کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس بات کا بیان کہ بعض اوقات برے لوگوں کے ذریعے اسلام کی تائید ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 9562
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے بھی کرے گا جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (45/5)»
حدیث نمبر: 9563
وَعَنْ مَيْمُونِ بْنِ سُنْبَادَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قِوَامُ أُمَّتِي شِرَارُهَا " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا میمون بن سنباد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اُمت کے نگران ( یعنی حکمران ) اُس کے بدترین لوگ ہوں گے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (86) أخرجه البزار فى المسند (1724) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (353/20)»
حدیث نمبر: 9564
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ ثِقَاتُ الرِّجَالِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے بھی فرمائے گا جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9564
درجۂ حدیث محدثین: وأحد أسانيد البزار ثقات الرجال
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1722 و 1721 و 1720) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط “ (1969)»
حدیث نمبر: 9565
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ سَيُمَتِّعُ هَذَا الدِّينَ بِنَصَارَى مِنْ رَبِيعَةَ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ " مَا تَرَكْتُ أَعْرَابِيًّا إِلَّا قَتَلْتُهُ أَوْ يُسْلِمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقُرَشِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہوتا : ” بے شک اللہ تعالیٰ فرات کے کنارے پر ربیعہ سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں کے ذریعے بھی اس دین کو فائدہ پہنچائے گا “ ۔ تو میں نے ہر دیہاتی کو یا تو قتل کروا دینا تھا یا وہ اسلام قبول کر لیتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عمر قرشی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1723) اخرجه أبو يعلى فى المسند (236)»
حدیث نمبر: 9566
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : نَزَلَتْ سُورَةٌ نَحْوًا مِنْ " بَرَاءَةٌ " فَرُفِعَتْ فَحَفِظْتُ مِنْهَا : إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَيُحَسَّنُ حَدِيثُهُ لِهَذِهِ الشَّوَاهِدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سورت توبہ جتنی ایک سورت نازل ہوئی پھر اسے اٹھا لیا گیا مجھے اس میں سے یہ بات یاد رہ گئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ضعیف ہے ان شواہد کی وجہ سے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9566
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغیرہ
حدیث نمبر: 9567
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِغَيْرِ كَذِبٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے افراد کے ذریعے کرے گا جو اس کے ماننے والوں میں سے نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے البتہ اس میں جھوٹ نہیں پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9568
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، وَضُبِّبَ عَلَيْهِ ، وَلَا يَسْتَحِقُّ التَّضْبِيبَ ; لِأَنَّهُ صَوَابٌ وَقَدْ ذَكَرَ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ أَنَّهُ رَوَى عَمْرٌو عَنْ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قُلْتُ : وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن عمرو بن مقرن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کسی گنہگار شخص کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حالات میں نقل کی ہے اور اس پر تنقید کی ہے ، حالانکہ وہ تنقید کی مستحق نہیں ہے ، کیونکہ یہ درست ہے ، امام مزی نے ابوخالد والبی کے حالات میں یہ بات ذکر کی ہے کہ عمرو نے سیدنا عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ اور سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں ، میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (39/17)»
حدیث نمبر: 9569
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک اللہ تعالیٰ کسی گنہگار شخص کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8963)»