کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین اور دیگر کو قتل کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 9601
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَعَثَهُ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِخَيْبَرَ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَيَأْتِي حَدِيثُ الطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ، ابن ابوالحقیق کی طرف خیبر بھیجا تو آپ نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی کی روایت بھی آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9601
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (75/19)»
حدیث نمبر: 9602
وَعَنْ أَيُّوبَ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً كَنْتُ فِيهَا فَنَهَانَا أَنْ نَقْتُلَ الْعُسَفَاءَ وَالْوُصَفَاءَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ایوب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی قوم میں سے ایک شخص کو اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی جس میں ، میں بھی موجود تھا اس میں آپ نے اس بات سے منع کیا کہ ہم مزدوروں ( یا انتہائی بوڑھے افراد ) اور غلاموں کو قتل کریں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (413/3)»
حدیث نمبر: 9603
وَعَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ - فَقَالَ : " اقْتُلُوهُمْ مَعَهُمْ " . ¤ قَالَ : وَقَدْ نَهَى عَنْهُمْ يَوْمَ خَيْبَرَ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ السَّرِيَّةِ تُصِيبُ الذُّرِّيَّةَ فِي غَشْمِ الْغَارَةِ . ¤ وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے آپ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا تھا : آپ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے ساتھ انہیں بھی قتل کر دو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر اس سے منع کر دیا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی جنگی مہم کے بارے میں دریافت کیا تھا ، جو بھرپور حملے کے دوران بچوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں ۔ ” مسند “ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9603
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7451)»
حدیث نمبر: 9604
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالٍ أَحَدُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «الطبراني فى المعجم الكبير (74/19)»
حدیث نمبر: 9605
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ امْرَأَةً وَسَبَاهَا ، فَنَازَعَتْهُ قَائِمَ سَيْفِهِ فَقَتَلَهَا فَمَرَّ عَلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخْبِرَ بِأَمْرِهَا فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِامْرَأَةٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَقْتُولَةٍ فَقَالَ : " مَنْ قَتَلَ هَذِهِ ؟ " قَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " لِمَ ؟ " . قَالَ : نَازَعَتْنِي سَيْفِي . فَسَكَتَ . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے ایک عورت کو پکڑا اور اسے قیدی بنا لیا اس عورت نے اس کی تلوار کے قائم کے بارے میں اس سے جھگڑا کیا ، تو اس شخص نے اس عورت کو قتل کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس عورت کی میت کے پاس سے ہوا آپ کو اس معاملے کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے خواتین کو قتل کرنے سے منع کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر غزوہ خندق کے موقع پر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا تو آپ نے دریافت کیا : اسے کس نے قتل کیا ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیوں ؟ اس نے عرض کی : یہ میری تلوار چھیننا چاہ رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12083) اخرجه احمد فى المسند (2316)»
حدیث نمبر: 9606
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقْتُلُوا النِّسَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَمِرَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم عورتوں کو قتل نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن نمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9606
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1678)»
حدیث نمبر: 9607
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَعَثَهُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ لِقَتْلِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ وَهُوَ بِخَيْبَرَ : نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ مُصَفَّى ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ابن ابوحقیق کو قتل کرنے کے لئے بھیجا جو خیبر میں موجود تھا ، تو آپ نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن مصفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10893)»
حدیث نمبر: 9608
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : خَيْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَقَعَتْ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلُوهُمْ وَقَتَلُوا أَبْنَاءَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُمْ مَعَ آبَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا میں نے عرض کی : مسلمانوں کے شہسوار کسی قوم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور انہیں اور ان کے بچوں کو قتل کر دیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ) ( بچے ) اپنے آباء و اجداد کے ساتھ ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9608
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9609
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9609
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1979)»
حدیث نمبر: 9610
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَزَوْتُ مَعَهُ فَأَصَبْتُ ظَفَرًا ، وَقُتِلَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ، حَتَّى قَتَلُوا الْوِلْدَانَ - وَقَالَ مَرَّةً : " الذُّرِّيَّةَ " - فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ ؟ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً ، أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً ، أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً ، فَإِنَّ كُلَّ نَسْمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا ، فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ يُنَصِّرَانِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ كَذَلِكَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ جَاوَزَ بِهِمُ الْقَتْلُ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَبَعْضُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَرِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا مجھے ایک ظفر ( شاید چھری مراد ہے ) ملا ، اس دن لوگ قتل ہوئے تھے ، یہاں تک کہ لوگوں نے ( دشمن کے ) بچوں کو بھی قتل کر دیا ( یہاں عربی کے لفظ کے بارے میں ، راوی کو شک ہے ) ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو مشرکین کے بچے تھے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بہترین لوگ بھی مشرکین کے بچے ہیں پھر آپ نے فرمایا : خبردار تم بچوں کو قتل نہ کرو خبردار تم بچوں کو قتل نہ کرو خبردار تم بچوں کو قتل نہ کرو ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے ، یہاں تک کہ وہ بولنے کے قابل ہو جائے تو اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس طرح نقل کی ہے اور انہوں نے نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے قتل کے معاملے میں حد سے تجاوز کیا یہاں تک کہ بچوں کو بھی قتل کر دیا ؟ تو ایک صاحب نے عرض کی : اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ۔ امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9610
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (942) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (829) اخرجه أحمد فى المسند (435/3)»
حدیث نمبر: 9611
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَعَثَ جُيُوشَهُ قَالَ : " اخْرُجُوا بِسْمِ اللَّهِ ، تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، لَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : " وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَلَا امْرَأَةً وَلَا شَيْخًا " . ¤ وَفِي رِجَالِ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے لشکر روانہ کرتے تھے تو یہ فرماتے تھے : اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ ، اور ان لوگوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جنگ کرو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ہے تم عہد شکنی نہ کرو تم مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرو کسی کا مثلہ نہ کرو بچوں کو قتل نہ کرو ، اور نہ ہی عبادت گزار لوگوں کو قتل کرو ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم کسی بچے یا عورت یا بوڑھے آدمی کو قتل نہ کرو“ ۔ امام بزار کے رجال میں سے ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ نامی ایک راوی ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ امام بزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9611
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1677) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2549) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11562) اخرجه احمد فى المسند (2728)»
حدیث نمبر: 9612
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا أَوْ أَحْرَقَ نَخْلًا أَوْ قَطَعَ شَجَرَةً مُثْمِرَةً أَوْ ذَبَحَ شَاةً لِإِهَابِهَا لَمْ يَرْجِعْ كَفَافًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ فِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کمسن بچے یا بڑی عمر کے فرد کو قتل کر دے یا کھجور کا درخت جلا دے یا کوئی پھل والا درخت کاٹ دے یا کسی بکری کو اس کی کھال حاصل کرنے کے لئے ذبح کر لے تو وہ برابری کی بنیاد پر واپس نہیں آتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9612
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (276/5)»
حدیث نمبر: 9613
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ، لَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْكَبِيرِ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی جنگی مہم روانہ کرتے تھے ، تو یہ ارشاد فرماتے تھے : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اللہ تعالیٰ کے رسول کے دین پر ( رہتے ہوئے اس جنگ میں حصہ لو ) تم خیانت نہ کرنا عہد شکنی نہ کرنا مثلہ نہ کرنا بچوں کو قتل نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں معجم کبیر میں اس کا اور طریق ہے ، جو ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9613
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ بقیہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (115) اخرجه ابو يعلى فى المسند (7505) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (749) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2305 و 2304)»
حدیث نمبر: 9614
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً قَالَ : " اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ وَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَغُلُّوا [ وَلَا تَغْدِرُوا ] وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا [ وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا ] " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْمُرِّيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی جنگی مہم روانہ کرتے تھے تو یہ فرماتے تھے : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جنگ میں حصہ لو ، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ لڑائی کرو تم مثلہ نہ کرنا خیانت نہ کرنا عہد شکنی نہ کرنا کسی بچے یا عمر رسیدہ بوڑھے کو قتل نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عثمان بن سعید مری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (514) أخرجه البزار فى المسند (1674)»
حدیث نمبر: 9615
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَ فَتًى مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَقَالَ : سَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَاشِرَ عَشَرَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةُ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ وَأَنَا ، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " . قَالَ : أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا وَأَكْثَرُهُمْ لَهُ اسْتِعْدَادًا قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ بِهِمْ - أَوْ قَالَ : يَنْزِلَ بِهِ - أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ " . ثُمَّ سَكَتَ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا ظَهَرَ فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ فِي أَسْلَافِهِمْ ، وَلَا نَقَصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا ، وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ وَعَهْدَ رَسُولِهِ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَأَخَذَ بَعْضَ مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَإِذَا لَمْ يَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَتَجَهَّزُ لِسَرِيَّةٍ أَمَّرَهُ عَلَيْهَا ، فَأَصْبَحَ قَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَقَضَهَا وَعَمَّمَهُ وَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاعْتَمَّ فَإِنَّهُ أَعْرَبُ وَأَحْسَنُ " . ثُمَّ أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ : " اغْزُوا جَمِيعًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، لَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا " . ¤ فَهَذَا عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُنَّتُهُ فِيكُمْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان آیا اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا مجھ سمیت دس افراد تھے ہم لوگ مسجد نبوی میں تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے ( راوی کہتے ہیں : ایک اور صاحب کا انہوں نے نام لیا تھا ) اور میں تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر وہ بیٹھ گیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل ایمان میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اس نے عرض کی : اہل ایمان میں کون زیادہ سمجھدار ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو موت کو کثرت سے یاد رکھے اور اس کے نازل ہونے سے پہلے اس کی بکثرت تیاری رکھے یہی لوگ سمجھدار ہیں پھر آپ خاموش ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : جب بھی کسی قوم میں فحاشی ظاہر ہوتی ہے ، تو ان کے درمیان طاعون اور مختلف قسم کی ایسی بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں ، جو ان سے پہلے لوگوں میں نہیں تھیں اور جب بھی کوئی قوم ماپنے اور وزن کرنے میں کمی کرتی ہے ، تو انہیں قحط سالی گرفت میں لے لیتی ہے حالات میں سختی آ جاتی ہے حکمرانوں کا ظلم ان پر ہونے لگتا ہے اور جو لوگ اپنے اموال کی زکوۃ نہیں دیتے ہیں ان پر آسمان سے بارش نازل نہیں ہوتی ، یہاں تک کہ اگر جانور نہ ہوں ، تو ان پر بارش ہی نازل نہ ہو اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نام کے عہد یا اس کے رسول کے نام کے عہد کو توڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دیتا ہے ، یہاں تک کہ وہ ان کی کچھ چیزوں کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور جب کسی قوم کے حکمران اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان مشکل ( یا اختلافات ) ڈال دیتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک جنگی مہم کے لئے تیاری کریں ، جس کا امیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا اگلے دن جب وہ صبح آئے تو انہوں نے سیاہ رنگ کا ، موٹے اونی کپڑے کا عمامہ باندھا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا ان کا عمامہ کھولا انہیں دوبارہ عمامہ باندھا اور پیچھے کی طرف چار انگل کا شملہ چھوڑا پھر آپ نے فرمایا : اے ابن عوف اس طرح عمامہ باندھا کرو ، کیونکہ یہ عربوں کے رواج کے مطابق ہے اور زیادہ اچھا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں جھنڈا دیں ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر یہ فرمایا : تم سب لوگ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لو ، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ جنگ کرو تم خیانت نہ کرنا عہد شکنی نہ کرنا مثلہ نہ کرنا اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا ۔ یہ اللہ کے رسول کا عہد ہے اور تمہارے درمیان ان کی سنت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9615
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1676)»
حدیث نمبر: 9616
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلْمُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَوَّاصُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن میمون خواص ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9616
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9617
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَقَالَ : " هُمَا لِمَنْ غَلَبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : یہ دونوں اسے ملیں گے ، جو غالب آئے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9617
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف