کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: مقتول کا سر اٹھا کر لانا
❮
❯
عَنْ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْسِ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيِّ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسود عنسی کا سر لے کر آیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9693
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 9032»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا حُمِلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسٌ قَطُّ [ وَلَا يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى الْمَدِينَةِ ] .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا فِي مَوَاضِعِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی کوئی سر اٹھا کر نہیں لایا گیا غزوہ بدر کے دن بھی ایسا نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے اس نوعیت کی دیگر احادیث اس سے متعلقہ جگہ پر آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9694
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (13143) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13143»