حدیث نمبر: 9695
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُرَّ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَهُ فَقَالَ : " دَعُوهُ وَسَلَبَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِمَعْنَاهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَتَّابِ بْنِ زِيَادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو ایک ایسے فرد کے پاس موجود تھے جسے انہوں نے قتل کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اور اس کے سامان کو چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس مضمون کی روایت نقل کی ہے ۔ امام أحمد اور معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عتاب بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس مضمون کی روایت نقل کی ہے ۔ امام أحمد اور معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عتاب بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9696
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ جَرِيرًا بَارَزَ مِهْرَانَ فَقَتَلَهُ، فَقُوِّمَتْ مِنْطَقَتُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، وَكَانَ مَنْ بَارَزَ رَجُلًا فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ : لَيْسَ هَذَا مِنَ السَّلَبِ الَّذِي يُعْطَى لَيْسَ مِنَ السِّلَاحِ وَلَا مِنَ الْكُرَاعِ ، وَلَمْ يَنْفُلْهُ وَجَعَلَهُ مَغْنَمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ جَرِيرٍ فَهُوَ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا جبریر رضی اللہ عنہ نے مہران کو مقابلے کے لئے للکارا اور اسے قتل کر دیا ، تو اس کے پٹکے کی قیمت تیس ہزار تھی پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص کسی شخص کو مقابلے کے لئے للکارتا تھا ، اور اسے قتل کر دیتا تھا ، تو مقتول کا سامان اسے مل جاتا تھا لوگوں نے اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اس سامان میں سے نہیں ہے ، جو ( قتل کرنے والے مسلمان ) کو دے دیا جاتا ہے ، کیونکہ یہ چیز نہ ہتھیار میں شامل ہے نہ ” کراع “ ( یہ لفظ ہتھیاروں اور گھوڑوں دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ) میں شامل ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انعام کے طور پر وہ انہیں نہیں دیا بلکہ اسے مال غنیمت میں شامل کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ بھی نہیں کہا: کہ یہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تو
یہ روایت منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ بھی نہیں کہا: کہ یہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تو
یہ روایت منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 9697
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ : نَزَلْنَا دَابِقَ وَعَلَيْنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَبَلَغَ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَنَّ صَاحِبَ قُبْرُسَ خَرَجَ يُرِيدُ بِطْرِيقَ أَذْرَبِيجَانَ وَمَعَهُ زُمُرُّدٌ وَيَاقُوتٌ وَلُؤْلُؤٌ وَذَهَبٌ وَدِيبَاجٌ فَخَرَجَ فِي خَيْلٍ فَقَتَلَهُ وَجَاءَ بِمَا مَعَهُ فَأَرَادَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَنْ يُخَمِّسَهُ فَقَالَ حَبِيبٌ : لَا تَحْرِمْنِي رِزْقًا رَزَقَنِيهِ اللَّهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ السَّلَبَ لِلْقَاتِلِ . فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا حَبِيبُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا لِلْمَرْءِ مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُ إِمَامِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
جنادہ بن ابوامیہ بیان کرتے ہیں : ہم نے دابق کے مقام پر پڑاؤ کیا سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے حبیب بن مسلمہ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ قبرس کا حکمران نکلا ہے اور وہ آذربائی جان کے راستے کی طرف جا رہا ہے اس کے ساتھ زمرد یاقوت موتی سونا اور ریشم ہے ، تو حبیب بن مسلمہ کچھ گھڑ سواروں کے ساتھ نکلے انہوں نے اسے قتل کر دیا اور جو کچھ اس کے ساتھ ساز و سامان تھا وہ لے آئے ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ انہیں خمس دیں ، تو سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ آپ مجھے اس رزق سے محروم نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مقتول کا ) ساز و سامان قاتل کو دینے کا حکم دیا ہے ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حبیب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی کے لئے وہی چیز ہو گی جو اس کا حکمران خوش دلی سے اسے دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9698
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : بَارَزَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكَ أَخُو أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْزُبَانَ الزَّارَةِ فَقَتَلَهُ فَأَخَذَ سَلَبَهُ فَبَلَغَ سَلَبُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا [ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فََقَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ : إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلْبَ ، وَإِنَّ سَلْبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا كَثِيرًا ، فَمَا أَرَانَا إِلَّا خَامِسِيهِ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں انہوں نے مرزبان زارہ کو مقابلے کے لئے للکارا اور اسے قتل کر دیا اور اس کا سامان حاصل کر لیا ، تو اس کے سامان کی قیمت تیس ہزار تک پہنچتی تھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ہم سلب ( یعنی مقتول کے سامان ) کو خمس میں شمار نہیں کرتے تھے براء کا حاصل کیا ہوا سامان بہت زیادہ مال تک پہنچتا ہے ، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسے پانچواں حصہ ملنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9699
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَارَزَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَجُلًا يَوْمَ مُؤْتَةَ ، فَقَتَلَهُ فَنَفَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَاتَمَهُ وَسَلَبَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنگی موتہ کے دن سیدنا عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو لڑائی کے لئے للکارا اور اسے قتل کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( مقتول ) شخص کی انگوٹھی اور اس کا ساز و سامان سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9700
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : انْتَهَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى أَبِي جَهْلِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ رَقِيدٌ فَاسْتَلَّ سَيْفَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فَنَدَرَ رَأْسَهُ ثُمَّ أَخَذَ سَلَبَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فَاسْتَحْلَفَهُ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَحَلَفَ فَجَعَلَ لَهُ سَلَبَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَالَ أَحْمَدُ : يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے دن ابوجہل کے پاس آئے وہ اس وقت زخمی حالت میں پڑا ہوا تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی اور اس کی گردن اڑا دی اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا پھر انہوں نے ابوجہل کا سامان لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ کو اس بارے میں بتایا کہ انہوں نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کے نام پر تین مرتبہ حلف لیا انہوں نے حلف اٹھا لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا سامان انہیں دے دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابواسحاق ابواسرائیل ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابواسحاق ابواسرائیل ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 9701
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ وَأَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ فَلَقِينَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ ، فَبَرَزَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ فَقَتَلَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَنَفَلَهُ سَلَبَهُ فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَةُ هُرْمُزَ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ ، وَكَانَتِ الْفُرْسُ إِذَا شَرُفَ رَجُلٌ جَعَلُوا قَلَنْسُوَتَهُ بِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
خریم بن اوس بیان کرتے ہیں : میرے نزدیک عربوں کا ہرمز سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو ہم نے بصرہ کی طرف رخ کیا کاظمہ کے مقام پر ہمارا سامنا ہرمز سے ہوا جس کے ساتھ بڑا لشکر تھا ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے نکلے اور مقابلے کے لئے للکارا تو ہرمز ان کے سامنے مقابلہ کرنے کے لئے آیا سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہرمز کا ساز و سامان سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دے دیا ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی ایرانیوں کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی شخص ان کا حکمران بنتا تھا ، تو اس کی ٹوپی ایک لاکھ درہم کی بناتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9702
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَمْرَ بْنَ مَعْدِ يَكْرِبَ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ وَهُوَ يُحَرِّضُ النَّاسَ عَلَى الْقِتَالِ وَهُوَ يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ كُونُوا أُسْدًا أَشِدَّاءَ عَنَّا نُشَّابَةً ، إِنَّمَا الْفَارِسِيُّ تَيْسٌ إِذَا لَقِيَ نَيْزَكَهُ . ¤ قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا أُسْوَارٌ مِنْ أَسَاوِرَةِ الْفُرْسِ قَدْ بَرَى لَهُ نُشَّابَةً فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا ثَوْرٍ إِنَّ هَذَا قَدْ بَرَى لَكَ بِنُشَّابِهِ قَالَ : فَرَمَاهُ فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ سِنَّةَ قَوْسِ عَمْرٍو فَكَسَرَهَا فَحَمَلَ عَلَيْهِ عَمْرٌو فَطَعَنَهُ فَدَقَّ صُلْبَهُ فَنَزَلَ إِلَيْهِ وَأَخَذَ سُوَارَيْنِ كَانَا عَلَيْهِ وَيَلْمَقًا مِنْ دِيبَاجٍ قَالَ : فَسَلِمَ ذَلِكَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : جنگ قادسیہ کے موقع پر میں نے سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو جنگ کے لئے ترغیب دے رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! ( دشمن سے ) بھڑ جانے والے زبردست شیروں کی طرح ہو جاؤ ، ایرانی شخص نر ہوتا ہے ، جب وہ اپنے چھوٹے نیزے سے ملتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی وہ اسی حالت میں تھے کہ ایرانیوں کے قائدین میں سے ایک قائد نے ان کے لئے اپنا ترکش نکالا ، ان سے کہا: گیا : اے ابوثور ! اس شخص نے آپ کے لئے ترکش نکال لیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس شخص نے انہیں تیر مارا ، وہ نشانے پر نہیں لگا ، بلکہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی کمان پر لگا ، اور اسے توڑ دیا پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے زخمی کیا اور اس کی پشت کو توڑ دیا ، پھر وہ اتر کر اس کے پاس گئے ، اور اس نے جو کنگن پہنے ہوئے تھے وہ لے لیے ، اور جو ریشمی یلمق ( یعنی قباء ) پہنا ہوا تھا ، وہ بھی لے لیا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ چیزیں انہیں مل گئی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔