کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس اناج کا بیان جو دشمن کی سرزمین سے حاصل ہوتا ہے
عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ بِالْجِعْرَانَةِ : " عَشَرَةٌ مُبَاحَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ فِي مَغَازِيهِمُ ؛ الْعَسَلُ وَالْمَاءُ وَالزَّبِيبُ وَالْخَلُّ وَالْمِلْحُ وَالتُّرَابُ وَالْحَجَرُ وَالْعُوَدَةُ مَا لَمْ تَنْحِتْ وَالْجِلْدُ الطَّرِيُّ وَالطَّعَامُ يُخْرَجُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو سَلَمَةَ الْعَامِلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ کے مقام پر ارشاد فرمایا : ” جنگ کے دوران دس چیزیں مسلمانوں کے لئے مباح ہیں ، شہد ، پانی ، کشمش ، سرکہ ، نمک ، مٹی ، پتھر اور لکڑی ، جبکہ وہ چھیلی ( یا تراشی ) ہوئی نہ ہو ، تازہ چھڑا ، اور جو اناج وہاں سے نکلتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسلمہ عاملی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسلمہ عاملی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ فَفَتَحْنَا الْأُبُلَّةَ ، فَإِذَا سَفِينَةٌ فِيهَا جَوْزٌ فَقُلْنَا : مَا رَأَيْنَا حِجَارَةً أَشَدَّ اسْتِوَاءً مِنْ هَذِهِ فَأَخَذَ جَوْزَةً فَكَسَرَهَا فَأَكَلَهَا فَقَالَ : هَذَا دَسَمٌ فَجَعَلْنَا نَكْسِرُ فَنَأْكُلُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن عمیر بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ غزوہ میں شرکت کی ہم نے ” ابلہ “ ( نامی شہر ) فتح کر لیا ، وہاں ایک کشتی موجود تھی ، جس میں اخروٹ تھے ، ہم نے کہا: ہم نے ایسا کوئی پتھر نہیں دیکھا ، جو اس سے زیادہ سیدھا ہو ، تو انہوں نے ایک اخروٹ لے کر توڑا اور اسے کھا لیا اور فرمایا : یہ چکنائی والا ہے ، تو ہم نے بھی وہ توڑ کر کھانے شروع کر دیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صیح کے جال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صیح کے جال ہیں ۔