کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ترکوں اور حبشیوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرنے کی ممانعت جب تک وہ حد سے آگے نہیں بڑھتے
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” حبشیوں کو ان کے حال پر ) رہنے دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھتے ہیں ، کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ حبشہ سے تعلق رکھنے والا دو پتلی پنڈلیوں والا ایک شخص نکالے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ موسیٰ بن جبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ موسیٰ بن جبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ترکوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ حِينَ جَاءَهُ كِتَابُ عَامِلِهِ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِالتُّرْكِ وَهَزَمَهُمْ ، وَكَثْرَةَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ وَكَثْرَةَ مَا غَنِمَ ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يُكْتَبَ إِلَيْهِ : قَدْ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ مِمَّا قَتَلْتَ وَغَنِمْتَ ، فَلَا أَعْلَمَنَّ مَا عُدْتَ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلَا قَاتَلْتَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي . قُلْتُ لَهُ : لِمَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَتَظْهَرَنَّ التُّرْكُ عَلَى الْعَرَبِ حَتَّى تُلْحِقَهَا بِمَنَابِتِ الشِّيحِ وَالْقَيْصُومِ " . ¤ فَأَنَا أَكْرَهُ قِتَالَهُمْ لِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اس دوران ان کے پاس ان کے ایک گورنر کا مکتوب آیا ، جس میں اس نے بتایا : اس نے ترکوں پر حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا ہے اور ان میں سے بکثرت لوگوں کو قتل کر دیا ہے اور بکثرت مال غنیمت حاصل کیا ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر غصے میں آ گئے ، اور انہوں نے یہ کہا: کہ اس کو خط میں لکھا جائے کہ تم نے جو قتل کیا اور جو غنیمت حاصل کی اس کا جو ذکر کیا ہے وہ مجھے سمجھ آ گئی ہے ، لیکن اب مجھے یہ پتہ نہ چلے کہ تم نے اس سے تجاوز کیا ہے تم ان لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہ کرنا جب تک میرا حکم تمہارے پاس نہیں آ جاتا معاویہ بن خدیج کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : اے امیر المؤمنین اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ترک عربوں پر ضرور غالب آ جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ انہیں ” شیح “ ( ایک قسم کی گھاس ) اور قیصوم ( نامی درخت ) کے اُگنے کی جگہ تک ملا دیں گے ، تو میں اس وجہ سے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَسْلُبُ أُمَّتِي [ مُلْكَهُمْ وَ ] مَا خَوَّلَهُمُ اللَّهُ ، بَنُو قَنْطُورَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ترکوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھتے ہیں ، کیونکہ وہ پہلا شخص ( یا پہلے لوگ ) جو میری امت کی حکومت کو سلب کرے گا ، اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا ہوا ہے ( اُس کو سلب کرے گا ) وہ بنوقنطوراء ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَمْلَأُ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ فَيَصْبِرُونَ أُسُدًا لَا يَفِرُّونَ ، يَضْرِبُونَ أَعْنَاقَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي كِتَابِ الْفِتَنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمی لوگوں کو بھر دے گا وہ جم کر صبر کریں گے ، وہ فرار نہیں ہوں گے ، وہ تمہاری گردنیں اُڑائیں گے اور تمہارا مال فے کھائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث کتاب الفتن میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث کتاب الفتن میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔