حدیث نمبر: 9570
عَنْ خُبَيْبِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ غَزْوًا لَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلَمْ نُسْلِمْ فَقُلْنَا : إِنَّا نَسْتَحِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا لَا نَشْهَدُهُ مَعَهُمْ قَالَ : " أَوَأَسْلَمْتُمَا ؟ " قُلْنَا : لَا . قَالَ : " إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ " . قَالَ : فَأَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا مَعَهُ فَقَتَلْتُ رَجُلًا وَضَرَبَنِي ضَرْبَةً فَتَزَوَّجْتُ بِابْنَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَكَانَتْ تَقُولُ : لَا عَدِمْتَ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ فَأَقُولُ : لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاكِ إِلَى النَّارِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک جنگ میں حصہ لینے جا رہے تھے ، میں تھا ، اور میری قوم کا ایک فرد تھا ہم نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ہم نے کہا: ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ ہماری قوم کے افراد جنگ میں شریک ہوں اور ہم ان کے ساتھ اس میں شریک نہ ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم دونوں نے اسلام قبول کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم مشرکین کے خلاف مشرکین کی مدد نہیں لیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اسلام قبول کر لیا اور آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا اس نے مجھے ضرب لگائی تھی اس کے بعد میں نے اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کر لی وہ عورت یہ کہا: کرتی تھی آپ کا واسطہ ایک ایسے شخص سے بڑا تھا ، جس نے آپ کو یہ زخم لگایا تو میں یہ کہتا تھا تمہارا واسطہ ایک ایسے شخص سے پڑا ہے جس نے تمہارے باپ کو جہنم کی طرف جلدی بھیج دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9571
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمَ أُحُدٍ حَتَّى إِذَا جَاوَزَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ فَإِذَا هُوَ بِكَتِيبَةٍ خَشْنَاءَ فَقَالَ : " مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ " قَالُوا : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فِي سِتِّ مِائَةٍ مِنْ مَوَالِيهِ مِنَ الْيَهُودِ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَقَالَ : " وَقَدْ أَسْلَمُوا ؟ " قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مُرُوهُمْ فَلْيَرْجِعُوا فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ فَقَالَ : سَعْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ فَنَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ جب آپ نے ثنیہ الوداع کو پار کیا تو وہاں ایک فوجی دستہ موجود تھا آپ نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ عبداللہ بن ابی ہے ، جو بنو قینقاع کے یہودیوں سے تعلق رکھنے والے اپنے چھ سو موالیوں کے ساتھ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان سے کہو یہ واپس چلے جائیں ، کیونکہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد نہیں لیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن منذر بن ابوحمید ہے جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقاب میں کیا ہے اور یہ کہا: ہے یہ سعد بن ابوحمید ہے ، تو انہوں نے اس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کر دی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن منذر بن ابوحمید ہے جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقاب میں کیا ہے اور یہ کہا: ہے یہ سعد بن ابوحمید ہے ، تو انہوں نے اس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کر دی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔