ لَا تَزِنِينَ ، وَلَا تَسْرِقِينَ ، وَلَا تَئِدِينَ فَتُبْدِينَ أَوْ تُخْفِينَ ، قُلْتُ : أَمَّا الْوَأْدُ الْمُبْدَى فَقَدْ عَرَفْتُهُ ، وَأَمَّا الْوَأْدُ الْخَفِيُّ فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يُخْبِرْنِي ، وَقَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهُ إِفْسَادُ الْوَلَدِ ، فَوَاللَّهِ لَا أُفْسِدُ لِي وَلَدًا أَبَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مَسْعُودٍ الْكَعْبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْهَا ، وَلَمْ أَعْرِفْ مَسْعُودًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عزہ بن خابل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بیعت لی کہ تم زنا نہیں کرو گی ، تم چوری نہیں کرو گی ، تم ظاہری یا پوشیدہ طور پر زندہ درگور نہیں کرو گی ۔ راوی خاتون کہتی ہیں : جہاں تک ظاہری طور پر زندہ درگور کرنے کا تعلق ہے ، تو اس کا تو مجھے پتہ ہے ، لیکن پوشیدہ طور پر زندہ درگور کرنے کا جہاں تک تعلق ہے ، تو اس بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کیا تھا اور نہ ہی آپ نے مجھے اس بارے میں بتایا ، لیکن میرے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس سے مراد بچے کو ماں کے پیٹ میں ) ضائع کرنا ہے ، اللہ کی قسم ! میں اپنے بچے کو کبھی خراب نہیں کروں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر اس کی مانند نقل کی ہے ، عطاء بن مسعود کعبی کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ، اس خاتون سے منقول ہے ، میں مسعود نامی راوی سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر اس کی مانند نقل کی ہے ، عطاء بن مسعود کعبی کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ، اس خاتون سے منقول ہے ، میں مسعود نامی راوی سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9868
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ ذَهَبَ بِهَا وَبِأُخْتِهَا هِنْدٍ يُبَايِعَانِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا اشْتَرَطَ عَلَيْهِنَّ قَالَتْ هِنْدٌ : أَوَتَعْلَمُ فِي نِسَاءِ قَوْمِكَ مِنْ هَذِهِ الْهِنَةِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ أَبُو حُذَيْفَةَ : بَايَعَتْهُ فَهَكَذَا يَشْتَرِطُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ انہیں اور ان کی بہن ہند کو ساتھ لے کر گئے تاکہ وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر شرائط عائد کیں ، تو ہند نے کہا: کیا آپ اپنی قوم کی خواتین میں سے کسی کے بارے میں جانتے ہیں کہ اس نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ؟ تو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان کی بیعت کر لو ! وہ اسی طرح شرط عائد کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ متروک ہے ، حجاج بن شاعر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ متروک ہے ، حجاج بن شاعر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9869
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : أَنَا مِنَ النِّسْوَةِ اللَّاتِي أَخَذَ عَلَيْهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : وَكُنْتُ جَارِيَةً نَاهِدًا جَرِيئَةً عَلَى مَسْأَلَتِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُصَافِحَكَ فَقَالَ : " إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِنَّ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ان خواتین میں سے ایک ہوں ، جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی تھی ، راوی خاتون کہتی ہیں : میں کم عمر لڑکی تھی اور آپ سے سوال کرنے کے بارے میں جرات رکھتی تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا ہاتھ آگے کیجئے ! تاکہ میں آپ کے ساتھ مصافحہ کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا ہوں ، میں ان سے وہ عہد لیتا ہوں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لینا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9870
وَعَنْ عَقِيلَةَ بِنْتِ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَتْ : جِئْتُ أَنَا وَأُمِّي قَرِيرَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْعِتْوَارِيَّةُ فِي نِسَاءٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ ، فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ضَارِبٌ عَلَيْهِ قُبَّةً بِالْأَبْطَحِ ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا الْآيَةَ كُلَّهَا فَلَمَّا أَقْرَرْنَا وَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا ، لِنُبَايِعَهُ ، قَالَ : " إِنِّي لَا أُمْسِكُ أَيْدِي النِّسَاءِ " . فَاسْتَغْفَرَ لَنَا وَكَانَتْ تِلْكَ بَيْعَتَنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده عقیلہ بنت عتیک بن حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اور میری والدہ قریرہ بنت حارث عتواریہ ، مہاجر خواتین کے ساتھ آئمیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے میدان میں خیمہ لگایا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بیعت لی کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی ، اس آیت میں جن چیزوں کا ذکر ہے ، ان سب کے حوالے سے بیعت لی ، جب ہم نے اس کا اقرار کر لیا ، تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے ، تاکہ آپ کی بیعت کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں خواتین کا ہاتھ نہیں پکڑتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے دعائے مغفرت کی ، تو یہ ہماری بیعت تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9871
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَافِحُ النِّسَاءَ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَتَّابُ بْنُ حَرْبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے کے نیچے سے خواتین کے ساتھ بیعت کرتے تھے ۔ ( یعنی آپ کے اور خواتین کے درمیان کپڑا حائل ہوتا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عتاب بن حرب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عتاب بن حرب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9872
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَهُ الْمَاءُ ، فَإِذَا بَايَعَ النِّسَاءَ غَمَسْنَ أَيْدِيَهُنَّ فِي الْمَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرَيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی موجود ہوتا تھا ، جب خواتین سے آپ بیعت لیتے تھے ، تو خواتین اپنا ہاتھ پانی میں ڈبو دیتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حکیم ابوبکر داہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حکیم ابوبکر داہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9873
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَمَّا بَايَعَ النِّسَاءَ : " لَا يَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى " . قَالَتِ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَاكَ تَشْتَرِطُ عَلَيْنَا أَنْ لَا نَتَبَرَّجَ ، وَأَنَّ فُلَانَةَ قَدْ أَسْعَدَتْنِي ، وَقَدْ مَاتَ أَخُوهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبِي فَأَسْعِدِيهَا ثُمَّ تَعَالَيْ فَبَايِعِينِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ شَرِيكٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خواتین سے بیعت لیتے تھے ، تو یہ فرماتے تھے : وہ زمانہ جاہلیت کی سی آرائش و زیبائش نہیں کریں گی ، ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ نے ہم پر یہ شرط عائد کی ہے کہ ہم اظہار زینت نہیں کریں گی ، فلاں عورت نے میرا ساتھ دیا تھا ، اب اُس کا بھائی فوت ہو گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور تم اس کا ساتھ دے دو ، پھر آ کر میری بیعت کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن شریک ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن شریک ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9874
وَعَنْ أَبِي نَصْرٍ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْتَحِنُ النِّسَاءَ ؟ قَالَ : كَانَ إِذَا أَتَتْهُ الْمَرْأَةُ لِتُسْلِمَ ، أَحْلَفَهَا بِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ لِبُغْضِ زَوْجِهَا ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ لِاكْتِسَابِ دُنْيَا ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ إِلَّا حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
ابونصر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کا امتحان کیسے لیتے تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : جب کوئی خاتون اسلام قبول کرنے کے لئے آپ کے پاس آتی تھی ، تو آپ اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ اپنے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے نہیں نکلی ہے ، اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ دنیاوی فائدے کے حصول کے لئے نہیں نکلی ہے اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف منتقل ہونے کے لئے نہیں نکلی ہے ، اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی خاطر نکلی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔