حدیث نمبر: 9597
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - حِينَ قَتَلَ ابْنَ النَّوَّاحَةِ : إِنَّ هَذَا وَابْنَ أُثَالٍ كَانَا أَتَيَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَسُولَيْنِ لِمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . فَقَالَا : نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا " . قَالَ : فَجَرَتِ السُّنَّةُ : أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ . فَأَمَّا ابْنُ أُثَالٍ فَكَفَانَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَمَّا هَذَا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ فِيهِ حَتَّى أَمْكَنَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْهُ [ الْآنَ ] . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى مُطَوَّلًا ، وَإِسْنَادُهُمْ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب ابن نواحہ کو قتل کروایا تو اس وقت انہوں نے یہ فرمایا : یہ اور ابن اثال یہ دونوں مسلیمہ کذاب کے سفیروں کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا : کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو ؟ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ان دونوں نے جواب دیا : ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے کسی وافد ( یعنی سفیر ) کو قتل کروانا ہوتا ، تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑوا دیتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد یہی سنت جاری ہوئی کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا جہاں تک ابن اثال کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اس کے حوالے سے کفایت کر دی ( یعنی وہ موت کا شکار ہو گیا ) جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ( یعنی ابن نواحہ کا تعلق ہے ) تو یہ مسلسل اسی حالت میں رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اب ہمیں اس پر ق ابودے دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ان حضرات کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ان حضرات کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 9598
وَعَنِ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ أَسْقِي فَرَسًا لِي فِي السَّحَرِ فَمَرَرْتُ بِمَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ وَهُمْ يَقُولُونَ : إِنْ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرْتُهُ [ فَبَعَثَ الشُّرْطَةَ فَجَاءُوا بِهِمْ ] فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا ، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ ، وَضَرَبَ عُنُقَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ النَّوَّاحَةِ ، فَقَالُوا : أَخَذْتَ قَوْمًا فِي أَمْرٍ وَاحِدٍ فَقَتَلْتَ بَعْضَهُمْ وَتَرَكْتَ بَعْضَهُمْ ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِمَ عَلَيْهِ هَذَا وَابْنُ أُثَالِ بْنِ حَجَرٍ فَقَالَ : " أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . فَقَالَا : تَشْهَدُ أَنْتَ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَقَتَلْتُكُمَا " فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ مُعَيِزٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي الْحُدُودِ . ¤
محمد محی الدین
ابن معیز سعدی بیان کرتے ہیں : میں سحری کے وقت اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کے لئے نکلا میرا گزر بنوحنیفہ کی مسجد کے پاس سے ہوا وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے مسیلمہ اللہ کا رسول ہے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا انہوں نے سپاہیوں کو بھیجا وہ ان لوگوں کو پکڑ کر لے آئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( ان لوگوں میں سے ) توبہ کروائی ان لوگوں نے توبہ کر لی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( ان لوگوں میں سے ) ابن نواحہ کو قتل کروا دیا لوگوں نے کہا: آپ نے ایک ہی معاملے کی وجہ سے ان سب کو پکڑا تھا ، اور ان میں سے ایک کو قتل کروا دیا اور دوسروں کو چھوڑ دیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا تھا یہ شخص اور ابن اثال بن حجر ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو ان دونوں نے جواب دیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے سچے ( اور حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں اگر میں نے کسی سفیر کو قتل کروانا ہوتا ، تو تم دونوں کو قتل کروا دیتا ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسی وجہ سے میں نے اس شخص کو قتل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابن معیز نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ کتاب الحدود میں آئے گا ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابن معیز نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ کتاب الحدود میں آئے گا ۔
حدیث نمبر: 9599
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَيْ مُسَيْلِمَةَ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا " . ¤ وَكَتَبَ مَعَهُمَا : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ " . ¤ قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ أَشْجَعَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ وَسَمَّاهُ أَبُو دَاوُدَ : سَعْدَ بْنَ طَارِقٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسیلمہ کے دو سفیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ معمول نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا ، تو میں نے تم دونوں کی گردنیں اڑوا دینی تھیں “ ۔ آپ نے ان دونوں کے ہمراہ یہ مکتوب بھیجا : ” یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے اما بعد ! زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کذابوں کا ظہور نہیں ہو گا ، اور وہ سب یہ کہتے ہوں گے کہ وہ نبی ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : اشجع سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ انہوں نے ان سے سماع نہیں کیا امام ابوداؤد نے ان بزرگ کا نام سعد بن طارق بیان کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : اشجع سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ انہوں نے ان سے سماع نہیں کیا امام ابوداؤد نے ان بزرگ کا نام سعد بن طارق بیان کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9600
وَعَنْ وَبْرِ بْنِ مُشْهِرٍ قَالَ : بَعَثَنِي مُسَيْلِمَةُ وَابْنَ شَلْغَافٍ وَابْنَ النَّوَّاحَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمْنَا عَلَيْهِ فَتَقَدَّمَانِي فِي الْكَلَامِ وَكَانَا أَسَنَّ مِنِّي فَتَشَهَّدَا ثُمَّ قَالَا : نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ وَأَنَّ مُسَيْلِمَةَ مِنْ بَعْدِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَقُولُ يَا غُلَامُ ؟ " قُلْتُ : أَشْهَدُ بِمَا شَهِدْتَ بِهِ وَأُكَذِّبُ بِمَا كَذَّبْتَ بِهِ . فَقَالَ : " إِنِّي أَشْهَدُ عَدَدَ تُرَابِ الدَّهْنَاءِ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ كَذَّابٌ " . ثُمَّ قَالَ : " خُذُوهُمَا " . فَأُخِذَا وَأُمِرَ بِهِمَا إِلَى بَيْتِ كَيْسَانَ فَشَفَعَ فِيهِمَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَخَلَّى عَنْهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
وبر بن مشہر بیان کرتے ہیں : مسیلمہ نے مجھے ، ابن شلغاف اور ابن نواحۃ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہم لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے دونوں ساتھیوں نے کلام کرنے میں مجھ سے پہل کی ، کیونکہ وہ دونوں عمر میں مجھ سے بڑے تھے ان دونوں نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ کہا: کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں اور آپ کے بعد مسیلمہ ( نبی ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے ) دریافت کیا : اے لڑکے ! تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں جس کی آپ گواہی دیں اور اس بات کو جھوٹ قرار دیتا ہوں جسے آپ جھوٹ قرار دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں دہناء کی مٹی کی تعداد میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ مسیلمہ کذاب ہے پھر آپ نے فرمایا : تم لوگ ان دونوں کو پکڑ لو ان دونوں کو پکڑ لیا گیا ان دونوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ انہیں بہت کیسان میں رکھا جائے آپ کے اصحاب میں سے ایک نے ان دونوں کی سفارش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔