مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّعَامِ يُصَابُ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ . باب: اس اناج کا بیان جو دشمن کی سرزمین سے حاصل ہوتا ہے
حدیث نمبر: 9724
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ فَفَتَحْنَا الْأُبُلَّةَ ، فَإِذَا سَفِينَةٌ فِيهَا جَوْزٌ فَقُلْنَا : مَا رَأَيْنَا حِجَارَةً أَشَدَّ اسْتِوَاءً مِنْ هَذِهِ فَأَخَذَ جَوْزَةً فَكَسَرَهَا فَأَكَلَهَا فَقَالَ : هَذَا دَسَمٌ فَجَعَلْنَا نَكْسِرُ فَنَأْكُلُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
خالد بن عمیر بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ غزوہ میں شرکت کی ہم نے ” ابلہ “ ( نامی شہر ) فتح کر لیا ، وہاں ایک کشتی موجود تھی ، جس میں اخروٹ تھے ، ہم نے کہا: ہم نے ایسا کوئی پتھر نہیں دیکھا ، جو اس سے زیادہ سیدھا ہو ، تو انہوں نے ایک اخروٹ لے کر توڑا اور اسے کھا لیا اور فرمایا : یہ چکنائی والا ہے ، تو ہم نے بھی وہ توڑ کر کھانے شروع کر دیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صیح کے جال ہیں ۔